أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ يَاۡتِ لَا تَكَلَّمُ نَفۡسٌ اِلَّا بِاِذۡنِهٖ‌ۚ فَمِنۡهُمۡ شَقِىٌّ وَّسَعِيۡدٌ ۞

ترجمہ:

جب وہ دن آئے گا تو کوئی شخص اللہ کی اجازت کے بغیر بات نہیں کرسکے گا بعض ان میں سے بدبخت ہوں گے اور بعض نیک بخت۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب وہ دن آئے گا تو کوئی شخص اللہ کی اجازت کے بغیر بات نہیں کرسکے گا، بعض ان میں سے بدبخت ہوں گے اور بعض نیک بخت۔ (ھود : ١٠٥) 

کیا حشر کے دن لوگوں کا باتیں کرنا مطلقاً ممنوع ہے ؟

یعنی جب وہ سخت مہیب اور ہولناک دن آئے گا جب سب خوف سے کا نپ رہے ہوں گے اور سب پر دہشت طاری ہوگی اس وقت اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی شخص کسی سے بات نہیں کرسکے گا لیکن اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ لوگ اس دن باتیں کریں گے۔ قرآن مجید میں ہے : واقبل بعضھم علی بعض یتساء لون (الصفت : ٢٧) اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں سوال کریں گے۔ یوم تانی کل نفس تجادل عن نفسھا (النحل : ١١١) جس دن ہر شخص اپنی طرف سے بحث کرتا ہوا آئے گا۔ اس اعتراض کا ایک جواب یہ ہے کہ وہ ایسا کلام نہیں کرسکیں گے جس سے وہ اپنی تقصیرات اور معاصی کے ارتکاب کا جواز پیش کرسکیں یا اپنے کفر اور شرک کو برحق ثابت کرسکیں، دوسرا جواب یہ ہے کہ قیامت کا دن بہت طویل ہوگا اور اس کے بہت سے مراحل ہوں گے۔ بعض اوقات میں ان کو بالکل بولنے کی اجازت نہیں ہوگی اور بعض اوقات میں ان کو بات کی اجازت دی جائے گی تو وہ بات کریں گے بعض اوقات میں وہ اپنی طرف سے بحث کریں گے اور بعض اوقات میں ان کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی، ان کے ہاتھ بات کریں گے اور ان کے پیر گواہی دیں گے۔ آیا حشر کے دن لوگ سعید اور شقی میں منحصر ہوں گے یا نہیں ؟ اس آیت میں فرمایا ہے کہ اہل محشر میں بعض لوگ نیک بخت ہوں گے اور بعض لوگ بدبخت ہوں گے اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اہل محشر میں پاگل اور بچے بھی ہوں گے حالانکہ وہ نیک بخت اور بدبخت ان دونوں قسموں سے خارج ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں اہل محشر سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا حساب لیا جائے گا اور جن کا حساب لیا جائے گا وہ بہرحال ان دو قسموں سے خارج نہیں ہوتا۔ اس جگہ یہ سوال بھی ہوتا ہے کہ اہل اعراف کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ جنت میں ہوں گے نہ دوزخ میں، آیا وہ ان دو قسموں میں داخل ہیں یا نہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح پاگل اور بچے ان دو قسموں سے خارج ہیں اسی طرح اہل اعراف بھی ان قسموں سے خارج ہیں۔ اس جگہ ایک اور سوال یہ ہوتا ہے کہ سعید (نیک بخت) وہ ہے جس کا ثواب زیادہ ہو اور شقی (بدبخت) وہ ہے جس کا عذاب زیادہ ہو ان کے علاوہ ایک اور قسم بھی ہے جس کا ثواب اور عذاب دونوں برابر ہیں وہ کس قسم میں داخل ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دو قسموں کا ذکر اس بات کو مستلزم نہیں ہے کہ تیسری قسم کا وجود نہ ہو جس طرح قرآن مجید کی اکثر آیات میں صرف مومن یا کافر کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ اس کو مستلزم نہیں ہے کہ منافقین کی قسم نہ ہو۔ 

