فوائد روزہ

حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا :جہاد کرو مال غنیمت پائوگے۔ ’’وَصُوْمُوْاتَصِحُّوْا‘‘ اورروزہ رکھو صحت مند ہو جائوگے اور سفر کرو مالدار ہو جائوگے۔ (الترغیب والترہیب )

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو !حضوراقدس اکے ہر فعل میں صدہا حکمتیں اورفوائد پوشیدہ ہیںجن کی گہرائی تک ہماری عقل کاپرندہ پرواز نہیں کرسکتا۔ مثلاً اسلام نے ہم پر نمازیں فرض فرمائی تو جہاں نمازوں کی ادائیگی پرہمارے لئے آخرت میں اجر وثواب کاوعدہ فرمایاگیا وہیں دنیا میں نماز کی مداومت کرنے پر ہمارے لئے بہت سی بیماریوں کے دفع کا ذریعہ بھی بنادیا گیا گویا کہ اللہ د اور اس کے پیارے محبوب اکے بتائے ہوئے احکام کی بجاآوری میں ہمارے لئے دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت میں بھی بھلائی ہے آج کا دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے انسان مظاہرئہ قدرت میں غوروفکر کر کے ان کی گہرائی تک پہونچنا چاہتا ہے۔ چنانچہ اغیار اسلام کے بتائے ہوئے احکامات وارشادات پر مسلسل تحقیق کر رہے ہیں۔ الحمد للہ! جوں جوں سائنسی ایجادات اورٹیکنالوجی کافروغ ہو رہا ہے اسلام کی حقانیت لوگوں پر واضح ہوتی جارہی ہے۔ انسان چونکہ طبعاً حریص ہے، اسلام نے اسے ہر عمل پر نفع دیا ہے اسلئے سنتوں کی سائنسی تحقیق ہوئی ورنہ حضوراقدس اکی مبارک سنتیں قطعاً سائنس کی محتاج نہیں بانئی اسلام انے روزہ کو مومن کے لئے شفاقراردیا ہے۔ اس ضمن میں سائنس کیا کہتی ہے ؟مختصراً ملاحظہ فرمائیں۔

حکیم محمد طارق محمود چغتائی اپنی تصنیف ’’سنت نبوی اور جدید سائنس ‘‘میں رقم طراز ہیں۔ ’’پروفیسر مورپالڈ آکسفورڈ یونیورسٹی کی پہچان ہیں۔ انہوں نے اپنا واقعہ بیان کیا کہ میں نے اسلامی علوم کا مطالعہ کیا اور روزے کے باب پر پہونچا توچونک پڑاکہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کے لئے کتنا عظیم فارمولہ دیا ہے۔ اگر اسلام اپنے ماننے والوں کواور کچھ نہ دیتا صرف یہی روزے کا فارمولہ ہی دیتا تو پھر بھی اس سے بڑھ کر ان کے پاس اور کوئی نعمت نہ ہوتی۔ میں نے سوچا کہ اس کو آزمانا چاہئیے۔ پھر میں نے روزے مسلمانوں کے طرزپر رکھنا شروع کردئیے۔ میں عرصئہ درازسے معدے کے ورم’’Stomach Inflamation‘‘میں مبتلا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد ہی میں نے محسوس کیا کہ اس میں کمی واقع ہوگئی ہے۔ میں نے روزوں کی مشق جاری رکھی۔ پھر میں نے جسم میں کچھ اور تبدیلی بھی محسوس کی۔ اور کچھ ہی عرصہ بعد میں نے اپنے جسم کو نارمل پایا۔ حتیٰ کہ میں نے ایک ماہ کے بعد اپنے اندر انقلابی تبدیلی محسوس کی ‘‘

پوپ ایلف گال کا تجربہ

یہ ہالینڈ کا بڑا پادری گزرا ہے۔ اس نے روزے کے بارے میں اپنے تجربات بیان کئے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔

’’میں اپنے روحانی پیروکاروں کو ہر ماہ تین روزے رکھنے کی تلقین کرتا ہوں۔ میں نے اس طریقۂ کار کے ذریعہ جسمانی اور وزنی ہم آہنگی محسوس کی۔ میرے مریض مجھ پر مسلسل زوردیتے ہیں کہ میں انہیں کچھ اور طریقہ بتائوں لیکن میں نے یہ اصول وضع کرلیا کہ ان میں وہ مریض جو لا علاج ہیں ان کو تین یوم نہیں بلکہ ایک ماہ تک روزے رکھوائے جائیں‘‘۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو ! عیسائی لوگ فضیلت کی بجائے اس کے طِبِّی فائدے کی طرف متوجہ ہوئے اور جب اس کی تہہ تک پہنچے تو حکمت اسلام کے جلوے ان کو نظرآنے لگے اورانہوں نے اس پر عمل کرکے فائدہ حاصل کیااور مزید فائدہ حاصل کررہے ہیں۔ اللہ عزوجل کا کتنا بڑا کرم ہے کہ اس نے ہم سب کو روزے کی توفیق عطا فرمائی اور ہم کو روزے کے ذریعہ جسمانی، روحانی، اور اخروی فائدے سے بھی مالامال کیا اللہد ہم سب کو نیکیوں کی توفیق عطا کرے۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم