’’چشتی رسول اللہ‘‘ کے مسئلہ پر جناب محترم رضاء الدین صدیقی دام ظلہ کا تبصرہ

 

ایک بہت ھی فاضل دوست نے خاکسار سے ایک ملفوظ کی بابت استفسار فرمایا ھے جو حضرت خواجہ معین الدین اجمیری رح کی طرف منسوب کیا جاتا ھے

میں کبھی بھی کتب تصوف کا نہ تومحقق و مدیر یا ھوں نہ مدون کچھ معمولی سا مطالعہ ھے اس لئیے میں اپنے کچھ خیالات اھل تحقیق کے سامنے رکھنا چاہتا ھوں تاکہ وہ ان کو کچھ قابل التفات سمجھیں تو ان کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں

چشتی رسول اللہ والا ملفوظ وضعی ھے فواد الفواد شریف میں نہیں ھے

اس کا ذکر شاید سب سے پہلےحضرت نصیر الدین چراغ دھلی کے ملفوظات میں ھے

یوں محسوس ھوتا ھے کسی نے بہت بعد میں یا اردو ترجمہ کرتے ھوے حضرت نصیر الدین چراغ دھلوی کے ملفوظات میں داخل کیا ھے

وجوھات درج ذیل ھیں

؛ خواجہ غریب نواز کے عہد میں یہ سلسلہ ابھی چشتی کے نا م سے معروف ھی نہیں تھا

؛ آپ نے اپنے نامی کے ساتھ کبھی چشتی استعمال ھی نہیں فرمایا

اس زمانے میں عموما بزرگان دین اور اھل علم اپنے نام کے ساتھ شہروں یا خطوں کے نام سے پہچانے جاتے تھے

آپ معین الدین حسن سنجری یا سجزی سے معروف تھے

جو دیوان آپ سے منسوب کیا جاتا ھے اس میں معینی تخلص سے

اگرچہ حضرت علو ممشاد دینوری رح کی بشارت میں سلسلہ کے نام کی بھی پیشین گوئ ھے لیکن بطور سلسلہ یہ نام بہت بعد میں رائج ھوا

شروع میں جو مشائخ قصبہ چشت صوبہ ھرات سے تعلق رکھتے تھے وہ اور ان کی اولاد چشتی کہلاتی تھی

حضرت خواجہ قطب الدین مودو چشتی رح سے یہ سلسلہ حضرت حاجی شریف زندنی رح ملا ان سے حضرت حضرت عثمان ھرونی جو اب ھارونی مستعمل ھے یہ اور ان کے خلفا اپنے نام کے ساتھ چشتی نہ لکھتے یا کہلاتے تھے

بلوچستان اور دکن وغیرہ میں حضرت مودود چشتی رح کی جو اولاد امجاد آئ وہ بھی بالعموم مودودی کہلاتی ھے

چشتی لفظ کا استعمال ھمیں برصغیر میں سب سے پہلے حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کی اولاد میں ملتا ھے اور آج بھی سرائیکی علاقوں میں چشتی سے مراد باوا صاحب کی اولاد امجاد ھوتی ھے نامور برزگ حضرت سلیم چشتی جن کے دربار پراکبر حاضر ھوا باوا صاحب کی اولاد میں ھیں

خواجہ نظام الدین اولیا رح جب اپنے مشائخ کا ذکر کرتے ھیں تو خواجگان ما یا مشائخ ما سے فرماتے ھیں مشائخ چشت یا خوجگان چشت کا لفظ استعمال ھی نہیں کرتے

سلسلوں کےحوالے سے تشخص برصغیر میں غالبا سلاطین کے آخری دور میں شروع ھوگیا اور عہد اکبری تک چار بڑے نام رائج ھوگۓ

حضرت نصیرالدین چراغ دھلی شرعی امور میں حد درجہ احتیاط کے عادی تھے حتی کہ اس ان معاملات میں کوئ ان کے شیخ کا حوالہ بھی دیتا تو بلاتکلف فرماتے (اس میں ) قول شیخ حجت نہیں ھے قرآن اور حدیث سے دلیل لاؤ اور ان کے شیخ حضرت نظام الدین اولیاء رح ان کی اس بات پر مسرت اور تصدیق بھی فرماتے یہ کیسے ممکن ھے کہ اتنا محتاط انسان اس ملفوظ کے مضمرات کی طرف متوجہ نہ ھو

جہاں تک تعلق ھے ملفوظات کی کتابوں کا ان پر تو جامعات کی سطع پر تحقیقات ھو چکی ھیں

ڈاکٹر نثار احمد فاروقی ڈاکٹر حبیب احمد ڈاکٹر خلیق نظامی پروفیسر محمد اسلم اور دیگر کئ ایک محقق فواد الفواد کے علاوہ سب کو جعلی سمجھتے ھیں

