أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَجَآءُوۡۤ اَبَاهُمۡ عِشَآءً يَّبۡكُوۡنَؕ ۞

ترجمہ:

اور وہ رات کے وقت اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ رات کے وقت اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے انہوں نے کہا : اے ابا ! ہم ایک دوسرے کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کر رہے تھے اور ہم نے یوسف کو اپنے سامان کے ساتھ چھوڑ دیا تھا پس اس کو بھیڑیئے نے کھالیا اور آپ ہماری بات ماننے والے نہیں ہیں خواہ ہم سچے ہوں اور وہ اس کی قمیص پر جھوٹا خون لگا لائے (یعقوب نے) کہا : (بھیڑیئے نے تو خیر نہیں کھایا) بلکہ تمہارے دل نے ایک بات گھڑ لی ہے پس اب صبر جمیل کرنا ہی بہتر ہے اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مطلوب ہے۔ (یوسف : ١٨۔ ١٦) 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا حضرت یعقوب کو حضرت یوسف کی خبر دینا

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی رات کے وقت اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے رات کے وقت کا انتخاب انہوں نے اس لیے کیا تھا کہ یہ وقت ان کے عذر پیش کرنے کے لیے زیادہ مناسب تھا۔ روایت ہے کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کے رونے کی آواز سنی تو پوچھا : کیا ہوا ؟ کیا تمہاری بکریوں کو کوئی حادثہ پیش آگیا ؟ انہوں نے کہا : نہیں ! پوچھا : یوسف کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم آپس میں دوڑنے کا مقابلہ کر رہے تھے تو اس اثناء میں اس کو بھیڑیا کھا گیا۔ حضرت یعقوب نے ایک چیخ ماری اور رونے لگے ایک روایت میں ہے کہ جب انہوں نے کہا : اس کو بھیڑیا کھا گیا تو حضرت یعقوب بےہوش ہو کر گرگئے۔ انہوں نے ان کو ہوش میں لانے کے لیے پانی کے چھینٹے مارے لیکن انہوں نے حرکت نہ کی پھر انہوں نے ان کو پکارا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا پھر یہوذا نے ان کے سانس نکلنے کے مواضع پر ہاتھ رکھا تو اس کو ان کے سانس لینے کا پتا نہیں چلا تب یہوذا نے کہا : قیامت کے دن ہمیں سخت عذاب ہوگا ہم نے اپنے بھائی کو ضائع کردیا اور اپنے باپ کو قتل کردیا پھر سحری کے وقت سے پہلے حضرت یعقوب کو ہوش نہیں آیا اس وقت حضرت یعقوب کا سر رو بیل کی گود میں تھا حضرت یعقوب نے اس سے کہا : کیا میں نے اپنے بیٹے کو تمہارے پاس امانت نہیں رکھا تھا ؟ اور کیا میں نے تم سے پختہ عہد نہیں لیا تھا ؟ اس نے کہا : اے ابا ! اپنا رونا بند کریں تو میں آپ کو اس کا سبب بتائوں پھر کہا : ہم آپس میں دوڑنے کا مقابلہ کر رہے تھے اور یوسف کو ہم نے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا اس اثناء میں اس کو بھیڑیا کھا گیا پھر حضرت یعقوب نے پوچھا : اس کی قمیص کہاں ہے ؟ تو انہوں نے حضرت یعقوب کے چہرے پر وہ قمیص پھینک دی حتیٰ کہ حضرت یعقوب کے چہرے پر بھی قمیص کا رنگ لگ گیا۔ (جامع البیان جز ١٢ ص ٢١١، الجامع لاحکام القرآن جز ٩ ص ١٢٨) 

دوڑ میں مسابقت کے متعلق احادیث اور ان کی شرح

نستبق کا مادہ سبقت ہے یعنی مقابلہ میں دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا یہ مقابلے تیر انداز میں گھوڑے کی سواری میں اور دوڑنے میں ہوتے ہیں اور دوڑ میں مقابلہ سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ دشمن سے مقابلہ کی مشق اور ہاتھ پیر مضبوط ہوں اور بھیڑیوں کو بکریوں کے پاس سے بھگانے میں مہارت ہو نستبق کا معنی ہے ہم دیکھیں کہ ہم میں سے کون آگے نکلتا ہے۔

علامہ ابن العربی نے کہا : مسابقت سابقہ شریعتوں میں بھی تھی یہ عمدہ خصلت ہے اور اس سے جنگ میں مشق اور مہارت حاصل ہوتی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بھی دوڑ میں مقابلہ کیا ہے اور گھوڑوں کی دوڑ کا مقابلہ بھی کرایا ہے۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر میں تھیں، آپ نے حضرت عائشہ (رض) کے ساتھ دوڑ میں مقابلہ کیا حضرت عائشہ آپ سے آگے نکل گئیں (حضرت عائشہ فرماتی ہیں) پھر جب میرا بدن بھاری ہوگیا تھا تو میں نے ایک بار پھر مقابلہ کیا اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے آگے نکل گئے۔ آپ نے فرمایا : یہ پچھلی بار کا بدلہ ہے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٥٧٨، مسند احمد ج ٦ ص ٣٩، ٣٦٤، قدیم ٢٦٣٣٧، جدید دارالفکر، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : السنن الکبریٰ للبیہقی ج ١٠ ص ١٨)

امام مسلم نے حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے ایک طویل حدیث روایت کی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ ذی قرد سے مدینہ کی طرف واپس جارہے تھے انصار میں ایک شخص تھا جو دوڑ میں کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہا تھا اس نے حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کو للکارا کہ دیکھیں پہلے کون مدینہ پہنچتا ہے۔ حضرت سلمہ بن اکوع نے اس چیلنج کو قبول کرلیا اور اس سے پہلے مدینہ پہنچ گئی۔ (صحیح مسلم الجہاد : ١٣٢، (١٨٠٧) الرقم المسلسل : ٤٥٩٧)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھوڑوں کے درمیان بھی مقابلہ کرایا اس کا ذکر اس حدیث میں ہے : حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جن گھوڑوں کو اضمار کیا گیا تھا ان کا مقابلہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حفیاء سے لے کر ثنیتہ الوداع تک کرایا اور جن گھوڑوں کو اضمار نہیں کیا گیا تھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا مقابلہ ثنیتہ الوداع سے مسجد بنو زریق تک کرایا۔ حضرت ابن عمر بھی ان لوگوں میں سے تھے جن کے درمیان مقابلہ کرایا گیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٢٠، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٥٧٥، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٤٢٢٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٧٠، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٦٩٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٨٧٧، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٦٨٦، مسند احمد ج ٢ ص ٥٦)

اضمار کا معنی یہ ہے کہ ایک مدت تک گھوڑے کو کھانے کے لیے معمول سے کم چارہ ڈالا جائے اور اس کو ایک کوٹھڑی میں بند کر کے رکھا جائے حتیٰ کہ اس کو خوب پسینہ آئے پھر اس کے بعد اس کو معمول کے مطابق چارہ ڈالا جائے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گھوڑوں کے درمیان مقابلہ کرانے کی تین شرطیں ہیں : ایک یہ ہے کہ مقابلہ کی مسافت معین ہونی چاہیے دوسری یہ کہ دونوں فریقوں کے گھوڑے مساوی صفت کے ہونے چاہئیں یا دونوں مضمر ہوں یا دونوں غیر مضمر ہوں علی ھذا القیاس اور تیسری شرط یہ ہے کہ یہ مشق ان گھوڑوں میں کرائی جائے جن کو جہاد کے لیے تیار کیا جارہا ہو یا مسلمانوں کے مصالح اور ان کے کام آنے کے لیے گھوڑوں کو رکھا گیا ہو نہ کہ مسلمانوں میں باہمی قتال کے لیے۔ اور نیزہ بازی اور اونٹوں میں دوڑ کا مقابلہ کرانے کے متعلق یہ حدیث ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نیزہ بازی اور اونٹوں اور گھوڑوں میں مقابلہ پر اول آنے والے کے لیے انعام کے سوا اور کسی چیز میں سبقت کرنے والے کے لیے انعام لینا جائز نہیں ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٧٠٠، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٥٧٤، سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٥٨٩، مسند احمد ج ٢ ص ٢٥٦، ٣٨٥، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٦٩٠، مسند شافعی ج ٢ ص ١٢٩۔ ١٢٨)

