أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَقَدۡ كَانَ فِىۡ يُوۡسُفَ وَاِخۡوَتِهٖۤ اٰيٰتٌ لِّـلسَّآئِلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک یوسف اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں پوچھنے والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک یوسف اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں پوچھنے والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں : (یوسف : ٧) 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصہ میں نشانیاں

علامہ قرطبی مالکی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں کہ یہود نے مدینہ میں سے کچھ لوگوں کو مکہ بھیجا کہ وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کریں کہ شام میں ایک نبی تھے ان کا بیٹا مصر چلا گیا وہ اس کے فراق میں روتے ہوئے حتیٰ کہ نابینا ہوگئے۔ اس وقت مکہ میں اہل کتاب میں سے کوئی شخص نہیں تھا اور نہ کوئی ایسا شخص تھا جو انبیاء (علیہم السلام) کی خبریں جانتا تھا جب لوگوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے پوری سورة یوسف نازل فرما دی اس میں تورات میں مذکور واقعات کا بھی ذکر ہے اور اس سے زیادہ خبریں بھی ہیں اور سورة یوسف کا نزول نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بہت بڑا معجزہ تھا۔ (الجامع لاحکام القران جز ٩، ص ١١٥، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

اہل مکہ میں سے اکثر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رشتہ دار تھے اور وہ آپ کی نبوت کا انکار کرتے تھے اور حسد کی وجہ سے آپ سے شدید عداوت کا اظہار کرتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ بیان فرمایا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ان سے حسد کی وجہ سے ان کو بہت زیادہ ایذا پہنچاتے تھے انجام کار اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مدد کی اور ان کو قوت دی اور ان کے بھائیوں کو ان کا محتاج کردیا اور جب کوئی عقل والا اس قسم کا واقعہ سنے گا تو وہ حسد کرنے سے باز آجائے گا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خواب کی تعبیر بتائی تو اس تعبیر کو پورا ہونے میں اسی سال لگے اسی طرح جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مدد اور دشمنوں کے خلاف ان کی کامیابی کا وعدہ کیا اور اس وعدہ کے پورا ہونے میں کافی تاخیر ہوگئی تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ آپ معاذ اللہ جھوٹے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اسی طرح تھی سو اس اعتبار سے اس قصہ کا نازل کرنا آپ کے حالات کے موافق ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نقصان پہنچانے کی پوری کوشش کی لیکن جب اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ان کی مدد اور ان کی کامیابی کا وعدہ فرمایا تھا تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ کو مقدر فرمایا تھا اوہ اسی طرح پورا ہوا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دشمنوں کی کاوشیں کارگر نہ ہوئیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے نام ہم اس سورت کے تعارف میں ذکر کرچکے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 7