لوگوں کے سعید اور شقی ہونے کے متعلق احادیث

اس آیت میں انسانوں کی دو قسمیں بیان کی ہیں : سعید اور شقی اور ان کے متعلق حسب ذیل احایث ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ سچے ہیں اور آپ نے فرمایا : تم میں سے ہر شخص کی تخلیق اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس روز تک جمع ہوتی رہتی ہے پھر وہ (نطفہ) چالیس دن بعد جما ہوا خون ہوجاتا ہے پھر چالیس دن بعد وہ جما ہوا خون گوشت کا ٹکڑا بن جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتہ کو بھیجتا ہے، وہ اس میں روح پھونک دیتا ہے اور اس کو چار چیزیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے : وہ اس کا رزق لکھ دیتا ہے اور اس کی مدت حیات لکھ دیتا ہے اور یہ لکھ دیتا ہے کہ وہ کیا عمل کرے گا اور یہ لکھ دیتا ہے کہ وہ شقی ہے یا سعید ہے، پس اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، تم میں سے ایک شخص اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پر لکھا ہوا (مقدر) غالب آجاتا ہے اور اس کا خاتمہ اہل دوزخ کے عمل پر ہوتا ہے اور وہ دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے اور تم میں سے ایک شخص اہل دوزخ کے عمل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس پر لکھا ہوا غالب آجاتا ہے اور اس کا خاتمہ اہل جنت کے عمل پر ہوتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٣٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٤٣، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٠٨، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٣٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٧٦، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٠٩٣، مسند حمیدی رقم الحدیث : ١٢٦، مسند احمد ج ١ ص ٣٨٢، سنن دارمی رقم الحدیث : ٧٠، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٥١٥٧، المعجم الصغیر رقم الحدیث : ٢٠٠، حلیتہ الاولیاء ج ٧ ص ٣٦٥)

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا : تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانا لکھ دیا گیا ہے کہ وہ جنت میں ہے یا دوزخ میں۔ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ہم اسی پر اعتماد نہ کرلیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، تم عمل کرو، ہر شخص کے لیے اس کا عمل آسان کردیا گیا ہے، پھر آپ نے یہ آیات پڑھیں : فاما من اعطی واتقی وصدق بالحسنی فسنبیسرہ للبسری واما من بخل واسغنی وکذب بالحسنی فسنیسرہ للعسری۔ (اللیل : ١٠۔ ٥) سو جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا اور اللہ سے ڈرا اور نیک بات کی تصدیق کی تو ہم عنقریب اس کے لیے نیک اعمال آسان کردیں گے اور جس نے بخل کیا اور اللہ سے بےپروا رہا اور اس نے نیک بات کی تکذیب کی تو ہم عنقریب اس کے لیے برے اعمال کو آسان کردیں گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٩٤٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٤٧، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٦٩٤، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٣٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٧٨، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٠٧٤، مسند احمد ج ١ ص ٨٢، مسند بزار رقم الحدیث : ٥٨٣، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٣٤، شرح السنہ رقم الحدیث : ٧٢)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ بتلائیے کہ ہم جو عمل کرتے ہیں، کیا یہ اعمال (اللہ تعالیٰ کے لکھنے سے پہلے) ابتداء ہیں یا ان اعمال (کو لکھنے) سے فراغت ہوچکی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ان سے فراغت ہوچکی ہے، یا ابن الخطاب ! اور ہر عمل آسان کیا جاچکا ہے ! جو اہل سعادت ہیں وہ سعادت کے لیے عمل کرت یہیں اور جو اہل شقاوت ہیں وہ شقاوت کے لیے عمل کرتے ہیں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٣٥، مسند احمد ج ٢ ص ٥٢، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٥٤٦٣)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس حال میں ہمارے پاس تشریف لائے کہ آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیسی دو کتابیں ہیں ؟ ہم نے عرض کیا : نہیں یا رسول اللہ ! ہاں اگر آپ بتادیں آپ نے اس کتاب کے متعلق فرمایا جو آپ کے دائیں ہاتھ میں تھی، یہ رب العالمین کی طرف سے کتاب ہے، اس میں تمام جنتیوں کے نام ہیں اور ان کے باپ دادا کے نام ہیں اور ان کے قبیلوں کے، پھر اس کے آخر میں کل تعداد لکھ دی گئی ہے اس میں کمی ہوگی نہ زیادتی، پھر اس کتاب کے متعلق فرمایا جو آپ کے بائیں ہاتھ میں تھی، یہ رب العالمین کی طرف سے کتاب ہے، اس میں دوزخیوں کے نام ہیں اور ان کے باپ دادا کے نام ہیں اور ان کے قبیلوں کے، پھر اس کے آخر میں کل تعداد لکھ دی گئی ہے، اس میں کمی ہوگی نہ زیادتی۔ آپ کے اصحاب نے کہا : یا رسول اللہ ! جب سب کچھ لکھ کر فراغت ہوچکی ہے تو پھر ہم عمل کس لیے کریںؔ آپ نے فرمایا : نیک عمل کرو اور نیکی کے قریب رہو کیونکہ جنتی کا خاتمہ اہل جنت کے اعمال پر کیا جاتا ہے خواہ اس نے (زندگی بھر) کیسے ہی عمل کیے ہوں اور دوزخی کا خاتمہ اہل دوزخ کے اعمال پر کیا جاتا ہے خواہ اس نے (زندگی بھر) کیسے ہی معل کیے ہوں، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کتابوں کو ایک طرف ڈال دیا، پھر فرمایا : تمہارا رب بندوں (کے عمل لکھنے) سے فارغ ہوچکا ہے، ایک فریق جنت میں ہے اور ایک فریق دوزخ ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٤١، مسند احمد ج ٢ ص ١٦٧، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٨٨٢٥) 

