أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهۡلِكَ الۡقُرٰى بِظُلۡمٍ وَّاَهۡلُهَا مُصۡلِحُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور آپ کے رب کا یہ طریقہ نہیں کہ وہ کسی ظلم کی وجہ سے بستیوں کو تباہ کردے جب کہ ان کے رہنے والے نیک ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ کے رب کا یہ طریقہ نہیں کہ وہ کسی ظلم کی وجہ سے بستیوں کو تباہ کر دے جب کہ ان کے رہنے والے نیک ہوں۔ (ھود : ١١٧) 

دنیا میں شرک قابل درگزر ہے ظلم لائق درگزر نہیں

اس آیت میں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ ایک اور آیت میں شرک کو ظلم عظیم فرمایا ہے : ان الشرک لظلم عظیم۔ (لقمان : ١٣) بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی کا حق دوسرے کو دینا ظلم ہے اور عبادت اللہ کا حق ہے اور یہ حق دوسروں کو دینا ظلم ہے اور جب مخلوق میں کسی کا حق دوسرے کو دینا ظلم ہے تو خالق کا حق دوسرے کو دینا سب سے بڑ اظلم ہے اور اب اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف اس وجہ سے کسی بستی کو تباہ نہیں کرتا کہ اس کے رہنے والے شرک کرتے ہوں اور وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کرتے ہوں خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف اس وجہ سے کسی قوم پر ہمہ گیر عذاب نازل نہیں فرماتا کہ وہ قوم شرک اور کفر کا اعتقاد رکھتی ہو بلکہ وہ اس قوم پر اس لیے عذاب نازل فرماتا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر ظلم اور زیادتی کرتے ہیں، اسی وجہ سے فقہاء نے کہا ہے کہ حقوق اللہ میں وسعت اور درگزر کی گنجائش ہے اور حقوق العباد میں تنگی اور سختی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے حقوق معاف فرما دیتا ہے اور حقوق العباد اس وقت تک معاف نہیں کرتا جب تک کہ بندے خود معاف نہ کردیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کفر کے ساتھ حکومت باقی رہتی ہے اور ظلم کے ساتھ حکومت باقی نہیں رہتی اور اس پر دلیل یہ ہے کہ حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہم السلام) کی قوموں پر اس وقت عذاب آیا جب انہوں نے لوگوں کو ایذاء پہنچائی اور مخلوق پر ظلم کیا۔ حدیث میں ہے :

حضرت ابوبکر صدیق (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : لوگ جب کسی ظالم کو دیکھیں اور اس کے ہاتھوں کو نہ پکڑیں تو قریب ہے اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنی طرف سے عذاب نازل فرمائے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٦٨، مسند الحمیدی رقم الحدیث : ٣، مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٧٥۔ ١٧٤، مسند احمد ج ١، ص ٥، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٣٣٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٠٥، مسند البزار رقم الحدیث : ٦٥، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٦٦١٥، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ١٢٨، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٠٣، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٢٥٣٢)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 117