أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا مَا لَـكَ لَا تَاۡمَنَّا عَلٰى يُوۡسُفَ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

انہوں نے (یعقوب سے) کہا اے ہمارے ابا کیا بات ہے آپ یوسف کے معاملہ میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کی خیر خواہی کرنے والے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہوں نے (یعقوب سے) کہا : اے ہمارے ابا ! کیا بات ہے آپ یوسف کے معاملہ ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کی خیر خواہی کرنے والے ہیں۔ اسے کل ہمارے ساتھ بھیج دیجیے تاکہ وہ پھل کھائے اور کھیلے کودے اور بیشک ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (یعقوب نے) کہا : تمہارے اس کو لے جانے سے میں (اس کی جدائی میں) ضرور غمگین ہوں گا اور مجھے اندیشہ ہے کہ تم اس سے غافل ہو گے اور بھیڑیا اس کو کھاجائے گا انہوں نے کہا : ہماری پوری جماعت کے ہوتے ہوئے اگر اس کو بھیڑیا کھا گیا تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ (یوسف : ١٤۔ ١١) 

حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو بھیڑیے کا خطرہ

اس لیے تھا کہ انہوں نے خواب میں یہ دیکھا تھا کہ بھیڑیئے نے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر حملہ کیا ہے۔

ایک قول یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے خواب دیکھا تھا کہ وہ پہاڑ کی بلندی پر ہیں اور حضرت یوسف وادی کے نیچے ہیں اچانک دس بھیڑیوں نے حضرت یوسف کو گھیر لیا وہ ان کو پھاڑ کھانا چاہتے تھے پھر ایک نے ان کو ہٹایا پھر زمین پھٹ گئی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) اس میں تین دن تک چھپے رہے۔ ان دس بھیڑیوں سے مراد ان کے دس بھائی تھے جب وہ حضرت یوسف کو قتل کرنے کے درپے ہوئے اور جس نے ان کو ہٹایا وہ ان کا بڑا بھائی یہوذا تھا اور زمین میں چھپنے سے مراد حضرت یوسف کا تین دن کنوئیں میں قیام کرنا ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ اس لیے کہا تھا کہ ان کو ان بھائیوں سے خطرہ تھا اور آپ کی بھیڑیئے سے مراد یہی لوگ تھے۔ حضرت یعقوب کو ان لوگوں سے یہ خطرہ تھا کہ وہ حضرت یوسف کو قتل کردیں گے اور آپ نے کنایتاً ان ہی کو بھیڑیا فرمایا تھا۔

حضرت ابن عباس نے فرمایا : حضرت یعقوب نے ان کو بھیڑیا فرمایا تھا

ایک اور قول یہ ہے کہ حضرت یعقوب کو ان بھائیوں سے خطرہ نہیں تھا اگر آپ کو ان سے خطرہ ہوتا تو آپ حضرت یوسف کو ان کے ساتھ نہ بھیجتے آپ کو دراصل بھیڑیئے ہی کا خطرہ تھا کیونکہ اس علاقہ کے صحاریٰ میں بھیڑیئے بہت زیادہ تھے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩ ص ١٢٤)

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے کہا : اگر اس کو بھیڑیا کھا گیا تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والے ہوں گے اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اگر ایسا ہوگیا کہ ہمارے ہوتے ہوئے یوسف کو بھیڑیا کھا گیا تو لوگ ہمیں نقصان زدہ کہیں گے

اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اگر ہم اپنے بھائی کی حفاظت نہ کرسکے تو پھر اپنی بکریوں اور بھیڑیوں کی حفاظت بھی نہ کرسکیں گے اور ہمارے مویشی ہلاک ہوجائیں گے اور ہم نقصان اٹھائیں گے

اس کا تیسرا محمل یہ ہے کہ ہم دن رات محنت مشقت کر کے اپنے باپ کی خدمت کرتے ہیں تاکہ اس کی دعا اور ثنا حاصل کریں اب اگر یوسف کو ہمارے ہوتے ہوئے بھیڑیا کھا گیا تو ہم اپنے باپ کی ناراضگی مول لیں گے اور اس کی دعا اور ثناء سے محروم ہوں گے اور ہماری پچھلی تمام خدمات ضائع ہوجائیں گی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 11