جب انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی تقدیر میں شقی ہونا لکھ دیا تو پھر معصیت میں اس کا کیا قصور ہے ؟

اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کے پیدا ہونے سے پہلے ہی لکھ دیا ہے کہ وہ سعید ہے یا شقی ہے یا اہل جنت میں سے ہے یا اہل نار سے ہے تو اب انسان کے عمل کرنے کا کیا فائدہ ہے ہوگا تو وہی جو پہلے سے تقدیر میں لکھا ہوا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ انسان اپنے اختیار سے دنیا میں کیسے عمل کرے گا وہ اہل جنت کے عمل کرے گا یا اہل نار کے عمل کرے گا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں وہی کچھ لکھا ہے جو خود بندہ نے اپنے اختیار سے کرنا تھا اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی تقدیر انسان کے اعمال کے مطابق ہے انسان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی تقدیر کے مطابق نہیں ہے۔ 

تقدیر معلق اور تقدیر مبرم کے متعلق احادیث

انسان پر جو راحتیں اور مصیبتیں آتی ہیں اور خوشیاں اور غم آتے ہیں، بیماریوں اور تندرستیوں کا توارد ہوتا ہے، رزق کی تنگی اور فراخی ہوتی ہے حوادث روزگار، فتح اور شکست، کامیابی اور ناکامی اور زندگی اور موت آتی ہے ان تمام امور میں انسان کا اختیار نہیں ہے ان سب کا تعلق اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہے البتہ جن احکام شرعیہ کا اسے مکلف کیا گیا ہے ان میں اس کو اختیار دیا گیا ہے مثلاً اس کا نماز پڑھنا یا نہ پڑھنا، روزنہ رکھنا یا نہ رکھنا، یہ اس کے اختیار میں ہے اور ان ہی کاموں پر اس کو جزا یا سزا ملتی ہے البتہ پہلے جن امور کا ذکر کیا گیا ہے یعنی امور تکوینیہ، ان میں اس کا اختیار نہیں ہے لیکن ہر دو کا تعلق تقدیر کے ساتھ ہے اور تقدیر پر ایمان لانا ضروری ہے اور تقدیر حقیقت میں تقدیر مبرم ہے جو اللہ تعالیٰ کا علم ہے اور اس میں کوئی تغیر اور تبدل محال ہے کیونکہ اس میں تغیر اللہ تعالیٰ کے جہل کو مستلزم ہے اور وہ محال ہے، البتہ علماء نے تقدیر کی ایک اور قسم بھی ذکر کی ہے، اس کو تقدیر معلق کہتے ہیں۔ حضرت سلمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تقدیر صرف دعا سے بدل جاتی ہے اور عمر میں زیادتی صرف نیکی سے ہوتی ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٣٩، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٦١٢٨) عمر بھی تقدیر سے ہے سو اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دعا اور نیکی سے تقدیر بدل جاتی ہے حالانکہ تقدیر اللہ تعالیٰ کے علم کا نام ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم کا بدلنا محال ہے سو تقدیر کا بدلنا بھی محال ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس پر ایمان نہ لائے کہ ہر اچھی اور بری چیز تقدیر سے وابستہ ہے اور یہ یقین رکھے کہ جو مصیبت اس پر آئی ہے وہ اس سے ٹل نہیں سکتی تھی اور جو مصیبت اس سے ٹل گئی ہے وہ اس کو پہنچ نہیں سکتی تھی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٤٤)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں سواری پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، آپ نے فرمایا : اے بیٹے ! میں تمہیں چند کلمات کی تعلیم دیتا ہوں، تم اللہ کے دین کی حفاظت کرو اللہ تمہاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو تم اللہ کی رضا کو اپنے سامنے پائو گے۔ جب تم سوال کرو تو تم اللہ سے سوال کرو اور جب تم مدد طلب کرو تو اللہ سے مدد طلب کرو اور یقین رکھو کہ اگر پوری امت تم کو کوئی فائدہ پہنچانے پر جمع ہوجاء یتو جو چیز اللہ نے تمہارے لیے نہیں لکھی وہ تم کو اس کا فائدہ نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب لوگ تم کو ضرر پہنچانے پر متفق ہوجائیں تو جو چیز اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے نہیں لکھی وہ تمہیں اس کا ضرر نہیں پہنچا سکتے، قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥١٦، مسند احمد ج ١ ص ٢٩٣، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٢٩٨٨، شعب الایمان رقم الحدیث : ١٧٤)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : طاقت ور مسلمان اللہ تعالیٰ کو کمزور مسلمان کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہے اور ہر مسلمان میں (قوی ہو یا ضعیف) خیر ہے، جو چیز تمہارے لیے فائدہ مند ہو اس کی حرص کرو اور اللہ سے مدد طلب کرو اور عاجز نہ ہو اور اگر تم کو کوئی مصیبت پہنچی ہو تو یہ نہ کہو کہ اگر میں فلاں فلاں کام کرلیتا تو مجھ کو یہ مصیبت نہ پہنچتی لیکن یہ کہو کہ یہ اللہ کی تقدیر ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے کیونکہ ” اگر “ کا لفظ شیطان کے عمل کو کھولتا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٦٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٧٩، مسند احمد رقم الحدیث : ٨٧٩٩، دارالفکر)

