أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقُلْ لِّـلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡؕ اِنَّا عٰمِلُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

آپ ان سے کہیے تم اپنی جگہ کام کرتے رہو ہم (اپنی جگہ) کام کر رہے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے آپ ان سے کہیے کہ تم اپنی جگہ کام کرتے رہو ہم (اپنی جگہ) کام کر رہے ہیں اور تم (بھی) انتظار کرو، بیشک ہم (بھی) انتظار کر رہے ہیں اور آسمانوں اور زمینوں کے سب غیب اللہ ہی کے ساتھ مختص ہیں اور اسی کی طرف ہر کام لوٹایا جاتا ہے۔ پس آپ اسی کی عبادت کیجیے اور اسی پر توکل کیجیے اور جو کچھ تم لوگ کرتے ہوئے اس سے آپ کا رب غافل نہیں ہے۔ (ھود : ١٢٣۔ ١٢١ )

جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہایت موثر انداز میں تبلیغ فرمادی اور اللہ تعالیٰ کی حجت پوری کردی اس کے باوجود کفار مکہ ایمان نہیں لائے اور آپ کو اذیتیں پہنچانے کے درپے رہے تو فرمایا : اچھا تم مجھے ضررر پہنچانے کے لیے جو کچھ کرسکتے ہو وہ کرو اور ہم اسی طرح دین کی تبلیغ کرتے رہیں گے اور یہ جو فرمایا ہے کہ تم جو کچھ ہمارے خلاف کرسکتے ہو وہ کرو یہ تہدید اور وعید کے طور پر فرمایا ہے، ان کو کسی شرعی حکم کا مکلف نہیں کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے فرمایا تھا : واستفزز من استطعت منھم بصوتک واجلب علیھم بخیلک ورجلک وشارکھم من الاومال والالد و عدھم۔ (بنی اسرائیل : ٦٤) اور تو اپنی آواز کے ساتھ ان میں سے جن کو ڈگمگا سکتا ہے ان کو ڈگمگا دے اور اپنے سواروں اور پیادوں کے ساتھ ان پر حملہ کر دے اور ان کے اموال اور اولاد میں ان کا شریک بن جا اور ان سے جھوٹے وعدے کر۔ آپ کہیے کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، سو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے اور اس کے بعد وہ دوسری آیت میں فرمایا اور تم (بھی) انتظار کرو اور بیشک ہم (بھی) انتظار کر رہے ہیں یعنی شیطان نے تم کو جو فقر و فاقہ سے ڈرایا ہے تم اس کا انتظار کرو اور ہم اس رحمت اور مغفرت کا انتظار کر رہے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے ہم سے وعدہ کیا ہے اور حضرت ابن عباس (رض) نے اس کی تفسیر میں فرمایا : تم اپنی ہلاکت کا انتظار کرو اور ہم تم پر عذاب کا انتظار کر رہے ہیں۔ اور اس کے بعد فرمایا : اور آسمانوں اور زمینوں کے سب غیب اللہ ہی کے ساتھ مختص ہیں۔ آیت کے اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کا اظہار فرمایا ہے اور اس کے بعد فرمایا : اور اسی کی طرف ہر کام لوٹایا جاتا ہے اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا اظہار فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کی متعدد صفات ہیں یہاں خصوصیت کے ساتھ علم اور قدرت کا ذکر فرمایا کیونکہ علم اور قدرت ہی دو ایسی صفات ہیں جن پر مدار الوہیت ہے کیونکہ اگر اس کو علم نہ ہو تو اس کو کیسے پتا چلے گا کہ اس کی مخلوق اس کے احکام پر عمل کر رہی ہے یا نہیں اور اگر قدرت نہ ہو تو وہ اپنے اطاعت گزاروں کو جزا کیسے دے گا اور اپنے نافرمانوں کو سزا کیسے دے گا۔ اس کے بعد فرمایا : پس آپ اسی کی عبادت کیجیے اور اسی پر توکل کیجیے کیونکہ انسان کی سعادت کا پہلا درجہ اللہ کی عبادت ہے اور آخری درجہ اللہ پر توکل ہے۔ اور آخر میں فرمایا : اور جو کچھ تم لوگ کرتے ہو اس سے آپ کا رب غافل نہیں ہے اس سے مقصود یہ ہے کہ وہ اطاعت گزاروں کی اطاعت کو ضائع نہیں فرمائے گا اور منکروں اور سرکشوں کو مزید ڈھیل نہیں دے گا وہ قیامت کے دن سب کو میدان حشر میں زندہ کر کے جمع کرے گا اور ہر شخص سے ذرہ ذرہ کا حسب لے گا اور انجام کار نیکوکاروں کو جنت عطا فرمائے گا اور بدکاروں کو دوزخ میں دھکیل دے گا۔ اے اللہ ! ہم کو اپنے فضل سے جنت عطا فرمانا اور دوزخ سے محفوظ رکھنا۔ 

حرف آخر 

آج ٢٤ رمضان ١٤٢٠ ھ ٢ جنوری ٢٠٠٠ بروز اتوار ظہر سے قبل سورة ھود کی تفسیر ختم ہوگئی الہ العالمین ! جس طرح آپ نے اس سورت کی تفسیر مکمل کرائی ہے باقی قرآن مجید کی تفسیر بھی مکمل کرا دے اور اس تفسیر کے قارئین سے التماس ہے کہ وہ میرے لیے اسلام پر استقامت، ایمان پر خاتمہ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کتاب کی مقبولیت، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کے حصول کی دعا کریں۔ واخر ددعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوٰۃ السلام علی سیدنا محمد خاتم النبین، افضل الانبیاء والمرسلین وعلی الہ و اصحابہ وا زواجہ و اولیاء امتہ و علماء ملتہ اجمعین۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 121