أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذۡ قَالُوۡا لَيُوۡسُفُ وَاَخُوۡهُ اَحَبُّ اِلٰٓى اَبِيۡنَا مِنَّا وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ  ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنِ ۞

ترجمہ:

جب یوسف کے بھائیوں نے مشورہ کیا کہ یوسف اور اس بھائی ہمارے باپ کے نزدیک ہم سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم پوری جماعت ہیں بیشک ہمارے باپ کی رائے درست نہیں ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب یوسف کے بھائیوں نے مشورہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کے نزدیک ہم سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم پوری جماعت ہیں بیشک ہمارے باپ کی رائے درست نہیں ہے۔ (یوسف : ٨) 

حضرت یوسف کے بھائیوں کی حضرت یوسف سے نفرت کا سبب

اس آیت سے یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ کیا سبب تھا جس کی وجہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے حضرت یوسف کو ایذا پہنچانے کا قصد کیا اور اس کا سبب یہ تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت یوسف اور بنیامن کو محبت میں باقی دس بیٹوں پر فوقیت دیتے تھے اور ان کو اس سے تکلیف ہوتی تھی ایک تو اس لیے کہ وہ عمر میں ان دونوں سے بڑے تھے دوسرے اس وجہ سے کہ وہ دونوں کی بہ نسبت باپ کو زیادہ آرام اور فائدہ پہنچاتے تھے اور تیسرے اس وجہ سے کہ مصائب اور آفات کو وہی دور کرتے تھے اور منافع اور فوائد کو وہی حاصل کرتے تھے ان وجوہ کے اعتبار سے چاہیے یہ تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ان دس بیٹوں کو حضرت یوسف اور بنیامین پر ترجیح دیتے لیکن جب اس کے برعکس حضرت یعقوب (علیہ السلام) ان دونوں کو فضیلت دیتے تھے تو انہوں نے کہا ہمارا باپ ضلال مبین میں ہے، ان کی مراد یہ نہ تھی کہ ان کا باپ دین میں گمراہ ہے اور خطاء پر ہے کیونکہ اگر وہ یہ ارادہ کرتے تو وہ کافر ہوجاتے بلکہ ان کی مراد یہ تھی کہ دو کو دس پر ترجیح دینے میں اور چھوٹوں کو بڑوں پر ترجیح دینے میں اور غیر مفید کو مفید پر ترجیح دینے میں ہمارے باپ کی رائے درست نہیں ہے۔ 

حضرت یعقوب کو حضرت یوسف سے زیادہ محبت کیوں تھی ؟

اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہ بات بدیہی ہے کہ بعض اولاد کو بعض پر ترجیح دینا کینہ اور حسد کو پیدا کرتا ہے اور جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اس کا علم تھا تو انہوں نے حضرت یوسف اور بنیامین کو باقی دس بیٹوں پر کیوں ترجیح دی، جبکہ جو عمر علم اور نفع رسانی میں بڑے اور زیادہ ہوں وہ اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ ان کو فضیلت دی جائے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس کے برعکس معاملہ کیوں کیا اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان دونوں کو باقی بیٹوں پر صرف محبت میں ترجیح دی تھی اور محبت غیر اختیاری چیز ہے لہٰذا اس معاملہ میں وہ معذور تھے اور وہ ملامت کے مستحق نہیں ہیں علامہ ازیں حضرت یعقوب کو ان دونوں میں رشد و ہدایت اور سعادت اور شرافت کے وہ آثار نظر آتے تھے جو باقی اولاد میں نہیں تھے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) ہرچند کہ کمسن تھے اس کے باوجود وہ اپنے والد کی بہت زیادہ خدمت کرتے تھے اور یہ مسئلہ اجتہادی ہے اور اس کی وجہ سے کسی کو دوسرے پر اعتراض کا حق نہیں پہنچتا۔ 