اول الذکر احادیث سے معلوم ہوا کہ دعا اور نیکی سے تقدیر بدل جاتی ہے اور ثانی الذکر احادیث سے معلوم ہوا کہ تقدیر کسی چیز سے نہیں بدل سکتی، علماء اسلام نے ان احادیث میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ تقدیر کی دو قسمیں ہیں : تقدیر معلق اور تقدیر مبرم۔ تقدیر مبرم ہی اصل تقدیر ہے اور وہ کسی چیز سے نہیں بدل سکتی اور تقدیر معلق یہ ہے کہ انسان اگر دعا کرے گا یا نیکی کرے گا تو اس کی عمر بڑھ جائے گی ورنہ نہیں بڑھے گی مثلاً تقدیر معلق کے مرتبہ میں اس کی عمر چالیس سال لکھی ہوئی ہے، اس نے نیکی کی تو اس کی عمر چالیس سال کو مٹا کر ساٹھ سال لکھ دی گئی لیکن اللہ تعالیٰ کو بہرحال معلوم ہوتا ہے کہ وہ نیکی کرے گا اور اس کی عمر ساٹھ سال ہوگی اور یہ تقدیر مبرم ہے جس میں تغیر ہونا محال ہے۔ قرآن مجید میں بھی اس کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : یمحوا اللہ ما یشاء ویشبت وعندہ ام الکتاب۔ (الرعد : ٣٩) اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے : 

قضاء مبرم کو کوئی ٹال نہیں سکتا

کتاب المحو والاثبات تقدیر معلق ہے اور ام الکتاب تقدیر مبرم ہے اور تقدیر معلق میں نیکی اور دعا سے تبدیلی ہوجاتی ہے اور تقدیر مبرم کوئی نہیں بدل سکتا۔ مشہور ہے کہ غوث اعظم (رض) نے فرمای : میں قضاء مبرم کو ٹال دیتا ہوں، اس سے مراد ہقیقی مبرم نہیں ہے، مبرم اضافی ہے۔ وہ حقیقت میں تقدیر معلق ہے لیکن حضرت غوث اعظم (رض) سے کم درجہ کے اولیاء کرام کی دعا سے وہ تقدیر نہیں بدل سکتی تھی اور ان کے اعتبار سے وہ تقدیر مبرم تھی اور غوث اعظم کی دعا سے وہ تقدیر بدل سکتی تھی اس لیے فرمایا کہ میں قضاء مبرم کو ٹال دیتا ہو، یعنی اس تقدیر کو جو ان سے کم درجہ کے اولیاء کرام کے اعتبار سے قضاء مبرم ہے اور حقیقتاً قضاء مبرم کو بدل دینا کسی کی قدرت اور اختیار میں نہیں ہے۔ تقدیر معلق ہرچند کہ حقیقی تقدیر نہیں ہے لیکن اس کو اللہ کے نیک بندوں کی دعا اور نیک اعمال کی فضیلت ظاہر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ 