نیزہ بازی کے مقابلہ میں تیراندازی کا مقابلہ بھی داخل ہے اور اونٹ اور گھوڑوں کے مقابلہ میں ہاتھی، خچر اور گدھا بھی داخل ہے اور بعض علماء نے آدمیوں کی دوڑ کو بھی اس میں شامل کیا ہے اور اس حدیث کا محمل یہ ہے کہ کوئی تیسرا فریق مقابلہ کرنے والے دو فریقوں میں سے اول آنے والے فریق کو انعام دے اس طرح کا انعام دینا جائز ہے اور اگر مقابلہ کرنے والے دو فریقوں میں سے اول نے والے فریق کو انعام دے اس طرح کا انعام دینا جائز ہے اور اگر مقابلہ کرنے والے دو فریق آپس میں شرط لگائیں کہ ہارنے والا جیتنے والے کو اتنی رقم دے گا تو یہ قمار اور جوا ہے البتہ پرندوں کے درمیان پیسوں کے عوض مقابلہ کرانے کے علماء نے ناجائز کہا ہے کیونکہ ان کا جہاد سے کوئی تعلق نہیں ہے ویسے اس دور میں تو اونٹوں، گھوڑوں، ہاتھیوں، گدھوں اور خچروں کا بھی جہاد سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جو لوگ گھوڑوں یا اونٹوں کا دوڑ میں مقابلہ کراتے ہیں وہ ان پر شرط رکھ کر جوا کھیلتے ہیں اس لیے آج کل کے دور میں اس قسم کے مقابلے جائز نہیں ہیں۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا وہ کبھی مقابلہ میں کسی سے پیچھے نہیں رہتی تھی۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی ایک اونٹ پر آیا اور وہ اس سے آگے نکل گیا۔ مسلمانوں کو اس بات سے بہت رنج ہوا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ جو چیز بھی دنیا میں سربلند ہو وہ اس کو سرنگوں کر دے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٨٧٢، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٥٩٠، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٠٣، مسند احمد رقم الحدیث : ١٢٠٣٣) 

دوڑ میں مسابقت کی شرط کے متعلق مذاہب فقہاء

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنا گھوڑا دو گھوڑوں کے درمیان داخل کیا اور اس کو اپنے مسبوق (مغلوب) ہونے کا خطرہ ہو تو یہ قمار (جوا) نہیں ہے اور جس شخص نے اپنا گھوڑا دو گھوڑوں کے درمیان داخل کیا اور اس کو اپنے مسبوق ہونے کا خطرہ نہ ہو (یعنی ہدف پر پہلے پہنچے اور جیت جانے کا یقین ہو) تو پھر یہ قمار (جوا) ہے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٥٧٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٨٧٦، سنن دار قطنی ج ٥ ص ١١١، المستدرک ج ٢ ص ١١٤، حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے اور ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے مسند احمد ج ٢ ص ٥٠٥، المعجم الصغیر رقم الحدیث : ٤٧٠، السنن الکبریٰ للبیہقی ج ١٠ ص ٢٠، تلخیص الحبیر رقم الحدیث : ٢٠٢٥)

اور دو گھوڑ سوار، دوڑ کا مقابلہ کریں اور ہر ایک مثلاً ایک ہزار روپیہ رکھ دے اور یہ شرط لگائیں کہ جو شخص ہدف پر پہلے پہنچ جائے گا وہ دونوں کا ہزار روپیہ لے لے گا تو یہ قمار اور جوا ہے اور اگر تیسرا شخص بھی ان کے ستھ شریک ہوجائے اور اس نے بالکل پیسے نہ لگائے ہوں اور اس کے لیے بھی ان دونوں کی طرح ہدف پر پہلے پہنچ جانا غیر یقینی ہو اور یہ طے کیا جائے کہ ان میں سے جو بھی پہلے پہنچ جائے وہ دو ہزار روپے لے لے گا، اگر وہ تیسرا شخص پہلے پہنچ گیا تو وہ دو ہزار روپے لے لے گا اور اگر وہ پہلے نہ پہنچ سکا تو اس کو کچھ نہیں ملے گا اور اس کو کچھ دینا بھی نہیں ہوگا اور اگر ان دونوں میں سے کوئی پہلے پہنچ گیا تو وہ دو ہزار روپے لے لے گا تو یہ صورت جائز ہے اور ان میں سے ہر ایک کا دو ہزار روپے لینا جائز ہے۔ علامہ ابو سلیمان حمد بن محمد الخطابی الشافعی المتوفی ٣٨٨ ھ لکھتے ہیں : جو تیسرا گھوڑا ان دو گھوڑوں کے درمیان داخل ہو اس کو محلل کہتے ہیں اور اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ وہ تیسرا گھوڑا سبقت کرنے والے کے لیے سبقت کا انعام حلال کر دے اور ان دونوں سواروں کے درمیان جو شرط لگائی گئی تھی کہ جو سوار پہلے پہنچے گا وہ اپنا اور دوسرے کا لگایا ہوا مال لے لے گا اور ان میں سے ایک فریق نقصان اٹھانے والا اور دوسرا فائدہ حاصل کرنے والا ہوگا تو وہ شرط ختم ہوجائے گی اور اس شرط کی وجہ سے وہ عقد جو جوا قرار پایا تھا اب اس تیسرے گھوڑے کے داخل ہونے کی وجہ سے حلال اور جائز ہوجائے گا اور اس محلل کے داخل ہونے کا یہ مقصد ہوگا کہ ان دونوں کے گھوڑا دوڑانے سے یہ قصد ہو کہ ان کو گھوڑا دوڑانے کی مشق ہو نہ کہ مال کے حصول کی اور جبکہ محلل کا گھوڑا بھی ان دونوں کے گھوڑوں کی مثل تیز رفتار ہوگا تو ان دونوں کو اس کے ہدف پر پہلے پہنچ جانے کا خطرہ رہے گا اور وہ زیادہ سے زیادہ تیز گھوڑا دوڑانے کی کوشش کریں گے اور اگر محلل کا گھوڑا ان کے گھوڑے کی طرح تیز رفتار نہ ہو بلکہ مریل اور سست رفتار ہو تو ان کو اس کے پہلے پہنچنے کا خطرہ نہیں ہوگا اور پھر تحلیل کا معنی حاصل نہیں ہوگا اور اس کا درمیان میں گھوڑا داخل کرنا لغو قرار پائے گا اور پھر ان دونوں کی لگائی ہوئی شرط اپنے حال پر رہے گی اور ان میں سے جو فریق بھی دونوں کا مال حاصل کرے گا وہ جوئے کے ذریعے کمایا ہوا مال ہوگا اور حرام ہوگا۔ گھوڑوں میں مسابقت اور شرط لگانے کی صورت یہ ہے کہ دو گھڑ سوار ہدف پر پہلے پہنچنے کی شرط لگائیں اور ان میں سے ہر فریق ایک معین رقم (مثلاً ہزار روپے) نکالے کہ جو پہلے ہدف پر پہنچے گا وہ دونوں کی رقم (یعنی دو ہزار روپے) لے لے گا پھر وہ دونوں کسی تیسرے گھڑ سوار کو جس کا گھوڑا ان کے گھوڑے کی مثل ہو اپنے درمیان داخل کردیں اور یہ طے کریں کہ جو ہدف پر پہلے پہنچے گا وہ اس مال کو لے لے گا اور محلل کو کوئی چیز دینی لازم نہیں آئے گی پس اگر محلل پہلے پہنچ گیا تو وہ ان دونوں کا مال لے لے گا اور محلل کی ضرورت اس وقت ہوگی جب دو فریقوں کے درمیان شرط ہو لیکن اگر امیر یا سربراہ دو گھوڑ سواروں کے درمیان مقابلہ کرائے اور یہ کہے کہ مثلاً تم میں سے جو پہلے ہدف پر پہنچ گیا اس کو دس درہم انعام ملے گا یا ایک شخص اپنے ساتھی سے کہے : اگر تو فلاں سے پہلے پہنچ گیا تو تجھے دس درہم ملیں گے تو یہ صورتیں بغیر محلل کے جائز ہیں اور اس حدیث میں یہ دلیل ہے کسی مباح چیز تک ذرائع سے پہنچنا جائز ہے اور یہ حیلہ مکروہہ نہیں ہے۔ (معاملم السنن مع مختصر سنن ابودائود ج ٣ ص ٤٠١۔ ٤٠٠، مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں : دوڑ میں سبقت کی تین صورتیں ہیں :