حضرت یوسف کے بھائیوں کا حسد ہی ان کے تمام گناہوں کی جڑ تھا

حضرت یوسف کے بھائیوں نے کہا یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کے نزدیک ہم سے زیادہ محبوب ہیں اور یہ محض حسد ہے اور حس تمام برائیوں کی جڑ ہے اس حسد کی وجہ سے انہوں نے جھوٹ بولا اور پانے بےقصور اور نیک بھائی کو ضائع کیا اسے کنوئیں میں ڈالا پھر اس کو غلامی میں مبتلا کیا اور اس کو اس کے والد سے دور کیا اور اپنے باپ کو دائمی غم میں مبتلا کیا اور بہت سے گناہ کیے اور یہ تمام کام عصمت اور نبوت کے منافی ہیں اور جمہور کے نزدیک نبی اعلان نبوت سے پہلے اور اعلان نبوت کے بعد ہر قسم کے صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے معصوم ہوتا ہے اس لیے ان کے نبی ہونے کا قول کرنا صحیح نہیں ہے۔ 

حسد، رشک اور منافست کی تعریفیں

دل کی بیماریوں میں سے ایک بیماری حسد ہے جیسا کہ بعض علماء نے حسد کی تعریف میں کہا ہے : اغنیاء کو اچھے حال میں دیکھنے سے دل کو اذیت اور تکلیف پہنچتی ہے وہ حسد ہے اور بعض علماء نے کہا : کسی شخص کے پاس نعمت دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ اس کو بھی یہ نعمت مل جائے اس کو رشک کہتے ہیں اور کسی کے پاس نعمت دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ اس سے یہ نعمت زائل ہوجائے خواہ اس کو یہ نعمت نہ ملے اس کو حسد کہتے ہیں اور تحقیق یہ ہے کہ کسی شخص کو اچھے حال میں دیکھ کر اس سے بغض رکھنا حسد ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں :

(١) کسی شخص پر نعمت کو مطلقاً ناپسند کرنا اور یہ حسد مذموم ہے اور جب حاسد اس شخص سے بغض رکھے گا تو صاحب نعمت کو دیکھ کر اس کو اذیت پہنچتی رہے گی اور اس سے اس کے دل میں مرض ہوگ اور اس کے پاس سے اس نعمت کے زوال سے اس کو لذت حاصل ہوگی خواہ اسے وہ نعمت حاصل نہ ہو۔

(٢) حاسد کسی شخص کے پاس نعمت دیکھ کر اس شخص کی اپنے اوپر فضیلت کو ناپسند کرے اور وہ یہ چاہے کہ یا تو وہ اس شخص جیسا ہوجائے یا اس سے بڑھ کر ہوجائے حسد کی اس قسم کا نام علماء نے رشک رکھا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بھی حسد فرمایا ہے : ( حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حسد کرنا صرف دو صورتوں میں جائز ہے : ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن (کا علم) عطا کیا ہو اور وہ دن اور رات کے اوقات میں قرآن کے ساتھ قیام کرے اور ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور وہ دن اور رات کے اوقات میں اس مال کو حق کے راتوں میں خرچ کرے یہ الفاظ حضرت ابن عمر کی روایت میں ہیں اور حضرت ابن مسعود کی روایت میں ہے : ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی ہو اور وہ اس کے مطابق فیصلے کرے اور اس کی تعلیم دے اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس کو حق کے راستہ میں خرچ کرنے پر مسلط کردیا ہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨١٦)