تقدیر پر ایمان لانا ضروری ہے

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر امت میں مجوسی ہوتے ہیں اور اس امت کے جو سی وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ کوئی تقدیر نہیں ہے، ان میں سے جو شخص مرجائے تو اس کے جنازہ پر مت جائو اور اگر ان میں سے کوئی بیمار ہو تو اس کی عیادت نہ کرو وہ دجال کی جماعت ہیں اور اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ ان کو دجال کے ساتھ لاحق کر دے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٩٢)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قدریہ (منکرین تقدیر) اس امت کے مجوس (آتش پرست، یہ دو خدا مانت یہیں : ایک یزداں جو نیکی پیدا کرتا ہے اور ایک اہر من جو بدی پیدا کرتا ہے، اسی طرح منکرین تقدیر بھی دو خالق مانتے ہیں : ایک اللہ تعالیٰ ، دوسر انسان جو اپنے افعال کو پیدا کرتا ہے اس لیے منکرین تقدیر کو مجوس فرمایا) ہیں اگر یہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت مت کرو اور اگر یہ مرجائیں تو ان کے جنازہ میں مت جائو۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٩١)

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے ایک دوست نے شام سے ان کو خط لکھا تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اس کو جواب لکھا کہ میں نے سنا ہے کہ تم تقدیر پر نکتہ چینی کرتے ہو اب تم مجھے خط نہ لکھنا کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کی تکذیب کریں گے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦١٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٦١)

یحییٰ بن یعمر بیان کرتے ہیں کہ سے پہلے جس شخص نے تقدیر کا انکار کیا وہ بصرہ کا رہنے والا ایک شخص معبد جہنی تھا میں اور حمید بن عبدالرحمن حج یا عمرہ کے لیے گئے ہم نے کہا : کاش ہم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی صحابی مل جاتا تو ہم اس سے تقدیر کا مسئلہ معلوم کرتے تو حسن اتفاق سے مسجد میں ہماری ملاقات حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے ہوگئی میں نے اور میرے ساتھی نے دائیں بائیں سے ان کو گھیر لیا۔ میں نے کہا : اے ابو عبدالرحمن ! ہمارے علاقہ میں کچھ لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور بڑے علم کا دعویٰ کرتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں ہے جو کچھ ہوتا ہے وہ ابتداء ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : جب تمہاری ان سے ملاقات ہو تو ان سے کہنا کہ میں ان سے بری (لاتعلق) ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں اور جس چیز پر عبداللہ بن عمر قسم کھاتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی شخص کے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہو اور وہ اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس وقت تک قبول نہیں کرے گا جب تک کہ وہ تقدیر پر ایمان نہ لائے۔ الحدیث (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٥٩٥، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٦١٠، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٩٩٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٣، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٢ ص ٤٤، مسند احمد ج ١ ص ٢٧، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ١٦٨) 

تقدیر میں بحث کرنا ممنوع ہے

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر قریش تقدیر کے متعلق بحث کرنے لگے تو یہ آیت نازل ہوئی : یوم یسحبون فی النار علی وجوھھم ذو قوامس سفر۔ انا کل شی خلقنہ بقدر۔ (القمر : ٤٩۔ ٤٨) جس دن وہ آگ میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو بیشک ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٥٧، مسند احمد ج ٢ ص ٤٤٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٨٣، خلق افعال العباد رقم الحدیث : ١١٩)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمرے پاس تشریف لائے اس وقت ہم تقدیر کے متعلق بحث کر رہے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غضب ناک ہوئے حتیٰ کہ آپ کا مبارک چہرہ سرخ ہوگیا گویا کہ آپ کے رخساروں میں انار کے دانے کھل گئے ہوں آپ نے فرمایا : کیا تم کو اس میں بحث کرنے کا حکم دیا گیا ہے یا میں اس میں بحث کرنے کے لیے تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں، تم سے پہلی امتیں اس وقت ہلاک کردی گئیں جب وہ اس میں بحث کر رہی تھیں، میں تم کو قسم دیتا ہوں کہ تم اس میں بحث مت کرو۔ یہ حدیث حضرت عمر، حضرت عائشہ اور حضرت انس (رض) سے بھی مروی ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٣٢، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٦٠٤٥)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص نے تقدیر میں بحث کی اس سے قیامت کے دن اس کے متعلق سوال ہوگا اور جس نے بحث نہیں کی اس سے اس کے متعلق سوال نہیں ہوگا۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٨٤)

