ایک روزہ کی اہمیت

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشادفرمایا بغیر عذر شرعی کے جس نے رمضان کا ایک روزہ بھی چھوڑاتو اس کی فضیلت پانے کے لئے پوری زندگی کے روزے ناکافی ہیں۔ (بخاری وترمذی )

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو !ماہ رمضان المبارک کے روزے کی عظمت آپ نے سماعت فرمائی۔ اوردنوں میں بھی آدمی روزے رکھے۔ لیکن جو فضیلت ماہ رمضان المبارک کوحاصل ہے وہ دوسرے مہینے کو کہاں۔ اس میں شیطان قید کردیا جاتاہے، روزی بڑھا دی جاتی ہے،ثواب بڑھا دیاجاتاہے، غرض کہ اسطرح کی بہت ساری برکتیں ماہ رمضان المبارک میں رب کی طرف سے عطاہوتی ہیں۔ جو غیر رمضان میں نہیں ہو تیں۔ اسی لئے اس ماہ میں ثواب اس حد تک بڑھا دیا جاتا ہے کہ فرض کاثواب سترفرض کے برابر، نفل کاثواب فرض کے برابر۔ لہٰذا ماہ رمضان المبارک کے فرض روزوں میں کوتا ہی نہیں کرنا چاہئیے رمضان کے روزہ رکھنا فرض ہے۔ اللہ ہم سب کو روزوں کی پابندی کی توفیق عطافرما ئے۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم