أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَذٰلِكَ يَجۡتَبِيۡكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ وَيُتِمُّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ وَعَلٰٓى اٰلِ يَعۡقُوۡبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰٓى اَبَوَيۡكَ مِنۡ قَبۡلُ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡحٰقَ‌ ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور اسی طرح تمہارا رب تمہیں منتخب فرمالے گا اور تمہیں خوابوں کی تعبیروں کا علم عطا فرمائے گا اور تم پر اور آل یعقوب پر اپنی نعمت کو مکمل فرمائے گا جس طرح اس سے پہلے اس نے اس نعمت کو تمہارے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر مکمل فرمایا تھا بیشک تمہارا رب خوب جاننے والا نہایت حکمت والا ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اسی طرح تمہارا رب تمہیں منتخب فرمائے گا اور تمہیں خوابوں کی تعبیروں کا علم عطا فرمائے اور تم پر اور آل یعقوب پر اپنی نعمت کو مکمل فرمائے گا۔ جس طرح اس سے پہلے اس نے اس نعمت کو تمہارے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر مکمل فرمایا تھا بیشک تمہارا رب خوب جاننے والا، نہایت حکمت والا ہے۔ (یوسف : ٦) 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مدح

یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے تم کو یہ عظیم خواب دکھا کر تم کو شرف بخشا ہے اور عزت اور فضیلت سے نوازا ہے۔ اسی طرح اللہ تالیٰ اور بڑے بڑے اور عظیم کاموں کے لیے تم کو منتخب فرمائے گا۔ حسن نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو نبوت کے لیے منتخب فرمائے گا اور دوسرے مفسرین نے کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارا درجہ بلند کرنے کے لیے اور تم کو عظیم مرتبہ دینے کے لیے منتخب فرمائے گا۔ النحاس نے کہا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مدح فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے خزانوں پر اقتدار اور خواب کی تعبیروں کا جو علم عطا فرمایا ہے۔ ان نعمتوں کی اجمالی بشارت دی ہے۔ 

تاویل الاحادیث کے محامل

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم کو تاویل احادیث کی تعلیم دے گا آیت کے اس حصہ کی کئی تفسیریں کی گئی ہیں ایک یہ ہے کہ تاویل احادیث سے مراد ہے خوابوں کی تعبیر اور اس کو تاویل احادیث اس لیے فرمایا کہ تاویل کا لفظ اول سے بنا ہے اور اول کا معنی ہے لوٹنا اور رجوع کرنا اور انسان خواب میں جو باتی سنتا ہے بعد میں اس کے تحقق اور ثبوت کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس لیے تاویل احادیث کی تفسیر خوابوں کی تعبیر سے کی گئی ہے اور تاویل اہادیث کی تفسیر خوابوں کی تعبیر سے کی گئی ہے اور تاویل احادیث کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ آسمانی کتابوں میں جو باتیں لکھی ہوئی تھی اور انبیاء متقدمین کی جو احادیث اور ان کے جو ارشادات تھے اللہ تعالیٰ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان احادیث کی تعلیم دی اور اس کی تیسری تفسیر یہ ہے کہ احادیث حدیث کی جمع ہے اور حدیث قدیم کا مقابل ہے یعنی حادث اور تاویل کا معنی ہے مال اور حوادث کا مال اللہ تعالیٰ کی قدرت اس کی تکوین اور اس کی حکمت ہے یعنی اللہ تعالیٰ ی جسمانی اور روحانی مخلوقات کی اصناف اور اقسام سے اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی جلالت پر استدلال کرنا۔ 

تکمیل نعمت کا معنی

اس کے بعد فرمایا : اور تم پر اور آل یعقوب پر اپنی نعمت کو مکمل فرمائے گا نعمت کی تکمیل کی بھی دو تفسیریں کی گئی ہیں ایک یہ ہے کہ نعمت کو اس طرح کامل کردینا کہ وہ ہر قسم کے نقصان سے محفوظ ہو اور ایسی نعمت انسان کے حق میں صرف نبوت ہے کیونکہ مخلوق کے تمام مناصب، منصب نبوت کے مقابلہ میں ناقص ہیں اور انسان کے حق میں تمام مطلق اور کمال مطلق صرف نبوت ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا : جس طرح اس سے پہلے اس نے نعمت کو تمہارے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر مکمل فرمایا تھا اور وہ نعمت جو حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے باپ دادا میں مشترک ہے وہ صرف نبوت ہے کیونکہ اسی نعمت کی وجہ سے حضرت ابراہیم اور اسحاق کو باقی انسانوں سے امتیاز حاصل ہوا لہٰذا اس آیت میں تکمیل نعمت سے مراد نبوت ہے۔ نیز اس آیت میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے فرمایا ہے : اور تم پر اور آل یعقوب پر اپنی نعمت مکمل فرمائے گا۔ اس آیت میں آل یعقوب سے مراد ان کے صلبی بیٹے نہیں ہیں بلکہ ان کی ذریت ہے جیسا کہ ہم نے پہلے دلائل سے واضح کردیا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صلبی بیٹوں کو نبوت نہیں دی گئی تھی۔ علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ حضرت یوسف کو خواب کی تعبیر کا علم چالیس سال کے بعد دیا گیا تھا اور ان کی تعبیر میں کبھی خطا واقع نہیں ہوئی اور یہ ان کا معجزہ تھا۔ ان کو خواب کی تعبیر کا علم سب سے زیادہ تھا اسی طرح ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی سب سے زیادہ خواب کی تعبیر کا علم تھا اور امت میں یہ علم سب سے زیادہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو تھا اور امام ابن سیرین کو بھی اس کا علم بہت زیادہ تھا اور اس کے قریب سعید بن مسیب کو اس کا علم تھا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ١١٥، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 6