أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ فَاخۡتُلِفَ فِيۡهِ‌ ؕ وَ لَوۡلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ لَـقُضِىَ بَيۡنَهُمۡ‌ ؕ وَاِنَّهُمۡ لَفِىۡ شَكٍّ مِّنۡهُ مُرِيۡبٍ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر آپ کے رب کی طرف سے پہلے ہی ایک بات طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا اور یہ (لوگ) بیشک اس (قرآن) کی طرف سے زبردست شک میں ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر آپ کے رب کی طرف سے پہلے ہی ایک بات طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا اور یہ (لوگ) بیشک اس (قرآن) کی طرف سے زبردست شک میں ہیں اور بیشک آپ کا رب ان میں سے ہر ایک کو (قیامت کے دن) ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور بیشک جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ اس کی خوب خبر رکھنے والا ہے۔ (ھود : ١١١۔ ١١٠) 

توحید و رسالت کا انکار کفار کی پرانی روش ہے

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا تھا کہ کفار مکہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے انکار پر اصرار کر رہے ہیں اور قرآن مجید کی تکذیب پر اصرار کر رہے ہیں اور اس آیت میں یہ بیان فرمایا ہے کہ یہ کافروں کی کوئی نئی روش نہیں ہے بلکہ ہمیشہ سے کفار کا انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ یہی معاملہ رہا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی ایک مثال بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل فرمائی تو ان کی قوم کے لوگوں نے اس میں اختلاف کیا بعض اس پر ایمان لے آئے اور بعض اس کے انکار پر ڈٹے رہے اور مخلوق کا ہمیشہ یہی وتیرہ رہا ہے۔ 

کفار مکہ پر فوراً عذاب نازل نہ کرنے کی وجوہ

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور اگر آپ کے رب کی طرف سے پہلے ہی ایک بات طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا اس ارشاد کے حسب ذیل محامل ہیں :

(١) ہرچند کہ کفار مکہ اپنے عظیم جرم کی وجہ سے اس سزا کے اور ایسے عذاب کے مستحق تھے کہ ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا لیکن اللہ تعالیٰ پہلے یہ فیصلہ کرچکا تھا کہ ان پر دنیا میں عذاب نازل نہیں فرمائے گا اور ان کے عذاب کو قیامت کے دن تک موخر فرمائے گا سو اگر یہ فیصلہ نہ ہوا ہوتا تو ان کا کام تمام ہوچکا ہوتا۔

(٢) اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فیصلہ نہ کرلیا ہوتا کہ اختلاف کرنے والوں کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا تو اس دنیا میں ہی حق پرستوں اور باطل پرستوں کے درمیان امتیاز کردیا جاتا لیکن اللہ تعالیٰ یہ امتیاز قیامت کے دن کرے گا قرآن مجید میں ہے : وامتازو الیوم ایھا المجرمون (یٰسین ٥٩) اے مجرمو ! آج (نیک لوگوں سے) الگ ہو جائو۔

(٣) اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے یہ فیصلہ نہ کرلیا ہو تاکہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہوتے ہوئے کفار مکہ پر عذاب نازل نہیں فرمائے گا تو ان کے جرائم کی وجہ سے اس پر عذاب آچکا ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ یہ فرما چکا ہے۔ وما کان اللہ لیبعذبھم وانت فیھم (الانفال : ٣٣) اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ ان کو اس حال میں عذاب دے کہ آپ ان میں موجود ہوں۔

(٤) اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے یہ مقرر ہوچکا ہے کہ اس کی رحمت اس کے غضب پر سابق اور غالب رہے گی اور اس کا احسان اس کے انتقام پر غالب رہے گا اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا۔ امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے رب تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے اپنے ہاتھ سے اپنے نفس پر لکھ دیا ہے۔ (ازراہ کرم اپنے اوپر لازم کرلیا ہے) کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی۔ (کتاب الاسماء و الصفات ص ٣١٩، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت)

وعد اور وعید کی جامع آیت

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور بیشک آپ کا رب ان میں سے ہر ایک کو (قیامت کے دن) پورا پورا بدلہ دے گا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ جس نے رسول کی تصدیق کی یا جس نے رسول کی تکذیب کی یا جس کو دنیا میں جلدی سزا مل گئی یا جس کی سزا موخر کی گئی وہ سب اس امر میں برابر ہیں کہ ان کو پوری پوری جزا آخرت میں ملے گی مصدقین کو ان کے ایمان اور اطاعت پر ثواب ہوگا اور مکذبین کو ان کے کفر اور معصیت پر عذاب ہوگا سو یہ آیت وعد اور وعید کی جامع ہے پھر اس کی دلیل یہ بیان فرمائی کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ ان کی خوب خبر رکھنے والا ہے جب کہ وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے تو اس کو ہر ایک کی اطاعت اور معصیت کا علم ہے اس لیے اس کو یہ علم ہے کہ کون شخص کس جزا کا مستحق ہے اس لیے وہ کسی کا حق اور اس کی جزا کو ضائع ہونے نہیں دے گا اور وہ ہر شخص کو اس کے کاموں کی پوری پوری جزا دے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 110