وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْۚ-اَنْتُمْ بَرِیْٓــٴُـوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ(۴۱)

اور اگر وہ تمہیں جھٹلائیں (ف۱۰۴) تو فرمادو کہ میرے لیے میری کرنی اور تمہارے لیے تمہاری کرنی (ف۱۰۵) تمہیں میرے کام سے علاقہ(تعلق) نہیں اور مجھے تمہارے کام سے تعلق نہیں (ف۱۰۶)

(ف104)

اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی راہ پر آنے اور حق و ہدایت قبول کرنے کی امید منقطع ہو جائے ۔

(ف105)

ہر ایک اپنے عمل کی جزا پائے گا ۔

(ف106)

کسی کے عمل پر دوسرا ماخوذ نہ ہوگا جو پکڑا جائے گا خود اپنے عمل پر پکڑا جائے گا ۔ یہ فرمانا بطور زَجر کے ہے کہ تم نصیحت نہیں مانتے اور ہدایت قبول نہیں کرتے تو اس کا وبال خود تم پر ہوگا کسی دوسرے کا اس سے ضرر نہیں ۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَؕ-اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ(۴۲)

اور ان میں کوئی وہ ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں (ف۱۰۷) تو کیا تم بہروں کو سنادو گے اگرچہ انہیں عقل نہ ہو (ف۱۰۸)

(ف107)

اور آپ سے قرآنِ پاک اور احکامِ دین سنتے ہیں اور بُغض و عداوت کی وجہ سے دل میں جگہ نہیں دیتے اور قبول نہیں کرتے تو یہ سننا بے کار ہے اور وہ ہدایت سے نفع نہ پانے میں بہروں کی مثل ہیں ۔

(ف108)

اور وہ نہ حواس سے کام لیں نہ عقل سے ۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَؕ-اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ(۴۳)

اور ان میں کوئی تمہاری طرف تکتا ہے (ف۱۰۹) کیا تم اندھوں کو راہ دکھا دو گے اگرچہ وہ نہ سوجھیں(نہ دیکھ سکیں)

(ف109)

اور دلائلِ صدق اور اعلامِ نبوّت کو دیکھتا ہے لیکن تصدیق نہیں کرتا اور اس دیکھنے سے نتیجہ نہیں نکا لتا ، فائدہ نہیں اٹھاتا ، دل کی بینائی سے محروم اور باطن کا اندھا ہے ۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْــٴًـا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ(۴۴)

بےشک اللہ لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا (ف۱۱۰) ہاں لوگ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں (ف۱۱۱)

(ف110)

بلکہ انہیں ہدایت اور راہ پانے کے تمام سامان عطا فرماتا ہے اور روشن دلائل قائم فرماتا ہے ۔

(ف111)

کہ ان دلائل میں غور نہیں کرتے اور حق واضح ہو جانے کے باوجود خود گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیں ۔

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْؕ-قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ(۴۵)

اور جس دن انہیں اٹھائے گا (ف۱۱۲) گویا دنیا میں نہ رہے تھے مگر اس دن کی ایک گھڑی (ف۱۱۳) آپس میں پہچان کریں گے (ف۱۱۴) پورے گھاٹے میں رہے وہ جنہوں نے اللہ سے ملنے کو جھٹلایا اور ہدایت پر نہ تھے(ف۱۱۵)

(ف112)

قبروں سے موقَفِ حساب میں حاضر کرنے کے لئے تو اس روز کی ہیبت و وحشت سے یہ حال ہوگا کہ وہ دنیا میں رہنے کی مدّت کو بہت تھوڑا سمجھیں گے اور یہ خیال کریں گے کہ ۔

(ف113)

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ کُفّار نے طلبِ دنیا میں عمر یں ضائع کر دیں اور اللہ کی اطاعت جو آج کار آمد ہوتی بجا نہ لائے تو انکی زندگانی کا وقت ان کے کام نہ آیا اس لئے وہ اسے بہت ہی کم سمجھیں گے ۔

(ف114)

قبروں سے نکلتے وقت تو ایک دوسرے کو پہچانیں گے جیسا دنیا میں پہچانتے تھے پھر روزِ قیامت کے اہوال اور دہشت ناک مناظر دیکھ کر یہ معرفت باقی نہ رہے گی اور ایک قول یہ ہے کہ روزِ قیامت دمبدم حال بدلیں گے کبھی ایسا حال ہوگا کہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے ، کبھی ایسا کہ نہ پہچانیں گے اورجب پہچانیں گے تو کہیں گے ۔

(ف115)

جو انہیں گھاٹے سے بچاتی ۔

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ(۴۶)

اور اگر ہم تمہیں دکھادیں کچھ (ف۱۱۶) اس میں سے جو انہیں وعدہ دے رہے ہیں (۱۱۷) یا تمہیں پہلے ہی اپنے پاس بلالیں (ف۱۱۸) بہرحال انہیں ہماری طرف پلٹ کر آنا ہے پھر اللہ گواہ ہے (ف۱۱۹) ان کے کاموں پر

(ف116)

عذاب ۔

(ف117)

دنیا ہی میں آپ کے زمانۂ حیات میں تو وہ ملاحظہ کیجئے ۔

(ف118)