حسد کی اس دوسری قسم کو منافست (رغبت) بھی کہتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ایک اچھی چیز کے حصوں میں دو شخص رغبت کریں اور اس کے حصول میں ہر ایک دوسرے پر سبقت کرنا چاہتا ہو اور اپنے اوپر دوسرے کی سبقت کو ناپسند کرتا ہو منافست اچھی چیزوں میں لائق تعریف ہے۔ قرآن مجید میں ہے : ان الابرار لفی نعیم علی الارائک ینظرون تعرف فی وجوھھم نصرۃ النعیم یسقون من رحیق مختوم ختمہ مسک وفی ذلک فلیتنا فس المتنافسون۔ (المطففین : ٢٦۔ ٢٢) بیشک نیک لوگ ضرور راحت میں ہوں گے۔ تختوں پر بیٹھے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے آپ ان کے چہروں سے نعمتوں کی تروتازگی پہچان لیں گے انکو مہرشدہ صاف شراب پلائی جائے گی اس کی مہر مشک ہوگی اور رغبت کرنے والوں کو اسی میں رغبت کرنی چاہیے۔ حسد عموماً اس نعمت پر کی ا جاتا ہے جس کی وجہ سے کسی کے متبعین زیادہ ہوں ورنہ اگر کوئی شخص زیادہ کھاتا پیتا ہو یا اس کی بیویاں زیادہ ہوں تو اس پر کوئی حسد نہیں کرتا اسی وجہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علم اور مال کا ذکر فرمایا کیونکہ جو شخص بڑا عالم ہوتا ہے اس کے پیروکار بھی بہت ہوتے ہیں اور جو شخص بڑا مال دار ہوتا ہے اس کے بھی بہت محبین اور مصاحبین ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنی ضرورتوں میں اس کے محتاج ہوتے ہیں اسی وجہ سے حضرت موسیٰ رقم الحدیث : کو معراج کے موقع پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر منافست اور رشک ہوا حتیٰ کہ جب ان کے پاس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گزرے تو وہ رونے لگے ان سے پوچھا گیا آپ کیوں رو رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میرے بعد ایک نوجوان کو رسول بنایا گیا اور اس کی امت کے پیروکار میری امت کے پیروکاروں سے زیادہ جنت میں داخل ہوں گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٨٨٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٤) 

حسد نہ کرنے کی فضیلت

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا : ابھی تمہارے پاس اس راستے سے ایک شخص آئے گا وہ اہل جنت میں سے ہے۔ پھر انصار میں سے ایک شخص آیا، وضو کی وجہ سے اس کی ڈاڑھی سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اس نے اپنے بائیں ہاتھ میں اپنی جوتیاں اٹھائی ہوئی تھیں اس نے آکر سلام کیا۔ دوسرے دن پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح فرمایا پھر وہی شخص اسی کیفیت سے آیا۔ تیسرے دن پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح فرمایا پھر وہی شخص اسی کیفیت سے آیا۔ تیسرے دن پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح فرمایا اور پھر وہی شخص اسی طرح آیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ گئے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص اس شخص کے پیچھے گئے انہوں نے اس سے کہا میرا اپنے والد سے جھگڑا ہوگیا ہے اور میں نے قسم کھائی ہے کہ میں تین دن تک ان کے پاس نہیں رہوں گا اگر تم اجازت دو تو میں تین دن تمہارے ساتھ گزاروں۔ اس شخص نے کہا ٹھیک ہے۔ حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ تین راتیں اس کے پاس رہے انہوں نے اسے تہجد پڑھتے ہوئے نہیں دیکھ البتہ جب وہ نیند سے بیدار ہوتا تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا اور اللہ اکبر کہہ کر صبح کی نماز پڑھنے کے لیے چلا جاتا۔ حضرت عبداللہ نے کہا البتہ میں نے اس کے منہ سے سوا نیکی کے اور کوئی بات نہیں سنی جب ہم تین دن گزار کر فارغ ہوگئے اور اس وقت میں اس کے اعمال کو بہت کم سمجھ رہا تھا میں نے کہا اے اللہ کے بندے ! میرے اور میرے والد کے درمیان کوئی جھگڑا ہوا تھا اور نہ میں نے ان کو چھوڑا تھا لیکن میں نے رسول الہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تین مرتبہ یہ سنا کہ تمہارے پاس اہل جنت میں سے ایک شخص آئے گا پھر تین مرتبہ تم آئے تو میں نے ارادہ کیا کہ میں تمہارے پاس ٹھہروں تاکہ میں تمہارے اعمال کو دیکھوں اور ان اعمال کی پیروی کروں لیکن میں نے تم کو کوئی بہت عمل کرتے ہوئے نہیں دیکھا تو وہ کون سا عمل ہے جس کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے متعلق بشارت دی۔ اس شخص نے کہا بس وہی عمل ہے جو تم نے دیکھا البتہ میں اپنے دل میں کسی مسلمانوں کے خلاف کینہ نہیں رکھتا اور نہ کسی مسلمان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کوئی نعمت دیکھ کر اس پر حسد کرتا ہوں۔ حضرت عبداللہ نے کہا تم میں یہی خوبی ہے جس سے تم کو یہ بشارت ملی اور اسی کی ہم طاقت نہیں رکھتے (یعنی وہ شخص حسد کی تمام اقسام سے سلامت اور محفوظ تھا) (سمدن احمد ج ٣ ص ١٦٦، طبع قدیم، مسند احمد رقم الحدیث : ١٢٧٢٦ طبع عالم الکتب، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٥٥٩، مسند عبد بن حمید رقم الحدیث : ١١٦٠، عمل الیوم والیلہ للنسائی رقم الحدیث : ٨٦٣) 

