أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَجَـعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً‌ وَّلَا يَزَالُوۡنَ مُخۡتَلِفِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا (لیکن) وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا (لیکن) وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے مگر جن پر آپ کے رب نے رحم فرمایا اور ان کو اسی لیے پیدا فرمایا اور آپ کے رب کی یہ بات پوری ہوگئی کہ میں ضرور جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھردوں گا۔ (ھود : ١١٩۔ ١١٨) 

دنیا کے مشہور فرقے

ان دو آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب کو جبراً مومن اور ایک امت بنا دیتا لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ اس کی مخلوق میں کچھ ایسے لوگ ہوں جو اپنے اختیار سے اس پر ایمان لائیں اس لیے اس نے انسانوں اور جنات کو اختیار دیا پھر یہ عقائد اور اصول میں اختلاف کرتے رہے کچھ لوگ تو سرے سے خدا کے منکر ہیں اور اس کائنات کو ایک اتفاقی حادثہ ماننے میں یا ارتقائی عمل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ یہ لوگ بےدین اور دہریہ ہیں اور کچھ لوگ خدا کے وجود کے قائل ہیں لیکن توحید کے قائل نہیں ہیں نہ رسولوں کو اور آسمانی کتابوں کو مانتے ہیں۔ یہ لوگ بت پرست، بدھ، ہندو اور سکھ ہیں اور کچھ لوگ خدا رسول اور آسمانی کتابوں کو مانتے ہیں ان میں سے بعض تورات کو مانتے ہیں اور اس کو غیر مسنوخ مانتے ہیں اور عزیز کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور ان کو تین میں سے ایک مانتے ہیں یہ عیسائی ہیں اور بعض کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آخری نبی بنا کر بھیجا اور آپ پر قرآن مجید نازل کیا اور قرآن مجید نے سابقہ آسمانی کتابوں کے احکام منسوخ کردیئے اور اب سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کے سوا اور کسی شریعت پر عمل کرنے سے نجات نہیں ہوگی اور اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا اور کسی دین کو قبول نہیں فرمائے گا یہ لوگ مسلمان ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے مگر ” جن پر آپ کے رب نے رحم فرمایا “ اس سے مسلمان ہی مراد ہیں۔ 

اختلاف مذموم ہونے کے باوجود مجتہدین کا اختلاف کیوں محمود ہے ؟

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اختلاف کی مذمت فرمائی ہے اور اختلاف کرنے والوں کو غیر مرحوم قرار دیا ہے اسی طرح حدیث میں بھی اختلاف کی مذمت کی گئی ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اسی طرح نصاریٰ بھی اور میری امت تہتر فرقوں میں منقسم ہوگی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٦٤٠، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٥٩٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩٩١، مسند احمد ج ٢، ص ٣٣٢، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٥٩١٠، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٢٤٧، المستدرک ج ١، ص ١٢٨)

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے لوگ ضرور وہ کام کریں گے جو بنو اسرائیل کرتے تھے برابر، برابر حتیٰ کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں کے ساتھ کھلم کھلا بدکاری کی ہو تو میری امت میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جو یہ عمل کریں گے اور بیشک بنو اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے اور ایک فرقے کے سوا وہ سب دوزخ میں جائیں گے۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہوں گے، فرمایا : جس طریقہ پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٦٤١، المستدرک ج ١، ص ١٢٩، مسند احمد ج ٣، ص ١٢٠، ١٤٥)

اب یہ سوال ہوتا ہے کہ جب قرآن مجید اور مستند احادیث میں اختلاف کی مذمت کی گئی ہے تو فقہاء مجتہدین کا ایک دوسرے سے اختلاف کرنا کس طرح درست ہوگا اور یہ کہنا کس طرح درست ہوگا کہ تمام ائمہ مجتہدین برحق ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید اور احادیث میں جس اختلاف کی مذمت کی گئی ہے وہ عقائد کا اختلاف ہے اور ائمہ مجتہدین کے درمیان عقائد میں اختلاف نہیں ہے بلکہ مسائل فرعیہ میں اختلاف ہے اور یہ اختلاف باعث رحمت ہے کیونکہ اس سے امت کے لیے عمل میں آسانیاں فراہم ہوتی ہیں اور مسائل فرعیہ میں اختلاف کے جواز کی اصل یہ حدیث ہے :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ احزاب سے واپس ہوئے تو آپ نے ہم سے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے نماز نہ پڑھے۔ بعض مسلمانوں نے راستہ میں عصر کی نماز کا وقت پالیا، ان میں سے بعض نے کہا ہم بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے نماز نہیں پڑھیں گے اور بعض نے یہ کہا بلکہ ہم نماز پڑھیں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے یہ ارادہ نہیں فرمایا تھا پھر انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان میں سے کسی کو ملامت نہیں فرمائی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٩٤٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٧٠) 