لیکن علامہ اخلاق حسین دھلوی اور صباح الدین عبدالرحمن ان کے وجود کے تو قائل ھیں لیکن ان میں قطع وبرید کے بھی قائل ھیں اور کہتے ھیں کہ بہت احتیاط سے ان سے بات اخذ کرنی چاہیے

۱۹۹۰ میں اس موضوع پر دو کتابیں نقد ملوظات(نثار احمد فاروقی ) اورآئینہ ملفوظات (اخلاق حسین دھلوی ) میرے پاس تھیں ایک نشست میں پروفیسر منور مرزا مرحوم نے اس موضوع پر دلچشپی کا اظہار کیا تو دونوں کتابیں انھیں پیش کردیں جس پر انھوں نے فرمایا تم آدمی خطرناک ھو

مجھے یوں محسوس ھوتا ھے کہ جب برصغیر میں اشرف علی رسول اللہ کے حوالے سے لے دے شروع ھوئ تو یار لوگوں نے چپکے سے ملفوظات کے ایک مختصر نسبتاغیر معروف اور اس وقت غیر مطبوعہ مجموعے میں اسے شا مل کردیا تاکہ معاملہ بیلنس ھوجاۓ

اور سب سے پہلے جوابا اس ملوظ کو اجاگر بھی انھوں نے کیا ھے اور طبع بھی ادھر سے ھی ھوا

اس طرح کا ایک قول حضرت ابوبکر شبلی رح کہ طرف بھی منسوب ھے اب سوال یہ ھے اسے خواجہ صاحب کی طرف کس مقصد سے جوڑا گیا شاید برصغیر کے عوامی مزاج میں ان کی شخصیت اتنی معروف نہیں تھی کہ متاثر کن حوالہ بنے اس لیے خواجہ صاحب کا نام استعمال کیا

اب کوئ صاحب مسلسل لے دے کر رھے ھیں کہ یہ بریلویوں کا عقیدہ ھے

بریلویوں کا اس میں کیا عمل دخل ؟ اول تو کتاب کا انتساب ھی مشکوک ھے کب نقل ھوئ کتنے لوگوں سے نقل ھوئ کب پہلی بار منظر عام پر آئ اور کب ترجمہ ھوئ کس نے طبع کی

بریلوی علما ء و عوام میں نہ یہ واقعہ رائج ھے نہ محفلوں میں بیان ھوتا ھے نہ ان کے مسلک اور عقیدے کا حصہ ھے اور ھی وہ اسے کسی تاویل سے جائز کہتے ھیں جب کہ خواجہ صاحب کی خدمات و کرامات کا بیان بہت عام بھی ھے

اب کوئ یہ کہے کہ کتاب چھپ کیوں رھی ھے تو اس میں عوام وعلما ء کا کیا قصور یہاں تو بہت کچھ غیر معیاری چھپ رھا ھے تاجر۔ جسے سیلز آئٹئٹم سمجھتے ھیں طبع کردیتے ھیں کوئ ان کا احتیاط سے انتخاب مرتب کردے تو وہ بھی شائع کردیں گے

کئ کتابیں ایسی ھیں بہت سے لوگوں پورے وثوق اور تیقن سے کہتے ھیں کہ ان کی نہیں ھے یا اکثر حصہ جعلی ھے لیکن چھپ رھی ھیں

اگر کوئ صاحب علمی کتابی ھونے کے دعویدار ھیں توانھیں اعلی پایہ کے محقین کی آراء نظر کیوں نہ آئیں اور انھوں نے علمی دیانت داری سے یہ بیان کیوں نہ کیا کہ یہ علماء و اھل تحقیق کا مصدقہ یا متفقہ واقعہ نہں ھے اس مطلب کہ وہ بھی اپنے پیرکاروں میں بس اپنا مطلوبہ مقصد ھی سامنے لاتے ھیں تصویر کے دونوں رخ نہیں

جہاں تک ان کتابوں پر نظرثانی تحقیق تدوین کا تعلق ھے یہ بہت ضروری ھے حکیم محمدموسی ارتسری رح سے میں نے خود سنا کہ تصوف کوسب سےزیادہ نقصان ملفوظات کی غیر محتاط اشاعت سے ھوا ھے

خاکسار اس وقت بیرونی سفر پر ھے جہاں کوئ حوالہ وغیرہ نہیں ھے اور نہ ھی موجودہ حالات میں ان تک رسائ ممکن ھے میں نے اپنے اندازے آپ کے گوش گزار کردیے کیا ھی اچھا ھو کہ آپ ڈاکٹر معین نظامی جیسی شخصیت سے رھنمائ لے کر اس موضوع پر کسی نوجوان سے باقاعدہ کام کروائیں

امید ھے کہ اھل علم اس موضوع پر جذباتی ھونے کی بجاۓ رھنمائ دیں گے

ا