أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ‌ ۚ وَجَآءَكَ فِىۡ هٰذِهِ الۡحَـقُّ وَمَوۡعِظَةٌ وَّذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم آپ کو رسولوں کی تمام خبریں بیان فرماتے ہیں جن سے ہم آپ کے دل کو تسکین دیتے ہیں اور ان قصوں میں آپ کے پاس حق آگیا اور مومنوں کے لیے نصیحت اور عبرت اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم آپ کو رسولوں کی تمام خبریں بیان فرماتے ہیں جن سے ہم آپ کے دل کو تسکین دیتے ہیں اور ان قصوں میں آپ کے پاس حق آگیا اور مومنوں کے لیے نصیحت اور عبرت۔ (ھود : ١٢٠) 

انبیاء سابقین کے قصص بیان کرنے کی حکمت

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے متعدد انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے قصص بیان فرمائے اور اس آیت میں ان قصص کو نازل کرنے کا فائدہ بیان فرمایا اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب مبارک کو فرائض رسالت کی ادائیگی پر اور کفار کی پہنچائی ہوئی اذیتوں اور سختیوں پر ثابت قدم رکھا جائے کیونکہ انسان جب کسی مشکل اور مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے، پھر دیکھتا ہے کہ اور لوگ بھی اس مشکل اور مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے پھر دیکھتا ہے کہ اور لوگ بھی اس مشکل اور مصیبت میں مبتلا ہیں تو اس پر وہ مشکل اور مصیبت آسان ہوجاتی ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جب کوئی سختی عام ہو تو وہ آسان ہوجاتی ہے تو جب سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے واقعات اور قصص بیان کیے گئے اور آپ نے یہ جان لیا کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ان کی قوموں نے اسی طرح کا ظالمانہ اور اذیت ناک سلوک کیا تھا تو پھر آپ پر کفار مکہ کی پہنچائی ہوئی اذیتیں آسان ہوگئیں اور آپ کے لیے ان تکلیفوں پر صبر کرنا مشکل نہ رہا۔ اس آیت میں فرمایا ہے : اور ہم آپ کو رسولوں کی تمام خبریں بیان فرماتے ہیں اور ایک اور آیت میں اس کے خلاف ہے : ولقد ارسلنا رسلا من قبلک منھم من قصصنا علیک ومنھم من لم نقصص علیک۔ (المومن : ٧٨) اور بیشک ہم نے آپ سے پہلے (بھی) رسول بھیجے ان میں سے بعض کے قصے ہم نے آپ سے بیان فرمائے اور ان میں سے بعض کے قصے ہم نے آپ سے نہیں بیان فرمائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سورة مومن کی اس آیت میں ماضی میں بعض انبیاء کے قصص بیان کی نفی ہے اور سورة ھود کی اس آیت میں زمانہ حال میں تمام انبیاء کی خبریں بیان کرنے کا ثبوت ہے اس لیے ان آیتوں میں کوئی مخالفت اور تعارض نہیں ہے۔

حق نصیحت اور عبرت کا فرق

اس آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے اس سورت میں انبیاء سابقین کی خبریں بیان فرمائی ہیں حالانکہ دوسری سورتوں میں بھی انبیاء سابقین کی خبریں بیان فرمائی ہیں اس کا جواب یہ ہے ہے کہ اس سورت میں زیادہ تفصیل کے ساتھ انبیاء سابقین کی خبریں بیان فرمائی ہیں۔ پھر فرمایا : ” ان قصوں میں آپ کے پاس حق آگیا اور مومنوں کے لیے نصیحت اور عبرت۔ “ حق سے مراد توحید، رسالت اور قیامت کے وہ دلائل ہیں جن کو اس سورت میں بیان کیا گیا ہے اور نصیحت سے مراد نیک اعمال کی تلقین اور ہدایت ہے اور عبرت سے مراد ہے وہ عذاب جو کفار کی بداعمالیوں پر دیا گیا اس عبرت کو ذکریٰ سے تعبیر فرمایا ذکریٰ کے معنی ہیں یاد دلانا کیونکہ انسان نے عالم میثاق میں اللہ تعالیٰ کو رب ماننے کا وعدہ کیا تھا اور جب وہ اس عالم دنیا میں آیا تو اپنا کیا ہوا وہ وعدہ بھول گیا تو اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بھیج کر اس کو وہ وعدہ یاد دلایا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 120