(١) حاکم یا حاکم کے علاوہ کوئی اور شخص یہ کہے کہ جو شخص دوڑ میں اول نمبر آئے گا میں اس کو اپنے مال سے اتنا انعام دوں گا پس جو شخص دوڑ میں اول آئے وہ اس انعام کو حاصل کرے گا۔

(٢) دو شخص دوڑنے کا مقابلہ کریں اور ان میں سے ایک شخص اپنے مال میں سے مثلاً ایک ہزار روپے نکالے اور کہے کہ ہم میں سے جو شخص سبقت کرے گا یعنی ہدف پر پہلے پہنچے گا وہ یہ ایک ہزار روپے حاصل کرلے گا اور دوسرا شخص کچھ نہ کہے پھر اگر رقم رکھنے والا شخص پہلے پہنچا تو وہ ایک ہزار روپے حاصل کرے گا اور اگر اس کا ساتھی پہلے پہنچ گیا تو وہ اس ہزار روپے کو حاصل کرلے گا۔ ان دونوں صورتوں کے جائز ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔

(٣) تیسری صورت مختلف فیہ ہے اور وہ یہ ہے کہ دو مقابلہ کرنے والوں میں سے ہر شخص ایک معین رقم (مثلاً ایک ہزار روپے نکالے) اور پھر وہ یہ طے کریں کہ ان میں سے جو شخص بھی ہدف پر پہلے پہنچ گیا وہ دونوں کی رقم (یعنی دو ہزار روپے) لے لے گا یہ صورت جائز نہیں ہے حتیٰ کہ وہ دونوں اپنے درمیان ایک ایسے محلل کو داخل کرلیں جس سے ان دونوں کو یہ خطرہ ہو کہ وہ ان سے پہلے پہنچ سکتا ہے پس اگر محلل پہلے پہنچ گیا تو اہ ان دونوں کی رقم حاصل کرے گا اور اگر ان دونوں میں سے کسی نے سبقت کی تو جس نے بھی سبقت کی وہ دونوں کی رقم لے لے گا اور محلل کو کچھ نہیں ملے گا اور نہ اسے کوئی چیز دینی ہوگی اور اگر ان میں سے دوسرے نے صرف تیسرے پر سبقت کی تو گویا اس نے کسی پر سبقت نہیں کی اور علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر ان دونوں کے درمیان محلل نہ ہو اور دو مقابلہ کرنے والوں نے یہ شرط لگائی ہو کہ جس نے بھی سبقت کی وہ اپنی رقم اور دوسرے کی رقم لے لے گا تو یہ صراحتاً جوا ہے اور جائز نہیں ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩ ص ١٣٠، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

علامہ علاء الدین محمد بن علی حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ اور علامہ سید محمد امین ابن عابد بن شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : اگر مسابقت میں ایک جانب سے مال کی شرط لگائی گئی تو یہ عقد لازم ہے اور اگر مسابقت میں دونوں جانب سے شرط لگائی گئی تو یہ حرام ہے کیونکہ اب یہ قمار ہے (جوئے کو قمار اس لیے کہتے ہیں کہ قمار کا معنی کبھی گھٹنا اور کبھی بڑھنا ہوتا ہے اور جوا کھیلنے والوں میں سے ہر فریق کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ دوسرے فریق کا مال لے لے اور دوسرے کا مال بلاعوض لینا قرآن مجید کی نص قطعی سے حرام ہے اور جب صرف ایک جانب سے شرط ہو تو وہ اس طرح نہیں ہے) ہاں اگر وہ دونوں اپنے درمیان ایسے محلل کو داخل کرلیں جس کا گھوڑا ان کے گھوڑے کی مثل ہو تو پھر یہ جائز ہے جبکہ اس سے یہ خطرہ ہو کہ وہ ان دونوں سے پہلے ہدف پر پہنچ سکتا ہو ورنہ اس کا محلل ہونا جائز نہیں ہے۔ پھر اگر محلل ان دونوں سے پہلے پہنچ گیا تو وہ ان دونوں کی رقم حاصل کرلے گا اور اگر وہ دونوں اس پر سبقت کر گئے تو وہ اس کو کچھ نہیں دیں گے اور ان دونوں میں سے دونوں کی رقم وہ لے گا جو پہلے ہدف پر پہنچے گا۔ (الدر المختار و رد المختار، ج ٥ ص ٢٥٨، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٠٧ ھ)

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) میں گھوڑا دوڑانے کا مقابلہ ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے پہنچے اور حضرت ابوبکر کا گھوڑا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھوڑے کے دھرکے قریب تھا اور حضرت عمر کا گھوڑا تیسرے نمبر پر تھا۔ 

انعام بانڈز کے جواز کی بحث

ہم نے اس بحث میں مسابقت کی شرط لگانے کے احکام بیان کیے ہیں اور یہ بیان کیا ہے کہ ایک جانب سے شرط لگانا جائز ہے اور دونوں جانب سے شرط لگانا حرام ہے اور ناجائز ہے اور یہ جوا ہے اس بنا پر لاٹری اور معمہ اور گھوڑوں یا اونٹوں کی مروجہ ریس جائز نہیں ہے البتہ انعامی بانڈز جائز ہیں کیونکہ ان کی باقاعدہ خریدو فروخت ہوتی ہے اور انسان جتنے کا بانڈ خریدتا ہے۔ وہ جب چاہے اس بانڈ کو اتنے میں فروخت کرسکتا ہے اس پر خواہ کتنی مدت گزر جائے اس کی رقم میں اضافہ ہوتا ہے نہ کمی ہوتی ہے اس میں قمار ہے نہ سود ہے اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ ان بانڈز کی مجموعی رقم پر جو سود بنتا ہے حکومت اس سود میں سے انعامات تقسیم کرتی ہے یہ محض ایک مفروضہ ہے حکومت نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا اور نہ ہی اسٹیٹ بینک میں الگ الگ خانے بنے ہوئے ہیں کہ فلاں خانہ میں بانڈز کے سود کی رقم پڑی ہوئی ہے اور اس میں سے انعامات تقسیم کیے جاتے ہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ اسٹیٹ بینک کے ڈپازٹ میں جو رقم ہے اس میں سود کی آمیزش ہے اور اسی رقم سے انعامات تقسیم کیے جاتے ہیں تو پھر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بھی اسی رقم سے دی جاتی ہیں وہ بھی ناجائز ہونی چاہئیں بلکہ اسٹیٹ بینک یا کسی بھی بینک سے جو بھی رقم نکالی جائے گی وہ ناجائز ہوگی کیونکہ ہر بینک سودی کاروبار کرتا ہے اور اس کے ڈپازٹ میں جو بھی رقم ہوتی ہے اس میں سود سے حاصل کردہ رقم بھی ہوتی ہے اور اگر اس سودی آمیزش کے باوجود سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور باقی مدات میں نکالی ہوئی رقمیں جائز ہیں تو انعامات تقسیم کرنے کے لیے جو رقومات نکالی جائیں گی وہ کیوں کر ناجائز ہوں گی۔ ہم نے شرح صحیح مسلم جلد رابع میں انعامی بانڈز کے جو از پر دلائل دیئے تھے بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ فیڈرل شریعت کورٹ نے انعامی بانڈز کو ناجائز اور حرام قرار دیا ہے پھر بعد میں مشتاق علی ایڈو وکیٹ نے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ دائر کی تو سپریم کورٹ نے اکثریتی فیصلہ کی بنیاد پر فیڈرل شریعت کو رٹ کے فیصلہ کو مسترد کردیا اور انعام بانڈز کے کارور کو جائز قرار دیا ہم اس مسئلہ کی وضاحت سے پہلے لاٹری اور قمار سے متعلق تعزیرات پاکستان سے اقتباس پیش کریں گے پھر سپریم کورٹ کے دو ججوں جسٹس پیر محمد کرم شاہ اور جسٹس شفیع الرحمن کے فیصلہ کی نقول پیش کریں گے۔ 

