أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَوۡ لَا كَانَ مِنَ الۡقُرُوۡنِ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ اُولُوۡا بَقِيَّةٍ يَّـنۡهَوۡنَ عَنِ الۡفَسَادِ فِى الۡاَرۡضِ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّمَّنۡ اَنۡجَيۡنَا مِنۡهُمۡ‌ ۚ وَاتَّبَعَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَاۤ اُتۡرِفُوۡا فِيۡهِ وَكَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

پس تم سے پہلی امتوں میں ایسے نیک لوگ کیوں نہ ہوئے جو زمین میں فساد پھیلانے سے (لوگوں کو) روکتے ماسوا چند لوگوں کے جنہیں ہم نے ان سے نجات دی تھی اور ظالموں نے اس عیش و نشاط کی پیروی کی جس پر وہ جمے ہوئے تھے اور وہ لوگ مجرم تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس تم سے پہلی امتوں میں ایسے نیک لوگ کیوں نہ ہوئے جو زمین میں فساد پھیلانے سے (لوگوں کو) روکتے ماسوا چند لوگوں کے جنہیں ہم نے ان سے نجات دی تھی اور ظالموں نے اس عیش و نشاط کی پیروی کی جس پر وہ جمے ہوئے تھے اور وہ لوگ مجرم تھے۔ (ھود : ١١٦) 

سابقہ امتوں پر عذاب نازل ہونے کے دو سبب

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ اس نے پچھلی امتوں پر ایسا ہمہ گیر عذاب نازل فرمایا تھا جس نے ان قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ماسوا حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کے کیونکہ ان کی قوم نے عذاب کے آثار دیکھتے ہی اللہ تعالیٰ سے توبہ کرلی تھی اور اس آیت میں ان پر عذاب نازل کرنے کے دو سبب بیان فرمائے ہیں : پہلا سبب یہ بیان فرمایا ان میں نیک لوگوں کی ایسی جماعت نہ تھی جو برے لوگوں کو برائیوں سے اور فساد پھیلانے سے روکتی اور دوسرا سبب یہ ہے کہ وہ لوگ فانی لذات، شہوات اور طاقت اور اقتدار کے نشہ میں ڈوبے ہوئے تھے اس آیت سے یہ سبق حاصل کرنا چاہیے کہ اگر لوگ نیکی کا حکم دینا اور برائیوں سے روکنا چھوڑ دیں اور فانی لذتوں اور باطل شہوتوں کی تکمیل میں ڈوب جائیں تو ان پر عذاب الٰہی کے نازل ہونے کا خطرہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 116