حسد مذموم

اور جو حسد مذموم ہے اس کا اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے حق میں ذکر فرمایا ہے : ودکثیر من اھل الکتاب لویردونکم ممن بعد اما تبین لھم الحق (البقرہ : ١٠٩) بہت سے اہل کتاب نے اپنے دلی حسد کی وجہ سے یہ چاہا کہ کاش وہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد کفر کی طرف لوٹا دیں اور یہ خواہش انہوں نے اس وقت کی جب ان پر حق واضح ہوچکا تھا۔ 

غیر اختیاری صبر کی بہ نسبت اختیاری صبر کی فضیلت

یعنی جب انہوں نے یہ دیکھا کہ تم کو ایمان کی نعمت حاصل ہوچکی ہے اور ان کو وہ نعمت حاصل نہیں ہوئی تو انہوں نے یہ چاہا کہ تم سے وہ نعمت زائل ہوجائے خواہ ان کو ایمان کی وہ نعمت حاصل نہ ہو بلکہ وہ اس نعمت کو حاصل کرنا بھی نہیں چاہتے تھے وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ تم سے وہ نعمت زائل ہوجائے اور اس حسد کی وجہ سے لبیدین اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیا تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائیوں کے حسد کی وجہ سے اپنے بھائیوں کے مظالم کا شکار ہوئے انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا مشورہ کیا اور آپ کو اندھے کنوئیں میں ڈالا اور جو قافلہ کافروں کے ملک میں جارہا تھا اس کے ہاتھ آپ کو غلام بنا کر بیچ ڈالا پھر ان کے ظلم کے بعد حضرت یوسف اس مصیبت میں مبتلا ہوئے کہ عزیز مصر کی حسین بیوی نے آپ کو بدکاری کی دعویٰ دی اور اس نے فرمایا : انہ انہ من یقتق وبصبر فان اللہ لا یضیع اجر المحسنین (یوسف : ٩٠) بیشک جو اللہ سے ڈرے اور صبر کرے تو یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ اور اس آیت کے حکم میں وہ مسلمان ہیں جن کو ان کے ایمان کی وجہ سے ایذا پہنچائی جائے اس دور میں بھارت، مقبوضہ کشمیر، چیچنیا کو سوو اور بوسنیا کے مسلمانوں کو ان کے اسلام اور ایمان کی وجہ سے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے یا کسی شخص سے فسق اور معصیت کو طلب کی اجائے اور ان کی موافقت نہ رکنے کی صورت میں اس کو قید کرنے اور سزا دینے کی دھمکی دی جائے جیسے الجزائر اور مصر میں اسلامی نظام کا مطالبہ کرنے والوں کو قتل کیا جارہا ہے اور ایذائیں پہنچائی جارہی ہیں اور ترکی میں اسلامی اقدار اپنانے والوں پر اور سعودی عرب میں میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منانے والوں پر قید و بندی کی سختیاں کی جارہی ہیں۔ 

ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صبر حضرت یوسف کے صبر سے بہت عظیم ہے۔