لاٹری اور قمار بازی کے متعلق تعزیرات پاکستان کی دفعات کی تشریح

(١) مقصد : لاٹری اور قمار بازی دونوں کا تعلق کیونکہ اتفاق اور قسمت آزمائی سے ہوتا ہے اس لیے لاٹری کا دفتر کھولنا یا لاٹری نکالنا، اس کی بابت اشتہار دینا یا اشاعت کر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ البتہ حکومت کی قائم کردہ یا منظور شدہ لاٹری اس ممانعت سے مستثنی کردی گئی ہے۔ دفعہ ٢٩٤ الف کا اطلاق ہر اس طریقہ کار پر ہوتا ہے جو سراسر اتفاق پر مبنی ہو چاہے عملی طور پر قرعہ نکالایا گیا ہو یا نہ نکالا گیا ہو۔ (پی ایل ڈی ١٩٥٨، لاہور ٨٨٧)

(٢) لاٹری : لاٹری ایک ایسا طیرقہ کار (سکیم) ہے جس سے قرعہ سے یا اتفاق پر مبنی طریقہ سے مبنی طریقہ سے انعامات کی تقسیم کی جائے یہ ایک اتفاق کا کھیل ہوتا ہے جس میں ٹکٹ خریدنے والے کے نفع یا نقصان کا انحصار قرعہ ڈالنے یا نکالنے پر ہوتا ہے ٹکٹ محض اتفاق کے خرید کی نشانی ہوتی ہے اور ٹکٹوں کی یہی خرید لاٹری کی روح ہوتی ہے۔ اگر کسی انعام کے مواقع یا اتفاق بلا قیمت فراہم کیے جائیں تو یہ لاٹری نہ ہوگی۔

لاٹری کا اصول یہ ہے کہ انعامات کی تقسیم محض اتفاق کی بنیاد پر کی جائے۔ اگر لاٹری کا نتیجہ یہ ہو کہ لاٹری کا منتظم انعامات تقسیم کیے بغیر ٹکٹوں کی ساری آمدنی خود رکھ لے تو بھی ایسی کاروائی لاٹری ہی تصور ہوگی۔ لہٰذا یہ ضروری نہیں ہے کہ روپیہ لگانے والوں کی رقم یا انعامات تقسیم کیے گئے ہوں۔ لاٹری کا ضروری عنصر یہ ہے کہ انعام یا انعامات تقسیم کرنے کی کوئی سکیم ہو جس کا دارومدار اتفاق پر ہو اور یہ کہ اگر اتفاق کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے کہ کسی شخص کو کوئی انعام نہ دیا جائے اور جو رقم دائود پر لگائی گئی ہو وہ منتظم کو مل جائے گی تو بھی سکیم لاٹری ہی سمجھی جائے گی۔ (پی ایل ڈی ١٩٥٨، لاہور ٨٨٧) لاٹری نکالنا کسی قرعہ یا اتفاق پر مبنی طریقہ سے انعام کا تقسیم کرنا ہے۔ اس میں متعلقہ شخص کی کسی مہارت، فن، ہنر یا مشق کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ (١٩١٧ پی آر نمبر ٣٥ ایک مقدمہ قرار دیا گیا ہے کہ اس امر سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لاٹری کسی حقیقی تجارتی کاروبار کا حصہ اور جزو ہے۔ (١٩١٥۔ بی ایل ٹی ١٢٤) جرم کے ثبوت کے لیے فی الواقع قرعہ اندازی ضروری ہے۔ لفظ ” نکالنا “ اس کے لغوی معنی میں لیا جائے گا اس لفظ سے ” اہتمام یا انتظام “ کے معنی نہیں لیے جاسکتے۔ (١٩٤٢ مدارس ٨٠٢) ” شائع کرنا “ کے الفاظ میں شائع کرانے والا اور شائع کرنے والا دونوں شامل ہیں یعنی اشتہار دینے والا اور شائع کرنے والا (اخبار کا مالک) دونوں شامل ہوتے ہیں۔ (١٥٨٥) ١٠ بمبئی ٩٧ ء) قانون کا منشاء یہ ہے کہ لوگ اتفاق اور نصیب آزمائی پر اپنا پیسہ برباد نہ کریں۔ اس کا انسداد اس طریقہ سے بھی کیا گیا ہے کہ لوگوں کو علم ہی نہ ہو سکے کہ کہاں یہ لاٹری ڈالی جانی ہے اور وہ ٹکٹ کہاں سے حاصل کرسکتے ہیں۔ اخبارات جو نشرو اشاعت کا بہترین ذریعہ ہیں دفعہ ہذا کے تحت لاٹری کے اشتہار کی اشاعت سے روک دیئے گئے ہیں تاکہ عوام کو معلوم نہ ہوسکے کہ اتفاق یا قسمت کے نام پر روپیہ بٹونے کا دھندا کہاں ہو رہا ہے۔ (١٧٩١) ٤ ٹی آر ٤١٤) ” مال “ میں منقولہ یا غیر منقولہ دونوں شامل ہیں۔ ایک فیکٹری نے اشتہار دیا کہ فیکٹری کا مال قرعہ اندازی سے بہت سستی قیمت پر خوش قسمت نمبر والے (لکی نمبر) کو دیا جائے گا تو ایسا امر دفعہ ہذا کے تحت جرم قرار دیا گیا۔ (١٩٢٦) ٥٠ مدراس ٤٧٩) اگر بہت سے لوگ مل کر کمیٹی ڈالیں اور مساوی طور پر رقم ڈالکر اس رقم سے قرعہ اندازی کر کے کسی ایک کو ساری رقم ادا کردیں اور وہ بقایا قرعہ اندازیوں میں اپنی قسط ادا کرتا رہے تو یہ لاٹری کی تعریف میں نہیں آئے گا۔ (١٨٩٨) ٢٢ مدراس ٢١٢) ایک مقدمہ میں ملزم سگریٹ کمپنی کا مالک تھا۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے لاٹری نکالنے کی تجویز کی اشاعت کی تھی۔ ملزم نے ٢٢ ہزار اشتہارات چھپوا کر تقسیم کرائے۔ اشتہار کا مضمون یہ تھا کہ سگریٹ کی کسی ڈبیہ میں خریدار کو کوئی پانچ روپے کا نوٹ رکھا ہوا ملے گا۔ اس سکیم کا مقصد سگریٹ کی فروخت کو بڑھانا تھا۔ سگریٹ ساز کو پانچ پانچ روپے کے دس نوٹ بھیجے گئے کہ سگریٹ بناتے ہوئے ایک ایک نوٹ ڈبیہ میں رکھ دیا جائے اور ڈبیوں کو دوسری ڈبیوں میں خلط ملط کردیا جائے اور پھر ڈبیوں کو بڑے پیکٹوں میں پیک کردیں۔ یہ قرار دیا گیا کہ یہ صورت لاٹری بنتی ہے۔ دفعہ میں جو ن کہ لفظ ” نکالنا “ استعمال کیا گیا ہے جس کے مطابق مخصوص رقم کی ادائیگی کا انہصار کسی واقعہ کے رونما ہونے یا حالت کے ظاہر ہونے پر مشروط ہوتا ہے جو صورت یہاں موجود نہیں ہے لہٰذا ملزم دفعہ ٢٩٤ الف کے تحت قصوروار نہ تھا۔ (اے آئی آر ١٩٢٨ بمبئی ٥٥٠) 

