شیاطین قید میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جب رمضان المبارک تشریف لاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیںاور دوزخ کے دروازے بند کر دئے جا تے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دئے جاتے ہیں اورایک روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ (مشکوٰۃ)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو !حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ ’’اشعۃ اللمعات ‘‘ جلد دوم میں اس حدیث کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں کہ’’ آسمان کے دروازے کھول دئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ پئے در پئے رحمت کا بھیجا جانااور بغیر کسی رکاوٹ کے بارگاہ الٰہی میں اعمال کا پہونچنا اور دعا کاقبول ہونا۔ اور جنت کے دروازے کھول دئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ روزے دار کو نیک اعمال کی توفیق اور حسنِ قبول عطا فرماتا ہے۔ اور دوزخ کے دروازے بند کئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ روزہ داروں کے نفوس، دلوں کو ممنوعات شرعیہ کی آلودگی سے پاک کرنااور گناہوں پرابھارنے والی چیزوںسے نجات پانا اور دل سے لذّتوں کے حصول کی خواہشات کاتوڑنا۔ اور شیاطین کا زنجیروں میں جکڑ دئے جانے کا معنیٰ یہ ہے :برے خیالات کے راستوں کا بند ہونا اللہد کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہم سب کو رمضان المبارک کی برکتوں سے مالامال فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