سب سے زیادہ ایذائیں ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچائی گئیں اور آپ نے ان پر اپنے اختیار سے صبر کیا اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مقابلہ میں بہت عظیم صبر کیا کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے بدکاری کو طلب کیا گیا اور جب انہوں نے اس کی موافقت نہیں کی تو ان کو قید کیا گیا اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب سے کفر کو طلب کیا گیا اور جب انہوں نے ایسا نہیں کیا تو بعض اصحاب کو قتل کیا گیا اور بعض پر اور سختیاں کی گئیں اور مشرکین نے آپ کو اور بنو ہاشم کو ایک مدت تک شعیب ابی طالب میں مقید رکھا اور کھانے پینے کی چیزیں آپ تک پہنچنے نہیں دی گئیں اور ابو طالب کے انتقال کے بعد انہوں نے آپ زیادہ شدت کی اور جب انصار نے آپ سے بیعت کرلی تو وہ آپ کے اصحاب کو مکہ سے نکلنے نہیں دیتے تھے اور آپ کے اصحاب صرف چھپ کر ہجرت کرسکتے تھے اور صرف ظائف کے ایک دن میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تبلیغ دین کی بناء پر جو اذیتیں پہنچائی گئیں وہ تمام نبیوں کو پہنچائی گئی تکلیفوں کے مجموعے سے زیادہ تھیں لہٰزا آپ کا اختیاری صبر تمام رسولوں اور نبیوں کے اختیاری صبر سے زیادہ ہے۔ مسلمانوں کو دین کی راہ میں جو اذیتیں پہنچیں اور جو مصائب آئے وہ صرف اس وجہ سے تھے کہ انہوں نے اپنے اختیار سے اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی تھی اور یہ آسمانی مصائب نہ تھے جن میں انسان کا اختیار نہیں ہوتا جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر ان کے بھائیوں کی وجہ سے مصائب نازل ہوئے۔ 

حسد ایک نفسانی بیماری ہے

خلاصہ یہ ہے کہ حسد نفسانی امرا اض میں سے ایک مرض ہے اور یہ غالب مرض ہے جس سے کم لوگ ہی محفوظ رہتے ہیں۔ لوگ مال اور اقتدار میں کسی کی فضیلت کی بناء پر حسد کرتے ہیں اور اگر دو برابر کے درجہ کے لوگوں میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت حاصل ہوجائے تو اس سے حسد کرتے ہیں۔ جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے حضرت یوسف سے ہسد کیا اور جیسے حضرت آدم کے دو بیٹوں میں سے ایک نے دوسرے سے حسد کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہابیل کی قربانی قبول کرلی تھی اور قابیل کی قربانی قبول نہیں کی تھی اور جیسے یہود نے مسلمانوں سے حسد کیا اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ دنیا میں پہلی لغزش اور پہلا گنا تین چیزوں سے ہوا : حرص، تکبر اور حسد۔ حضرت آدم نے حرص کی وجہ سے لغزش کی اور اجتہادی خطاء سے شجر ممنوع کو کھالیا اور شیطان تکبر کر کے حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے منکر ہوا اور قابل نے حسد کی وجہ سے ہابیل کو قتل کردیا۔ 

حسد کے متعلق احادیث :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین چیزوں میں سے کوئی شخص نہیں بچ سکے گا : حسد، بدگمانی اور بدفالی اور میں تم سے عنقریب بیان کروں گا کہ ان سے نکلنے کی کیا صورت ہے جب تم کسی سے حسد کرو تو اس سے بغض نہ رکھو اور جب تم بدگمانی کرو تو اس کے پیچھے نہ پڑو اور جب تم بدشگوفی نکالو تو اپنے کام پر روانہ ہوجائو۔ (کنز العمال رقم الحدیث : ٤٣٧٨٩)

حضرت زبیر بن عوام (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم سے پہلی امتوں کی (نفسانی) بیماریاں تم میں سرایت کر جائیں گی حسد اور بغض اور یہ مونڈنے والی بیماری ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بالوں کو مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈتی ہے اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوگے جب تک کہ ایمان نہ لے آئو اور تم اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہوگے جب تک کہ تم ایک دوسرے سے نیت نہ کرو اور کیا میں تم کو یہ خبر نہ دوں کہ کیا چیز محبت کو ثابت کرسکتی ہے آپس میں ایک دوسرے کو سلام کیا کرو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥١٠، سنن ابودائود الطیاسی رقم الحدیث : ١٩٣، مسند احمد ج ١ ص ١٦٧، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٦٦٩، شعب الایمان رقم الحدیث : ٨٧٤٧)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دوسرے سے بغض نہ کرو ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ایک دوسرے سے دشمنی نہ کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہو جائو اور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٠٦٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٥٩، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٧٨٤٥، موطا امام مالک رقم الحدیث : ٥٦٦، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٢٢٢، مسند حمیدی رقم الحدیث : ١١٨٣، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٣٥، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٦٦٠)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٩٠٣، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٤ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 8