(٣) شہادت ثابت کریں : (١) ملزم کے پاس جگہ یا دفتر تھا۔ (٢) جگہ یا دفتر لاٹری نکالنے کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔ (٣) ایسی لاٹری کی حکومت کی طرف سے اجازت نہ تھی۔ دفعہ کی دوسری شق کے لیے ثابت کریں : (١) ملزم نے تجویز زیر بحث شائع کی تھی۔ (٢) ایسی تجویز کی نوعیت دفعہ ہذا میں بیان کردہ کسی صورت یا شرط پر ادائیگی وغیرہ تھی۔ 

(٤) مقدمہ کی اجازت : دفعہ ہذا کے تحت کسی جرم میں کوئی عدالت دست اندازی نہیں کرے گی جب تک کہ حکومت کے اختیار یا حکم سے کوئی ستغاثہ نہ کیا جائے۔ (مجموعہ ضابطہ فوجداری دفعہ ١٩٦) 

(٥) ضابطہ : ناقابل دست اندازی سمن، قابل ضمانت، ناقابل راضی نامہ، قابل سماعت ہر مجسٹریٹ، قابل سماعت سرسری۔ 

دفعہ ٢٩٤ (ب) تجارت وغیرہ کے لیے انعام کی پیشکش کرنا جو کوئی کسی تجارت یا کاروبار یا کسی شے کی فروخت کے سلسلہ میں کسی کو پن، ٹکٹ، نمبر یا عدد یا کسی دیگر طریقہ سے، تجارت، کاروبار یا کسی مال کی خریداری کی تحریک یا حوصلہ افزائی کے لیے یا اشتہاری غرض سے یا کسی شے کو مقبول عام بنانے کے لیے کوئی انعام، صلہ یا ہمچو قسم کا کوئی دیگر معاوضہ چاہے اسے کوئی نام دیا گیا ہو چاہے نقدی میں یا جنس میں، پیش کرے گا یا پیش کرنے کا ذمہ لے گا اور جو کوئی ایسی پیشکش کی اشاعت کرے گا اسے دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی قید کی سزا دی جائے گی جس کی میعاد چھ ماہ تک ہوسکتی ہے یا جرمانہ یا دونوں سزائیں۔ (مجموعہ تعزیرات پاکستان ص ٣٣٠۔ ٣٢٨، مطبوعہ منصور بک ہائوس، لاہور) انعامی بانڈز کے متعقل جسٹس پیر محمد کرم شاہ کا فیصلہ جسٹس پیر محمد کرم شاہ رکن… فاضل وفاقی شرعی عدالت نے شیخ مشتاق علی ایڈو وکیٹ کی طرف سے دائر کردہ پٹیشن کا فیصلہ کرتے ہوئے P.P.C کی دفعہ ٢٩٤۔ اے کو ہی شریعت اسلامیہ کے خلاف قرار نہیں دیا بلکہ فاضل عدالت نے SUO MOTO اختیارات استعمال کرتے ہوئے P.P.C کی دفعہ ٢٩٤۔ بی کو زیر بحث لا کر حکومت کی طرف سے جاری کردہ انعام بانڈز سکیم کو بھی خلاف شریعت قرار دیا۔ اس فیصلہ کے خلاف وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے شریعت پایلیٹ بنچ میں اپیل دائر کی۔ جناب جسٹس شفیع الرحمن صاحب نے اپنے فیصلہ میں اس اپیل کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ وہ فاضل وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے مطابق ان دونوں دفعات میں مناسب ترمیم کرے۔ نیز انہوں نے اس ترمیم کے لیے ٣١۔ ١٢۔ ١٩٩١ ء کی تاریخ متعین کی۔ فاضل جسٹس صاحب نے اپنے اس فیصلہ میں کئی دگیر امور پر بھی فاضلانہ بحث کی ہے لیکن مجھے ان کے اس فیصلہ کے صرف اس حصہ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے جس میں انہوں نے انعامی بانڈز سکیم کو شریعت کے خلاف ثابت کیا ہے۔ اس فیصلہ میں دو امور زیر بحث آئے ہیں : (١) لاٹری (٢) انعامی بانڈ سکیم۔ ان دونوں کو شریعت اسلامیہ کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ لیکن میری تحقیق کے مطابق لاٹری اور انعامی بانڈ سکیم دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ ان میں سے لاٹری واضح طور پر قمار بازی اور جوا کی ایک قسم ہے اس لیے شریعت اسلامیہ میں اس کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ لیکن انعامی بانڈ سکیم کا قمار سے کوئی تعلق نہیں اس لیے اس کو شریعت اسلامیہ کے خلاف کہنا درست نہیں۔ اس مسئلہ کی وضاحت کے لیے چند امور پر غور کرنا ضروری ہے : (١) کیا یہ انعامی بانڈ قمار کی قسم میں سے ہیں یا نہیں ؟ (٢) کیا ایسے انعامات کا ثبوت فقہ اسلامی میں موجود ہے ؟ (٣) کیا قرعہ اندازی کے ذریعہ تقسیم انعامات جائز ہے ؟ جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے تو اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ یہ سکیم از قسم قمار نہیں کیونکہ اس پر قمار کی تعریف صادق نہیں آتی۔ علماء اعلام نے قمار کی جو تشریحات اور وضاحتیں کی ہیں ان میں سے چند یہ ہیں : (١) صاحب ” تحفتہ الاحوذی “ لکھتے ہیں : لان القمار، یکون الرجل مترددا بین الغنم والغرم۔ (تحفتہ الاحوذی ص ٣٠ ج ٣) قمار میں مقامر کو یا نفع ہی نفع ہوتا ہے یا نقصان ہی نقصان۔ جب وہ بازی لگاتا ہے تو ہارنے کی صورت میں اس کی اپنی پونچی بھی اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے اور اگر وہ بازی جیت لیتا ہے تو دوسرے بازی لگانے والوں کا سرمایہ بھی اس کو مل جاتا ہے اس میں سراسر نقصان ہے یا سراسر فائدہ۔ (٢) امام فخر الدین رازی، میسر (جوا) کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : مایوجب دفع المال واخذ المال۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٢٢٠) قمار اس کو کہتے ہیں جس میں سارا مال ہاتھ سے نکل جاتا ہے یا سارا اس کی جھولی میں آگرتا ہے۔ (٣) علامہ ابن نجیم، کنز الدقائق کی شرح البحر الراقء میں ” قمار “ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : سمی القمار قمارا لان کل واحد من المقامرین ممن یجوزان یذھب مالہ الی صاحبہ و یجوزان یستفید مال صاحبہ وھو حرام بالنص۔ (البحر الرائق ص ٥٥٤ ج ٨) قمار کو قمار اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں ایک کا مال دوسرے کو یا دوسرے کا مال پہلے کو مل جاتا ہے اور یہ چیز نصاً حرام ہے۔ (٤) علامہ ابن عابدین لکھتے ہیں : لان القمار من القمر الذی یزداد تارۃ وینقص اخری و سمی القمار قما را لان کل واحد من المقامرین ممن یجوزان یذھب مالہ الی صاحبہ ویجوز ان یستفید مال صاحبہ وھو حرام بالنص۔ (ص ٢٨٥ ج ٥) قمار، قمر سے ماخوذ ہے اور قمر کبھی بڑھتا رہتا ہے کبھی گھٹتا رہتا ہے اور قمار کو قمار کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جو جوا کی بازی لگاتے ہیں تو کسی کا سارا مال اس کے ساتھی کو مل جاتا ہے اور کبھی اس کے ساتھی کا مال اسے مل جاتا ہے۔ جب ایک کا مال بغیر کسی استحقاق کے دوسرے کو مل جاتا ہے تو اس سے حسد وعناد کے شعلے بھڑکنے لگتے ہیں اور باہمی محبت و ایثار کے جذبات کا نام و نشان نہیں رہتا کیونکہ یہ اکل بالباطل اور عداوت کے جذبات کو فروغ دینے کا باعے ہے اس لیے شریعت اسلامیہ نے قمار کو حرام کردیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے : لا تاکلو اموالکم بینکم بالباطل۔ (النساء : ٢٩) تم آپس میں اپنے اموال باطل اور ناجائز ذریعہ سے مت کھائو۔ دوسری جگہ ارشاد خداوندی ہے : یایھا الذین امنو انما الخمر والمیسر والنصاب و الازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ لعلکم تفلحون (المائدہ : ٩٠) اے ایمان والو ! یہ شراب اور جوا اور بت اور جوے کے تیز، سب ناپاک ہیں شیطان کی کارستانیاں ہیں سو بچو ان سے تاکہ تم فلاح پاجائو۔ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے قمار اور جوا کو حرام قرار دینے کی حکمت ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوٰۃ فھل انتم تنتھون۔ (المائدہ : ٩١) یہی تو چاہتا ہے شیطان کہ ڈال دے تمہارے درمیان عداوت اور بغض، شراب اور جوے کے ذریعہ اور روک دے تمہیں یاد الٰہی سے اور نماز سے تو کیا تم باز آنے والے ہو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شراب و جو ا کی حرمت کی حکمتیں بیان فرمائی ہیں اور بتایا کہ شراب خوری اور قماربازی سے باہمی محبت و پیار کے جذبات ختم ہوجاتے ہیں اور حسد و عداوت کے شعلے بھڑکنے لگتے ہیں کیونکہ جب کسی جسمانی کاوش اور ذہنی ریاضت کے بغیر کسی کی دولت کسی کو مل جاتی ہے تو باہمی خیر سگالی کے جذبات دم تور دیتے ہیں اور ہارنے والے کے سینہ میں حسد وعناد کے انگارے دہکنے لگتے ہیں۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے انسان کو غافل کردیتا ہے اور نماز پڑھنے کی مہلت بھی نہیں دیتا۔ لیکن انعامی بانڈز میں ان چیزوں سے کوئی چیز موجود نہیں۔ یہاں نہ کسی کا مال ناحق ہڑپ کیا جاتا ہے نہ ان سے کسی کی دل شکنی ہوتی ہے اگر کسی کو انعام نہ ملے تو جو رقم اس نے بانڈ خریدنے میں صرف کی ہے وہ جوں کی توں برقرار رہتی ہے۔ وہ جب چاہے اس کو فروخت کر کے اپنی قیمت واپس لے سکتا ہے۔ یہاں مال کے اکل بالباطل کی صورت بھی موجود نہیں ہوتی اس لیے صورتاً و معناً کسی لحاظ سے بھی یہ قمار نہیں تاکہ حرام ہو۔ دوسرے سوال کے متعلق گزارش ہے کہ ایسے انعامات کا ثبوت فقہ اسلامی میں موجود ہے۔ خلیفہ وقت اگر مسلمانوں کو جہاد میں شرکت پر برانگیختہ کرنے کے لیے انعام کا اعلان کرے تو یہ جائز ہے اور خلیفہ ان انعامات کو بیت المال سے دینے کا مجاز ہے۔ فقہی اصطلاح میں اسے ” جعل “ کہتے ہیں اگر کفار سے جہاد کے وقت لوگوں کو اس طرح ترغیب دینا درست ہے تو حکومت اگر غربت و افلاس، جہالت، بیماری، مہنگائی، بےروزگاری کے خلاف جہاد کرنے کے لیے کارخانے، ڈیم، تعلیمی ادارے اور ہسپتال تعمیر کرنے کے لیے قرض کی ضرورت محسوس کرے اور ان انعامات کے ذریعہ لوگوں کو قرضہ دینے کا شوق دلائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں بلکہ جعل کے مسئلہ پر قیاس کرتے ہوئے اس کے جواز کا فتویٰ دیا جاسکتا ہے۔ تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ قرعہ اندازی شریعت میں جائز ہے اور قرعہ کی اس وقت ضرورت پڑتی ہے جب ایک چیز کے سب یکساں طور پر مستحق ہوں اور ان میں سے کسی ایک کو یا چند کو دینا ہو تو قرعہ اندازی سے فیصلہ کرنے کا طریقہ اپنایا جاتا ہے تاکہ کسی کی دل شکنی نہ ہو اور کسی کو جال شکایت نہ رہے۔ یہی صورت یہاں بھی ہے۔ سب بانڈ خریدنے والے ان انعامات کے برابر طور پر حقدار ہیں ان میں سے بعض کو ہی انعام دیا جاسکتا ہے۔ اگر یوں ہی بعض کو انعامات دے دیئے جائیں اور دوسروں کو محروم رکھاجائے تو اس طرح دل شکنی کا اندیشہ ہے اس لیے ایسے حالات میں قرعہ اندازی سے ہی بہترین تصفیہ کیا جاسکتا ہے اور جن افراد کو انعام نہیں ملتا ان کا اصل سرمایہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ وہ محفوظ رہتا ہے اور جس وقت چاہیں قواعد کے مطابق وہ اپنی رقم واپس لے سکتے ہیں۔ اس تفصیلی تجزیہ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ انعامی بانڈز شرعاً جائز ہیں، ان کی مشروعیت میں کسی قسم کا شک نہیں۔

