انوکھا لاڈلہ کھیلن کومانگے چاند

چند سال کا ریورس گیئر لگا لیں ، اس وقت شہاب الدین پوپلزئی صاحب نے اپنا چاند چڑھانے کا سلسلہ نیا نیا شروع کیا تھا ، میڈیا کے ہاتھ میں تو استرا آگیا ، مسجد قاسم خان کے اردگرد کیمرے اور مائیک ایسے پھدکتے پھرتے تھے جیسے برسات میں ڈڈّو ہوتے ہیں ۔ چینلز پر بھانت بھانت کے تبصرے ہوتے تھے مولویوں کی واٹ لگائی جاتی تھی ، مولویوں نے قوم کو تقسیم کردیا ، مولوی تو ایک عید تک نہیں کر سکتے ، یہ رویت ھلال کمیٹی ختم کر دینی چاہیے ، ایسے جملے سننے کو ملتے تھے سلیم صافی جیسے متعصب اینکر پوپلزئی کو چینل پر پورا ٹائم دیتے تھے اور ریاستی ادارے کے سربراہ کی مذمت میں کالم لکھ ڈالتے تھے ، اعجاز الحق جیسے وزیر براۓ مذہبی امور کہتے تھے کہ سب کچھ ختم کرکے اپنا سسٹم سعودیہ کے ساتھ بنالو جو وہ اعلان کریں وہی پاکستان میں مانا جاۓ ۔ فردوس عاشق اعوان کی زبان سے پھول جھڑتے تھے کہ مفتی منیب سارا سال غائب رہتے ہیں رمضان اور عید سے دو دن پہلے آ جاتے ہیں ۔ ایک وزیر بے تدبیر نے نسخہ عطا فرمایا کہ پوپلزئی کو رویت ھلال کمیٹی کا چیئرمین بنادو تاکہ ملک میں ایک عید ہو سکے ۔

سبحان اللہ کیسے کیسے نابغے تھے ہمارے پاس ۔ اس سارے سیناریو میں سب سے زیادہ نقصان اور تنقید اگر کسی بندے نے برداشت کی ہے تو وہ ہے متعلقہ کمیٹی کا چیئرمین مفتی منیب الرحمن ۔

کیسے کیسے واہیات جملے نہیں کسے گئے ان پر ۔( جب مفتی صاحب کی بیوی کی شاپنگ مکمل ہوگی تو وہ تب عید کے چاند کا اعلان کریں گے ) یہ طنزیہ جملہ تو سینکڑوں بار سوشل میڈیا پر دیکھا ، وجہ وہی کہ پوپلزئی صاحب ایک دن پہلے چاند چڑھا دیتے تھے ۔ پوپلزئی صاحب نے ق لیگ ، پی پی اور ن لیگ کی حکومتوں میں گند ڈالا کسی نے اسے لگام نہیں ڈالی ، وہ ہربار اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بناتا رہا کسی نے اسے نہیں روکا ، البتہ تنقید سہنے کے لیے پوری کی پوری رویت ھلال کمیٹی حاضر ہوتی تھی ۔ اس سال میڈیا نے پوپلزئی کو زیادہ لفٹ نہیں کروائی اس کی وجہ کورونا ہے یا شاید پوپلزئی صاحب کا چاند نکالنے میں تاخیر جو رات پونے گیارہ نیپال کے جنگلات سے بمشکل ملا ۔ اب پی ٹی آئی کی حکومت بھی اس کو لگام نہیں ڈالی گی ۔

یاد رہے رویت ھلال کمیٹی میں ہر مکتب فکر کے ممتاز علماء شامل ہوتے ہیں ، ان کے مقرر کردہ اشخاص تمام صوبوں میں موجود ہوتے ہیں ، ان کی مرکزی کمیٹی جب چاند دیکھتی ہے تو اسے محکمہ موسمیات ، نیوی اور سپارکو کا تعاون حاصل ہوتا ہے اور اس سال تو وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا نمائندہ بھی تھا ، رمضان کے علاوہ بھی محکمہ موسمیات ان سے ہر ماہ معلومات شیئر کرتا ہے اس کمیٹی میں نا ہی کوئی مسلکانہ مسائل آڑے آتے ہیں اور نہ ہی جدید ٹیکنالوجی کے عدم استعمال کا ذہن پایا جاتا ہے ۔ جب رویت ھلال کمیٹی تمام مکاتب فکر کے علماء کی موجودگی میں شرعی احکام اور جدید سائنسی سہولتوں کی روشنی میں ریاست کی اتھارٹی کے ساتھ چاند دیکھنے کا فریضہ سر انجام دیتی ہے تو پھر یہ پوپلزئی جیسے نمونے کہاں سے ٹپک پڑتے ہیں اور اگر ٹپک پڑتے ہیں تو انہیں لگام کیوں نہیں ڈالی جاتی ۔ اس ایک شخص کی وجہ سے ہر سال بد مزگی ہوتی ہے اور تنقید کے لیے حاضر ہے سوفٹ ٹارگٹ رویت ھلال کمیٹی ۔ صرف اس ایک شخص کی وجہ سے فواد چوھدری کہتا تھا کہ پوری رویت ھلال کمیٹی ہی ختم کردو ۔ اس بار چاند دیکھنے کے لیے فواد چوھدری کی وزارت کا نمائندہ بھی کراچی اجلاس میں شریک تھا لیکن دوسری طرف پوپلزئی نے فواد چوھدری کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے اپنا چاند نکال کر کہا روک سکو تو روک لو ۔

یہ تحریر مفتی منیب الرحمن کی حمایت میں نہیں لکھی بلکہ ایک ایسے شخص کی حمایت میں لکھی ہے جسے قابلیت کی وجہ سے اس کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا ، یہ ادارہ ریاست پاکستان کا ہے جسے 1974 قومی اسمبلی کے ذریعے اختیارات دیے گئے جس کی رٹ کو پوپلزئی ہر سال جوتے کی نوک پر رکھتا ہے ۔

ضمنا عرض کرتا چلوں کہ مفتی منیب کو بطور چیئرمین بیس سال ہوگئے شاید ایک روپیہ تنخواہ کا نہیں لیا ، تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی طرح کروڑوں کماتے ہیں

اب یہ حکومت کی مرضی ہے کہ وہ پوپلزئی جیسے سدا بہار انوکھے لاڈلے کو روکتی ہے یا ریاستی ادارے کے سربراہ کو عزت دے کر اپنی عزت بڑھاتی ہے ۔ محمد دلشاد 24 اپریل 20ء