أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الٓرٰ‌ ۚ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡن ۞

ترجمہ:

الف لام را، یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الف لام را، یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔ (یوسف : ١) 

قرآن مجید کے مبین ہونے کی وجوہ

اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کی صفرت ذکر کی ہے کہ وہ مبین ہے اس کے تین سبب ہیں : ؂١

) یہ قرآن زبردست معجزہ ہے اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر بہت واضح اور روشن دلیل ہے۔

(٢) اللہ تعالیٰ نے اس میں ہدایت کے بہت واضح طریقے اور بہت روشن راستے بیان فرمائے ہیں اور حلال اور حرام کے صاف احکام اور حدود و تعزیرات کو بیان فرمایا ہے۔

(٣) اور اس میں پہلی امتوں اور ان کے نبیوں اور رسولوں کے قصص اور احوال بیان فرمائے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 1