انعامی بانڈز کے جواز کے متعلق جسٹس شفیع الرحمن کا فیصلہ

لاٹری اور انعامی بانڈ سکیم دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ لاٹری واضح طور پر قماربازی اور جوا کی ایک قسم ہے، اس لیے شریعت اسلامیہ میں اس کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ انعامی بانڈ سکیم کا قمار سے کوئی تعلق نہیں اس لیے یہ شریعت اسلامیہ کے خلاف نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا یہ قول نقل فرمایا : اے ابا ! ہم ایک دوسرے کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کر رہے تھے اور ہم نے یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا پس اس کو بھیڑیئے نے کھالیا اور آپ ہماری بات ماننے ولے نہیں ہیں خواہ ہم سچے ہوں (یوسف : ١٧) ان کے اس قول کا یہ مطلب نہیں تھا کہ آپ کسی سچے آدمی کی تصدیق نہیں کرتے بلکہ ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر ہم آپ کے نزدیک نہایت معتبر اور سچے بھی ہوتے پھر بھی آپ ہم پر جھوٹ کی تہمت لگاتے کیونکہ آپ کو یوسف سے بہت شدید محبت ہے اور آپ یہی گمان کرتے کہ ہم جھوٹے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ ہرچند کہ ہم سچے ہیں لیکن آپ ہم پر جھوٹ کی تہمت لگائیں گے اور ہماری تصدیق نہیں کریں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور وہ اس کی قمیص پر جھوٹا خون لگا لائے۔ (یعقوب نے) کہا : بھیڑیئے نے تو خیر نہیں کھایا) بلکہ تمہارے دل نے ایک بات گھڑ لی ہے۔ 

حضرت یوسف کے بھائیوں کی خبر کے من گھڑت ہونے کی وجوہ

یہ سن کر حضرت یعقوب (علیہ السلام) رونے لگے اور انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا : مجھے اس کی قمیص دکھائو انہوں نے اس قمیص کو سونگھا اور چوما پھر وہ اس کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگے تو وہ ان کو کہیں سے بھی پھٹی ہوئی نہیں دکھائی دی۔ انہوں نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، میں نے آج سے پہلے اتنا عقلمند بھیڑیا کوئی نہیں دیکھا اس نے میرے بیٹے کو کھالیا اور اس کو قمیص کے اندر سے نکال لیا اور قمیص بالکل نہیں پھٹی۔ حضرت یوسف کے بھائیوں کو معلوم تھا کہ واقعہ اس طرح نہیں ہوا جس طرح انہوں نے بیان کیا ہے انہوں نے پھر اپنا بیان بدلا اور کہا: اس کو بھیڑیے نے نہیں کھایا۔ حضرت یعقوب نے غصہ میں ان سے منہ موڑ لیا اور وہ غم زدہ ہو کر رو رہے تھے۔ انہوں نے کہا : اے میرے بیٹو ! بتائو میرا بیٹا کہاں ہے ؟ اگر وہ زندہ ہے تو وہ مجھے لاکر دو اور اگر وہ مرچکا ہے تو اس کو کفن پہنائوں اور دفن کروں۔