تو آخرت میں آپ کو ان کا عذاب دکھائیں گے ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالٰی اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کافِروں کے بہت سے عذاب اور ان کی ذلّت و رسوائیاں آپ کی حیاتِ دنیا ہی میں آپ کو دکھائے گا چنانچہ بدر وغیرہ میں دکھائی گئیں اور جو عذاب کافِروں کے لئے بسببِ کُفر و تکذیب کے آخرت میں مقرر فرمایا ہے وہ آخرت میں دکھائے گا ۔

(ف119)

مطّلع ہے ، عذاب دینے والا ہے ۔

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌۚ-فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۴۷)

اور ہر امت میں ایک رسول ہوا (ف۱۲۰) جب ان کا رسول ان کے پاس آتا (ف۱۲۱) ان پر انصاف کا فیصلہ کردیاجاتا (ف۱۲۲) اور ان پر ظلم نہ ہوتا

(ف120)

جو انہیں دینِ حق کی دعوت دیتا اور طاعت و ایمان کا حکم کرتا ۔

(ف121)

اور احکامِ الٰہی کی تبلیغ کرتا تو کچھ لوگ ایمان لاتے اور کچھ تکذیب کرتے اور منکِر ہو جاتے تو ۔

(ف122)

کہ رسول کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات دی جاتی اور تکذیب کرنے والوں کو عذاب سے ہلاک کر دیا جاتا ۔ آیت کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس میں آخرت کا بیان ہے اور معنی یہ ہیں کہ روزِ قیامت ہر اُمّت کے لئے ایک رسول ہوگا جس کی طرف وہ منسوب ہوگی جب وہ رسول موقَف میں آئے گا اور مومن و کافِر پر شہادت دے گا تب ان میں فیصلہ کیا جائے گا کہ مومنوں کو نَجات ہوگی اور کافِر گرفتارِ عذاب ہوں گے ۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۴۸)

اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو (ف۱۲۳)

(ف123)

شانِ نُزول : جب آیت ” اِمَّانُرِیَنَّکَ ” میں عذاب کی وعید دی گئی تو کافِروں نے براہِ سرکشی یہ کہا کہ اے محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)جس عذاب کا آپ وعدہ دیتے ہیں وہ کب آئے گا ، اس میں کیا تاخیر ہے ، اس عذاب کو جلد لائیے ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُؕ-لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌؕ-اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ(۴۹)

تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے بُرے کا ذاتی اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے (ف۱۲۴) ہر گروہ کا ایک وعدہ ہے (ف۱۲۵) جب ان کا وعدہ آئے گا تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹیں نہ آگے بڑھیں

(ف124)

یعنی دشمنوں پر عذاب نازِل کرنا اور دوستوں کی مدد کرنا اور انہیں غلبہ دینا یہ سب بہ مشیتِ الٰہی ہے اور مشیتِ الٰہی میں ۔

(ف125)

اس کے ہلاک و عذاب کا ایک وقت معیّن ہے ، لوحِ محفوظ میں مکتوب ہے ۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ(۵۰)

تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر اس کا عذاب (ف۱۲۶) تم پر رات کو آئے (۱۲۷) یا دن کو (ف۱۲۸) تو اس میں وہ کون سی چیز ہے کہ مجرموں کو جس کی جلدی ہے

(ف126)

جس کی تم جلدی کرتے ہو ۔

(ف127)

جب تم غافل پڑے سوتے ہو ۔

(ف128)

جب تم معاش کے کاموں میں مشغول ہو ۔

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖؕ- ﰰ لْــٴٰـنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ(۵۱)

تو کیا جب (ف۱۲۹) ہو پڑے گا اس وقت اس کا یقین کرو گے (ف۱۳۰)کیا اب مانتے ہو پہلے تو (ف۱۳۱)اس کی جلدی مچارہے تھے

(ف129)

وہ عذاب تم پر نازِل ۔

(ف130)

اس وقت کا یقین کچھ فائدہ نہ دے گا اور کہا جائے گا ۔

(ف131)

بطریقِ تکذیب و استہزاء ۔

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِۚ-هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ(۵۲)

پھر ظالموں سے کہا جائے گا ہمیشہ کا عذاب چکھو تمہیں کچھ اور بدلہ نہ ملے گا مگر وہی جو کماتے تھے (ف۱۳۲)

(ف132)

یعنی دنیا میں جو عمل کرتے تھے اور کُفر و تکذیبِ انبیاء میں مصروف رہتے تھے اسی کا بدلہ ۔

وَ یَسْتَنْۢبِــٴُـوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ ﳳ-قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ﱢ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠(۵۳)

اور تم سے پوچھتے ہیں کیا وہ (ف۱۳۳) حق ہے تم فرماؤ ہاں میرے رب کی قسم بےشک وہ ضرور حق ہے اور تم کچھ تھکا نہ سکو گے (ف۱۳۴)

(ف133)

بعث اور عذاب جس کے نازِل ہونے کی آپ نے ہمیں خبر دی ۔

(ف134)

یعنی وہ عذاب تمہیں ضرور پہنچے گا ۔