أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَجَآءَتۡ سَيَّارَةٌ فَاَرۡسَلُوۡا وَارِدَهُمۡ فَاَدۡلٰى دَلۡوَهٗ‌ ؕ قَالَ يٰبُشۡرٰى هٰذَا غُلٰمٌ‌ ؕ وَاَسَرُّوۡهُ بِضَاعَةً  ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور ایک قافلہ آیا تو انہوں نے ایک پانی لانے والے کو بھیجا پس اس نے اپنا ڈول ڈالا، اس نے کہا مبارک ہو یہ ایک لڑکا ہے اور انہوں نے یوسف کو مال تجارت بنا کر چھپالیا اور اللہ ان کے کاموں کو خوب جاننے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ایک قافلہ آیا تو انہوں نے ایک پانی لانے والے کو بھیجا پس اس نے اپنا ڈول ڈالا اس نے کہا مبارک ہو یہ ایک لڑکا ہے اور انہوں نے یوسف کو مال تجارت بنا کر چھپالیا اور اللہ ان کے کاموں کو خوب جاننے والا ہے اور بھائیوں نے یوسف کو (قافلہ والوں سے لے کر) چند درہموں کے بدلہ (ان ہی کے ہاتھ) بیچ دیا اور وہ یوسف میں (ویسے ہی) رغبت کرنے والے نہ تھے۔ (یوسف : ٢٠۔ ١٩) 

قافلہ والوں کے ہاتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو فروخت کرنا

حضرت ابن عباس نے بیان کیا : ایک قافلہ مدین سے مصر کی طرف جارہا تھا وہ راستہ بھٹک کر اس علاقہ میں جا پہنچا جہاں وہ کنواں تھا جس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ڈالا گیا تھا وہ کنواں آبادی سے کافی دور تھا اور اس کا پانی کڑوا تھا۔ جب حضرت یوسف کو اس کنویں میں ڈالا گیا تو اس کا پانی میٹھا ہوگیا جب وہ قافلہ کنویں کے قریب پہنچا تو انہوں نے ایک شخص کو اس کنویں سے پانی لانے کے لیے بھیجا اس نے جب کنویں میں ڈول ڈالا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اس ڈول کی رسی کے ساتھ لٹک گئے اور جب ڈول ڈالنے والے نے حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے حسن و جمال کو دیکھا تو وہ خوشی سے چلایا : مبارک ہو یہ ایک حسین و جمیل لڑکا ہے۔ ان کی خوشی کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے انتہائی حسین لڑکا دیکھا تو انہوں نے کہا : ہم اس کو بڑی بھاری قیمت لے کر فروخت کردیں گے اور اس سے ہم کو بہت نفع ہوگا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے جب حضرت یوسف کو کنویں میں ڈالا تو تین دن کے بعد وہ یہ معلوم کرنے کے لیے اس کنویں پر واپس آئے کہ دیکھیں اب یوسف کا کیا حال ہے ؟ اور جب انہوں نے قافلہ کے آثار اور نشانات دیکھے تو اس قافلہ کے پاس گئے اور جب انہوں نے وہاں حضرت یوسف کو دیکھا تو قافلہ والوں سے کہا : یہ ہمارا غلام ہے اور یہ ہمارے پاس سے بھاگ گیا تھا۔ قافلہ والوں نے ان سے کہا : اس غلام کو ہمارے ہاتھ فروخت کردو۔ انہوں نے اس بات کو چھپایا کہ وہ ان کا بھائی ہے اور انہوں نے حضرت یوسف سے عبرانی زبان میں کہا : اگر تم نے ہمارا راز فاش کردیا تو ہم تم کو قتل کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ ان کے کاموں کو خوب جاننے والا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب حضرت یوسف نے خواب میں ستاروں کو اور سورج اور چاند کو دیکھا کہ انہوں نے حضرت یوسف کو سجدہ کیا اور اس خواب کو بیان کردیا تو ان کے بھائیوں نے ان پر حسد کیا اور اس خواب کی تعبیر کو باطل کرنے کی ساش کی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سخت مصیبت میں ڈال دیا تاکہ یہ تعبیر پوری نہ ہو سکے اور انہوں نے خواب کی تعبیر کو باطل کرنے کے لیے حضرت یوسف کو جس مصیبت میں ڈالا تھا اللہ تعالیٰ نے اسی مصیبت کو حضرت یوسف کے خواب کے سچا ہونے کا ذریعہ بنادیا کیونکہ اس واقعہ کے بعد حضرت یوسف مصر پہنچے اور بالآخر مصر کے بادشاہ بن گئے اور ان کے بھائی ان کے محتاج ہو کر ان کے سامنے پیش ہوئے اور ان سب نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ کیا اور یوں ان کے خواب کی تعبیر پوری ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور بھائیوں نے یوسف کو (قافلہ سے لے کر) چند درہموں کے بدلہ (ان ہی کے ہاتھ) بیچ دیا اور وہ یوسف میں (ویسے ہی) رغبت کرنے والے نہ تھے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ قافلے والوں نے حضرت یوسف کو ان سے خرید لیا اور وہ حضرت یوسف میں رغبت کرنے والے نہ تھے کیونکہ ان کو قرائن سے معلوم ہوگیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی جھوٹے ہیں اور وہ ان کے غلام نہیں ہیں اور ان کو یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے فرزند ہیں اور انہیں حضرت یوسف کے خریدنے سے اللہ تعالیٰ کا خوف دامن گیر تھا اور اس آیت کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے حضرت یوسف کو چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا کیونکہ ان کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قیمت سے کوئی دلچسپی نہیں تھی وہ تو صرف یہ چاہتے تھے کہ کسی طرح حضرت یوسف اس علاقہ سے نکل جائیں عربی میں شراء کا لفظ لغت اضداد سے ہے یہ خریدنے اور بیچنے دونوں معنی میں مستعمل ہے اس لیے اس آیت میں حضرت یوسف کو خریدنے اور حضرت یوسف کو بیچنے کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 19