ایک روایت یہ ہے کہ انہوں نے آپس میں کہا : کیا تم ہمارے باپ کا حال نہیں دیکھ رہے وہ کس طرح ہمیں جھٹلا رہے ہیں آئو اس کو کنوئیں سے نکال کر اس کے اعضاء کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیں اور پھر اپنے باپ کے پاس اس کے کٹے ہوئے اعضاء لے کر آئیں تب وہ ہماری بات کی تصدیق کریں گے اور ان کی امید منقطع ہوگی تب یہوذا نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر تم نے ایسا کیا تو میں ساری عمر تمہارا دشمن رہوں گا اور میں تمہارے باپ کو تمہارے سارے کرتوت بتادوں گا۔ انہوں نے کہا : اب جب کہ تم ہم کو اس تجویز پر عمل کرنے سے روک رہے ہو تو آئو چلو ایک بھیڑیئے کا شکار کرتے ہیں، پھر انہوں نے ایک بھیڑیئے کا شکار کیا اور اس کو خون آلود کردیا اور اس کو رسیوں سے باندھ کر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس لے کر آئے اور کہا : اے ابا ! یہ ہے وہ بھیڑیا جو ہماری بکریوں کو چیر پھاڑ کر کھا جاتا تھا اور ہمیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہماری بھائی کو بھی اسی نے پھاڑ کھایا ہے اور یہ دیکھیں اس کے اوپر خون بھی لگا ہوا ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا : اس کو کھول دو ۔ انہوں نے اس کو کھول دیا۔ بھیڑیئے نے ایک جھرجھری لی اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا : اس کو کھول دو ۔ انہوں نے اس کو کھول دیا۔ بھیڑیئے نے ایک جھرجھری لی اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے قریب آنے لگا حضرت یعقوب نے اس سے کہا : قریب آ، قریب آ، حتیٰ کہ حضرت یعقوب نے اپنا رخسار اس کے چہرے پر رکھا اور کہا : اے بھیڑیئے ! تو نے میرے بیٹے کو کیوں کھایا اور کیوں مجھے اتنے غم میں مبتلا کیا پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی : اے اللہ ! اس کو گویائی عطا فرما ! اللہ تعالیٰ نے اس بھیڑیئے کو گویائی عطا کردی تو اس نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو منتخب کر کے نبی بنایا ہے میں نے آپ کے بیٹے کا گوشت نہیں کھایا نہ اس کی کھال کو پھاڑا ہے نہ اس کے بالوں کو نو چاہے ور اللہ کی قسم ! میں نے آپ کے بیٹے کو نہیں دیکھا میں تو ایک مسافر بھیڑیا ہوں میں مصر کے مضافات سے آرہا ہوں میرا بھائی گم ہوگیا تھا میں اس کی تلاش میں نکلا تھا مجھے معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا مرگیا اسی اثناء میں آپ کے بیٹوں نے مجھے شکار کرلیا اور مجھے باندھ کر یہاں لے آئے اور بیشک انبیاء کا گوشت ہم پر اور تمام وحشی جانوروں پر حرام کردیا گیا ہے اور اللہ کی قسم ! اب میں ایسے شہر میں نہیں ٹھہروں گا جس میں نبیوں کی اولاد وحشی جانوروں پر جھوٹ باندھتی ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس کو چھوڑ دیا اور کہا : اللہ کی قسم ! تم اپنے خلاف حجت کو پکڑ کر لائے ہو یہ وحشی جانور پانے بھائی کو تلاش کرنے کی مہم پر نکلا ہے اور تم نے انسان ہو کر اپنے بھائی کو ضائع کردیا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩ ص ١٣٤۔ ١٣٣، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصہ میں تین بار حضرت یوسف کی قمیص کا ذکر آیا ہے ایک بار حضرت یوسف کے بھائیوں نے اس پر جھوٹا خون لگا کر اس قمیص کو حضرت یعقوب کے سامنے پیش کیا اور دوسری مرتبہ حضرت یوسف زلیخا سے بھاگ رہے تھے اور عزیز مصر کا سامنا ہوا تو اس کے اہل سے کسی نے گواہی دی کہ یوسف کی قمیص دیکھو اگر وہ سامنے سے پھٹی ہوئی ہے تو یوسف مجرم ہے اور اگر وہ پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے تو زلیخا مجرم ہے اور قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی تھی اور تیسری بار جب حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کو اپنی قمیص دی اور کہا : یہ قمیص لے جا کر میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو تو ان کی بینائی لوٹ آئے گی۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹو کی بات کا اعتبار نہیں کیا تھا اور کہا تاکہ تم نے اپنے دل سے ایک بات بنا لی ہے اس کی کئی وجوہات تھیں : اول اس لیے کہ حضرت یعقوب کے خواب کی تعبیر پر یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو فضیلت اور نبوت سے سرفراز فرمائے گا اور ان کے والدین اور ان کے گیارہ بھائی ان کی تعظیم کے لیے ان کو سجدہ کریں گے اور اس تعبیر کے پورے ہونے سے پہلے ان پر موت نہیں آسکتی تھی دوسرے س وجہ سے کہ ان کے بائیوں کے بیان میں تعارض تھا کبھی وہ کہتے تھے کہ یوسف کو بھیڑیئے نے کھالیا اور کبھی وہ کہتے تھے کہ اس کو کسی نے قتل کردیا تیسرے اس وجہ سے کہ جس کو وہ باندھ کر لائے تھے اس نے بتادیا کہ یہ جھوتے ہیں اور اس نے حضرت یوسف کو نہیں کھایا اور چوتھے اس وجہ سے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نر نبوت سے جانتے تھے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں۔

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے صبر کرنے کے بجائے اپنے بیٹوں کے جرم کے خلاف تفتیش کیوں نہیں کی ؟

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا : پس اب صبر جمیل کرنا ہی بہت رہے۔ امام رازی نے اس مقام پر ایک اعتراض کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا اوت تقدیر پر تو صبر کرنا واجب ہے لیکن ظالموں کے ظلم اور سازش کرنے والوں کی سازش پر صبر کرنا واجب نہیں ہے بلکہ ان کے ظلم اور سازش کا ازالہ کرنا واجب ہے خاص طور پر اس وقت جب کہ کوئی دوسرا ان کے ظلم کا شکار ہو رہا ہو اور یہاں پر جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا جھوٹ کھل گیا اور ان کی خیانت ظاہر ہوگئی تو اس پر حضرت یعقوب ونے کیوں صبر کیا اور انہوں نے اس معاملہ کا کھوج لگانے اور اس کی تفتیش کرنے کی پوری کوشش کیوں نہیں کی تاکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائیوں کی طرف سے نازل کردہ مصیبت سے نجات دلائی جاتی اور ان کے بھائیوں سے ان کے ظلم کا بدلہ لیا جاتا، یہ اعتراض اس وجہ سے اور قوی ہوجاتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خوا کی تعبیر کے علم کی وجہ سے یقین تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ان کو وحی کے ذریعہ بھی یہ معلوم تھا کہ حضرت یوسف زندہ سلامت ہیں نیز حضرت یعقوب (علیہ السلام) اس علاقہ میں ایک معزز اور شریف انسان کی حیثیت سے مشہور تھے اگر وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا سراغ لانے کی کوشش کرتے تو لوگ بھی آپ کی مدد کرتے اس سے معلوم ہوا کہ ان حالات میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا حضرت یوسف کے معاملہ میں صبر کرنا عقلاً اور شرعاً درست نہ تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو علم تھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت یوسف کے معاملہ میں ان کو آزمائش میں مبتلا کرنا چاہتا ہے نیز ان کو قرائن سے معلوم تھا کہ ان کے بیٹے بہت قوی اور زور آور اور خود سر ہیں ان کو یہ خدشہ تھا کہ اگر انہوں نے ان کے خلاف تفتیش کرنی شروع کی تو اپنے دفاع میں ان کا پہلا کام یہ ہوگا کہ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالیں گے پس حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زندگی اور سلامتی کی خاطر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان بیٹوں کے خلاف کاروائی نہیں کی اور بڑی مصیبت کے مقابلہ میں چھوٹی مصیبت کو برداشت کرلیا اور ان کے فراق کو ان کی موت پر ترجیح دی دوسری وجہ یہ تھی کہ اگر حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹوں کے خلاف تفتیش اور کاروائی کرتے تو لوگوں کو معلوم ہوجاتا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے اغوا کی واردات کی ہے اور اس میں بھی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی سب کی اور بدنامی تھی نیز جب باپ کو یہ معلوم ہوا کہ اس کے ایک بیٹے نے دوسرے بیٹے پر ظلم کیا ہے تو یہ باپ کے لیے سخت عذاب اور تکلیف کا باعث ہے اگر وہ ظالم بیٹے کو یونہی چھوڑ دے اور اس کو کوئی سزا نہ دے تو مظلوم بیٹے کے لیے اس کا دل جلتا رہے گا اور اگر وہ اس کو قرار واقعی سزا دے تو اس سے بھی اس کو تکلیف ہوگی کیونکہ وہ بھی بہرحال اس کا بیٹا ہے اور جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) اس آزمائش میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے اس معاملہ میں صبر اور سکوت کرنا اور اس معاملہ کو اللہ کے حوالے کردینا ہی بہتر جانا۔ 