اللہ، رسول اور کتاب ایک ہے پھر اسلام میں فرقے کیوں ہیں ؟

بعض لوگ علماء پر یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ اللہ بھی ایک ہے رسول بھی ایک ہے قرآن بھی ایک ہے پھر مسلمانوں میں اتنے فرقے کیوں ہیں، کوئی سنی ہے، کوئی شیعہ ہے، کوئی دیوبندی ہے، کوئی بریلوی ہے، کوئی اہل حدیث ہے ؟ اور یہ مسائل فرعیہ کا اختلاف نہیں ہے عقائد کا اختلاف ہے اور یہ سب ایک دوسرے کو کافر یا گمراہ کہتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ نظریات میں اختلاف انسان کی فطرت کا تقاضا ہے جیسا کہ زبان رسالت کے مطابق یہود اور نصاریٰ کے بہتر فرقے ہوئے اور آپ نے اس امت میں بھی تہتر فرقوں کی پیش گوئی فرمائی، دنیاوی امور میں دیکھ لیں، فلسفیوں اور سائنس دانوں میں اختلاف ہوتا ہے ڈاکٹروں کی تشخیص میں اختلاف ہوتا ہے وکلاء میں اختلاف ہوتا ہے ججوں میں اختلاف ہوتا ہے حتیٰ کہ ایک جج کسی مجرم کو پھانسی دینے کا فیصلہ کرتا ہے اور دوسرا جج اس کی مخالفت کرتا ہے۔ ١٩٧٨ ء میں سپریم کورٹ کے ججوں کی اکثریت نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ کیا اور ایک جج صفدر علی شاہ نے بھٹو کو بےقصور قرار دیا اسی طرح سیاست دانوں میں اختلاف ہوتا ہے۔ ایک مسلم لیگ تھی جس نے پاکستان بنایا تھا پھر جنرل ایوب کے دور میں تین مسلم لیگ بن گئیں۔ ایک کونسل مسلم لیگ اور ایک کنونشن مسلم لیگ اور ایک قیوم لیگ اور اب ہمارے دور (٢٠٠٠۔ ١٩٩٩ ء) میں بھی تین مسلم لیگ ہیں : ایک نواز لیگ، ایک جو نیجو لیگ اور ایک پیر پگار الیگ، اسی طرح ایک پیپلز پارٹی تھی۔ پھر ایک پر گریسو پیپلز پارٹی بنی، ایک نیشنل پیپلز پارٹی ہے۔ ایک پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ ہے اور ایک پاکستان پیپلز پارٹی ہے، اسی طرح اور بھی بہت سی سیاسی جماعتیں مختلف دھڑوں میں بٹ گئیں اور یہ لوگ اپنے مخالفین کو غدار کہتے ہیں اور ڈاکٹرز، وکلاء، ججز، فلاسفر اور سیاست دان، یہ سب ایک دوسرے سے اختلاف کریں تو کوئی بری بات نہیں ہے اور علماء کا ایک دوسرے سے اختلاف ہو تو اس کو طعن اور تشنیع کا سبب بنایا جائے یہ کوئی انصاف کی بات تو نہیں ہے۔ 

ابتدائً اسلام قبول کرنے والا کس فرقے میں جائے

ایک سوال یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اسلام میں اتنے فرقے ہیں اگر کوئی شخص ابتداء اسلام قبول کرنا چاہے تو اس کے لیے یہ مشکل ہوگی کہ وہ کس فرقے کے اسلام کو قبول کرے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ صرف اسلام کے بنیادی احکام پر عمل کرے۔ نماز پڑھے، روزہ رکھے، صاحب نصاب ہو تو سال کے بعد زکوٰۃ ادا کرے اور استطاعت ہو تو حج کرے اور تمام حرام کاموں سے بچے اور مکتلف فرقوں کی باریکیوں اور ان کے نظری مسائل میں نہ پڑے، باقی رہا یہ کہ وہ کس فقہ کے مطابق نماز پڑھے تو جس ملک میں جس فقہ کی اکثریت ہو، اس کے مطابق اپنی عبادت انجام دے اور تلاش حق کے لیے مختلف فرقوں کے دینی لٹریچر کا مطالعہ جاری رکھے اور مطالعہ کے بعد جو مسلک اس کو قرآن مجید اور احادیث کے قریب تر دکھائی دے اس کو قبول کرلے اور یہ کوئی ایسا مشکل اور لا یخل مسئلہ نہیں ہے۔ 

جہنم کا جنوں اور انسانوں سے بھرنا

اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور آپ کے رب کی یہ بات پوری ہوگئی کہ میں ضرور جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھردوں گا۔ “ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ چیز پہلے سے تھی کہ اللہ تعالیٰ جنات اور انسانوں کو اختیار دے گا تو ان میں سے بعض اپنے اختیار سے دین حق کو قبول کریں گے، ایمان لائیں گے اور نیک کام کریں گے اور بعض دلائل اور شواہد دیکھنے کے باوجود دین حق کو مسترد کردیں گے اور اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی وجہ سے کفریہ عقائد پر جمے رہیں گے سو کچھ لوگ جنت کے مستحق ہوں گے اور کچھ لوگ دوزخ کے مستحق ہوں گے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ میں ضرور جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا اور جب جنوں اور انسانوں کی اکثریت نے کفر کا اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ کی یہ بات پوری ہوگئی۔ حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت اور دوزخ نے اپنے رب کے سامنے ایک دوسرے سے بحث کی، جنت نے کہا : کیا وجہ ہے کہ جنت میں صرف کمزور اور پسماندہ لوگ ہی داخل ہوتے ہیں۔ دوزخ نے کہا : مجھے یہ فضیلت ہے کہ مجھ میں متکبرین داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا : تم میری رحمت ہو اور دوزخ سے فرمایا : تم میرا عذاب ہو میں جس کو چاہوں گا تم میں داخل کر کے سزا دوں گا تم میں سے ہر ایک کے لیے (لوگوں سے) بھرنا ہے، رہی جنت تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں فرمائے گا اور وہ جس کو چاہے گا دوزخ کے لیے پیدا فرمائے گا اور ان کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا پھر دوزخ تین مرتبہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ دوزخ میں (اپنی شان کے مطابق) اپنا قدم رکھ دے گا پھر دوزخ بھر جائے گی اور اس کا بعض حصہ بعض میں مدغم ہوجائے گا پھر دوزخ کہے گی بس بس بس ! (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٤٤٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٨٤٦، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٨٩٣، مسند احمد رقم الحدیث : ٨١٤٩، عالم الکتب ١٤١٩ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 118