ابن الدیلمی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابی بن کعب (رض) کے پاس گیا اور کہا : میرے دل میں تقدیر کے متعلق ایک شبہ پید اہوا ہے، مجھے تقدیر کے متعلق کوئی حدیث بیان فرمائیے شاید اللہ تعالیٰ میرے دل سے اس شبہ کو نکال دے۔ حضرت ابی بن کعب نے کہا : اگر اللہ تمام آسمان والو کو اور تمام زمین والوں کو عذاب دے تو وہ عذاب دے گا اور یہ اس کا ظلم نہیں ہے اور اگر وہ رحم فرمائے تو اس کا رحم لوگوں کے اعمال سے بہتر ہے اور اگر تم احد پہاڑ جتنا سونا اللہ کی راہ میں خیرات کرو تو اللہ تعالیٰ اس کو اس وقت تک تم سے قبول نہیں فرمائے گا جب تک تم تقدیر پر ایمان نہ لے آئو اور جب تک تم یہ یقین نہ رکھو کہ تم پر جو مصیبت آئی ہے وہ تم سے ٹل نہیں سکتی تھی اور جو مصیبت تم سے ٹل چکی ہے وہ تم کو پہنچ نہیں سکتی تھی اور اگر تم اس عقیدہ کے خلاف پر مرے تو تم دوزخ میں داخل ہوگے، پھر میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے بھی اس طرح کہا، پھر میں حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کے پاس گیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا، پھر میں حضرت زید بن ثابت رضیا للہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث سنائی جو اس کی مثل تھی۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٩٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٧٧، مسند احمد رقم الحدیث : ٢١٦٦٧، مطبوعہ دارالفکر)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت موسیٰ اور حضرت آدم (علیہما السلام) میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ نے حضرت آدم سے کہا : تم ہی وہ شخص ہو جس نے اپنے ذنب (اجتہادی خطا) کی وجہ سے لوگوں کو جنت سے نکالا اور ان کو بدنصیب بنایا۔ حضرت آدم نے کہا : اے موسیٰ ! تم ہی وہ شخص ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام سے سرفراز فرمایا، کیا تم مجھے اس چیز پر ملامت کر رہے ہو جس کو اللہ نے مجھے پیدا کرنے سے پہلے مجھ پر لکھ دیا تھا یا کہا جس کو اللہ تعالیٰ نے مجھ کو پیدا کرنے سے پہلے میرے لیے مقدر کردیا تھا پھر حضرت آدم نے حضرت موسیٰ پر غلبہ پالیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧٣٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٥٢، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٠١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٣٤، موطا امام مالک رقم الحدیث : ١٦٦٠، مسند احمد ج ٢ ص ٣٩٨، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦١٧٩، مسند حمیدی رقم الحدیث : ١١١٥، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١٤٠، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٦٢٤٥، الشریعہ لاجری رقم الحدیث : ١٨١، شرح السنہ رقم الحدیث : ٦٨)

حضرت آدم اور حضرت موسیٰ کے درمیان یہ مباحثہ عالم برزخ میں ہوا یا حضرت موسیٰ حضرت آدم کی قبر پر گئے اور وہاں ان سے یہ بحث کی رہا یہ سوال کہ جس طرح حضرت آدم نے اپنی اجتہادی خطا پر تقدیر کا عذر پیش کیا کیا اس طرح ہم بھی اپنے گناہوں پر تقدیر میں لکھے کا عذر پیش کرسکتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت آدم نے یہ عذر برزخ میں پیش کیا تھا اور جب تک وہ دنیا میں رہے وہ اس خطا پر توبہ اور استغفار کرتے رہے اور رہا یہ سوال کہ جب تقدیر میں بحث کرنا ممنوع ہے تو حضرت موسیٰ نے حضرت آدم سے تقدیر کے مسئلہ پر کیوں مباحثہ کیا اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بحث دنیا میں ممنوع ہے اور حضرت موسیٰ نے یہ مباحثہ برزخ میں کیا تھا، نیز یہ ہماری شریعت میں ممنوع ہے ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں تقدیر پر بحث کرنا ممنوع نہ ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 105