صبر جمیل کی تعریف

مجاہد نے کہا : صبر جمیل وہ ہے جس میں گھبراہٹ، بےقراری اور بےچینی نہ ہو۔ حبان بن حبلہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صبر جمیل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : یہ وہ صبر ہے جس میں کسی سے شکایت نہ کی جائے ثوری کے بعض اصحاب نے بیان کیا کہ صبر میں تین چیزیں ہیں اپنا درد کسی سے نہ کہو اور نہ اپنی مصیبت کسی سے بیان کرو اور نہ اپنی تعریف کرو۔ حبیب بن ابی ثابت بیان کرتے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بھنویں جھک گئی تھیں وہ ان کو کپڑے کی ایک دھجی سے اوپر کر رہے تھے ان سے پوچھا گیا : یہ کیا ہے ؟ نہوں نے کہا : میرے غم کو بہت لمبا عرصہ گزر چکا ہے تب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ اے یعقوب ! کیا تم مجھ سے شکایت کر رہے ہو ؟ انہوں نے کہا : اے میرے رب ! مجھ سے قصور ہوگیا تو اس کو معاف فرما دے۔ (جامع البیان جز ١٢ ص ٢١٧۔ ٢١٦، مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

صبر جمیل کے حصول کے اسباب

امام رازی فرماتے ہیں صبر کی دو قسمیں ہیں : کبھی صبر جمیل ہوتا ہے اور کبھی غیر جمیل ہوتا ہے۔ صبر جمیل وہ ہے جس میں بندہ کو یہ علم ہو کہ اس مصیبت کو نازل کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے پھر اس کا یہ ایمان ہو کہ اللہ سبحانہ مالک الملک ہے اور مالک اپنی ملک میں جو چاہے تصرف کرے اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے اور جب اس کے دل میں یہ یقین جاگزین رہے گا پھر وہ اپنی مصیبت کی کسی سے شکایت کرنے سے باز رہے گا۔ شکایت نہ کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کو یہ علم ہوگا کہ اس مصیبت کو نازل کرنے والا حکیم ہے اور عالم ہے اور رحیم ہے اور جب وہ ان صفات سے موصوف ہے تو اس سے جو فعل بھی صادر ہوگا وہ حکمت کے مطابق اور درست ہوگا پس اس وقت وہ مصیبت پر صبر و سکون سے رہے گا اور اس مصیبت پر اعتراض نہیں کرے گا۔ اور تیسری وجہ یہ ہے کہ جب اس پر یہ منکشف ہوگا کہ اس مصیبت کا نازل کرنے والا حق تعالیٰ ہے تو وہ اس کے نور کے مشاہدہ میں مستغرق ہوجائے گا اور اس مشاہدہ میں اشتغال اس کو اس مصیبت کی شکایت کرنے سے باز رکھے گا اور ایسا صبر ہی صبر جمیل ہے۔ اور جب مصیبت پر صبر اللہ سبحانہ کی تقدیر اور اس کی قضا پر راضی رہنے کی وجہ سے نہ ہو بلکہ کسی اور غرض کی وجہ سے ہو تو پھر یہ صبر جمیل نہیں ہوگا۔ اور اس سلسلہ میں ضابطہ یہ ہے کہ انسان کے تمام افعال، اقوال اور اعتقادات اگر اللہ تعالیٰ کی رضا کے طلب کے لیے ہوں تو وہ اچھے اور نیک ہیں ورنہ نہیں، اسی وجہ سے حدیث میں ہے : حضرت واثلہ بن امقع (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ایک کام کے متعلق فتویٰ دیجیے، آپ کے بعد میں اور کسی سے سوال نہیں کروں گا۔ آپ نے فرمایا : تم اپنے دل سے فتویٰ لو خواہ تمہیں مفتی فتویٰ دیتے رہیں۔ (حلیتہ الاولیاء ج ٩ ص ٤٤، تہذیب تاریخ دمشق ج ٣ ص ١٢، اتحاف السادۃ المتقین ج ١ ص ١٦٠، کنز العمال رقم الحدیث : ٢٩٣٣٩) اور حضرت وابصہ بن معبد (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے وابصہ ! تم نیکی اور گناہ کے متعلق سوال کرنے کے لیے آئے ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! آپ نے اپنی انگلیاں جمع کر کے ان کو اپنے سینہ پر مارا اور تین بار فرمایا : اپنے نفس سے فتویٰ لو اپنے دل سے فتویٰ لو نیکی وہ ہے جس پر تمہارا دل مطمئن ہو اور گناہ وہ کام ہے جو تمہارے دل میں کھٹک رہا ہو اور تمہارے سینہ میں تردد ہو خواہ تمہیں لوگ فتویٰ دیتے رہیں۔ (مسند احمد ج ٤ ص ٢٢٨، سنن دارمی رقم الحدیث : ٢٥٣٣، مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٢٧٧٤) پس اگر کسی کام کو کرنے کے بعد تمہارا دل یہ گواہی دے کہ یہ کام تم نے اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے تو وہ نیکی ہے ورنہ نہیں، تاہم یہ ضروری ہے کہ اس انسان کو احکام شرعیہ اور حلال اور حرما کاموں کا علم ہو اور ایسا نہ ہو کہ وہ کسی غیرشرعی کا مکو اللہ کی رضا سمجھ کر کرتا رہے جیسا کہ ہمارے زمانہ میں جاہل صوفیاء کا حال ہے وہ چیخ چیخ کر اور رو رو کر خضوع اور خشوع سے دعائیں کرتے ہیں اور وہ اپنی دعائوں میں جعلی اور موضوع حدیثیں پڑھتے ہیں اور انہوں نے بہت سی بدعات وضع کرلی ہیں اور ان کو نیک کام سمجھ کر کرتے ہیں اور اپنے خیال میں وہ یہ کام اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ 

صبر جمیل کی اقسام

جس طرح مصائب اور شدائد پر صبر جمیل کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنی مصیبت کی مخلوق میں سے کسی سے شکایت نہ کرے اسی طرح غیظ و غضب اور انتقام لینے پر قادر ہونے کے باوجود صبر کرنا اور اپنے دشمن اور مجرم سے بالکل تعرض نہ کرنا اور اس کو معاف کردینا یہ بھی صبر جمیل ہے جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے انتقام لینے پر قادر ہونے کے باوجود ان کو معاف کردیا اسی طرح اپنی شہوت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی قدرت کے باوجود خوف خدا سے شہوت کے تقاضوں کو ترک کردینا بھی صبر جمیل ہے اور اس میدان کے امام بھی سیدنا حضرت یوسف (علیہ السلام) ہیں۔ جو شخص شہوت یا غضب کے دواعی اور محرکات میں ڈوبا ہوا ہو اس کو اس پر غور کرنا چاہیے کہ دنیا میں شہوت کے تقاضوں کو ترک کردینا بہت آسان ہے اور اس کی بہ نسبت آخرت میں اس کی سزا اور اس کے عزاب کو برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 16