مالدار میں مال کا کمال اپنا نہیں

مال سے آدمی مالدار کہلاتا ہے،مال عورت کے پاس ہے تو وہ مالدار ہے،شوہر کو دے گی تو اسے ملے گا اور نہیں دے گی تو کیا ملے گا،شوہرکی وہ مالی امداد کرے گی تو اسے اپنے احسان کے ماتحت دبا کر رکھے گی،دوسرا یہ کہ مال کا حسن صفت ذات نہیں صفت عارضی ہے،مال رہا مالدار اور چلا گیا تو غریب،مال سے آدمی کا اچھا ہونا ضروری نہیں،مال کسی کو بھی مل سکتا ہے،اسکے ملنے میں موٗمن اور مسلم کا فرق نہیں اچھے اور برے کا کیا فرق ہوگا ؟ مالدار خادموں سے کام کراتا ہے خود کیا کرے ؟ مخدوم کو خادم بننا کب پسند آتا ہے،انہیں اپنی دولت کا بھی غرور ہوتا ہے غیر کی عزت وہ کیا کرے ؟ مالدار کو زیادہ خرچ کرنے میں اور فضول خرچی کرنے میں احساس نہیں ہوتا،وہ دولت بے دریغ بہا سکتا ہے،مالدار اپنی دولت کے نشہ میں کسی کی سنتا نہیں اطاعت کیا خاک کرے گا،اور بھی بہت ساری خرابیان ہیں،جسے کسی اور موقع سے بیان کیا جائے گا،الغرض نکاح کے مقاصد مین مالداری کا کوئی مقام نہیں بلکہ اس میں خرابیاں ہی خرابیاں ہیں