امت مسلمہ کے چند بنیادی مسائل

✴الشيخ محمد الغزالي رحمه الله،

متولد مصر ، متوفی 1996 ھ ، مدفون بقیع شریف کا ایک قول فقیر نے چند روز پیشتر شائع کیا تو ایسا لگا کہ ایک قارئ محترم کا ذہن امام غزالی عليه الرحمة کی طرف منتقل ہو گیا ۔ آج قدرے وضاحت اس بناء پر کر دی ۔

آپ کے چند اقوال خیر خواہی کے جذبات تحت دوستوں کی جناب میں نذرانہ عقیدت ہیں ۔

✴1- تباہ و ہلاک ہو جاتی ہے وہ قوم ، سوچ و فکر سے عاری بازاری صفت لوگ جس کے لیڈر ہوں اور قابل و باصلاحیت افراد کے لتے لیئے جاتے ہوں ۔

( بعض حکومتی افراد اور میڈیا کی اکثریت کا رویہ عیاں ہے )

✴2 – مجبور کر کے کسی سے اچھا کام کروانا اسے افضل انسان نہیں بنا سکتا بالکل اسی طرح جیسے زبردستی اور اكراہی ايمان کسی إنسان کو مؤمن نہیں بناتا ؛ [حریت فکر اور فطری شرافت أساس فضيلت ہے ].

✴3 – إسرائيل کے خاتمے کے لیئے ضروری ہے کہ پہلے وہ عرب نظام حکومت ختم ہوں جو اپنی قوم ( کے دکھ بھرے حالات ) پر ہنس لیتے ہیں ۔

اور ان عرب معاشروں کی تباہی بھی لازم ہے جو اندیشہ ہائے دور دراز اور بزدلی پر قائم ہیں ۔

( ملک عزیز پاکستان میں بھی عادلانہ نظام حکومت کے قیام کا راز اس میں تلاش کیا جا سکتا ہے )

✴4 – مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کھیل کے میچ کی شکست پر قریب المرگ ہو جانے والی قوم کا اپنی تہذیب، اپنی صنعت اور اپنی اجتماعيت و معاشرت کی شکست و ریخت پر ایک رونگٹا بھی کیوں کھڑا نہیں ہوتا ؟

✴5 – ملغوبہ، چربہ دین اور نظام ، قوم کو صریح الحاد سے زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے ۔

✴6 – فرعون ، وڈیرے اور چوہدری خدا بن بیٹھتے ہیں صرف اس بناء پر کہ معاشرے کی اکثریت بلا سوچے سمجھے ان کی نوکر چاکر بنی رہتی ہے ۔

✴7 – رعایا کی خرابی حکام کی خرابی و بگاڑ پر موقوف ہے

اور امراء و حکام میں فساد علماء کے فساد کی وجہ سے در آتا ہے ، اگر بد کردار جج اور قاضی ، اور علماء سوء نہ ہوں تو فساد حکام بہت کم ہو جائیں ۔ علماء کے انکار کا خوف انہیں سیدھا رہنے پر مجبور کیئے رکھتا ہے ۔

( پاکستانی بھائیو ! غور کریں ، اپنے علماء کرام کی قدر و قیمت پہچانیں جو حکام کو دین کے مقابلے میں من مانیاں نہیں کرنے دیتے ۔ )

✴8 – کسی غلط بات ، منصوبے ، پروگرام کو بدلنے سے قبل اس کا نعم البدل ضرور آپ کے پاس ہونا چاہیے ۔

✴9 – تاریخ شہادت دے رہی ہے کہ سیاسی ، اجتماعی، کسی بھی تحریک کو برپا کرنے سے قبل عقلی بیداری لازم ہے ۔

فقیر خالد محمود

ادارہ معارف القرآن

کشمیر کالونی کراچی ۔

21 اپریل 2020