أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ الَّذِى اشۡتَرٰٮهُ مِنۡ مِّصۡرَ لِامۡرَاَتِهٖۤ اَكۡرِمِىۡ مَثۡوٰٮهُ عَسٰٓى اَنۡ يَّـنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَـتَّخِذَهٗ وَلَدًا‌ ؕ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوۡسُفَ فِى الۡاَرۡضِ وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ‌ؕ وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓى اَمۡرِهٖ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور مصر کے جس شخص نے یوسف کو (قافلہ سے) خریدا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا اس کو تعظیم و تکریم سے ٹھہرائو شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا بنالیں گے اور اس طرح ہم نے سرزمین (مصر) میں یوسف کے پائوں جما دیے تاکہ ہم ان کو خواب کی تعبیروں کا علم عطا کریں اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور مصر کے جس شخص نے یوسف کو (قافلہ سے) خریدا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا اس کو تعظیم و تکریم سے ٹھہرائو شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا بنالیں گے اور اس طرح ہم نے سرزمین (مصر) میں یوسف کے پائوس جما دیئے تاکہ ہم ان کو خواب کی تعبیروں کا علم عطا کردیں اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : ٢١) 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خریدار کے متعلق متعدد روایات

مصر کے جس شخص نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خریدا تھا وہ مصر کا بادشاہ تھا اس کا لقب عزیز تھا اور اس کا نام قطفیر تھا یہ سہیلی کا قول ہے

اور امام ابن اسحاق نے کہا اس کا نام اطفیر بن رویحب تھا اس نے اپنی بیوی کے لیے حضرت یوسف کو خریدا تھا جس کا نام راعیل تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام زلیخا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے عزیز کے دل میں حضرت یوسف کی محبت ڈال دی تھی تو اس نے اپنی اہلیہ کو یہ وصیت کی کہ اس کو تعظیم و تکریم سے ٹھہرائو

حضرت ابن عباس نے کہا جس شخص نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خریدا تھا وہ مصر کے بادشاہ کا وزیر قطفیر تھا اور مصر کا بادشاہ الریان بن ولید تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام الولید بن ریان تھا اور یہی راجح قول ہے وہ عمالقہ کی قوم سے تھا

اور ایک قول یہ ہے کہ وہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا فرعون تھا کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کے ایک شخص نے فرعون کے دربار میں کہا تھا : ولقد جاء کم یوسف من قبل بابینات۔ (المومن : ٣٤) اور اس سے پہلے تمہارے پاس یوسف دلائل کے ساتھ آچکے ہیں۔ اور فرعون جار سو سال تک زندہ رہا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا فرعون حضرت یوسف (علیہ السلام) کے فرعون کی اولاد میں سے تھا اور یہ عزیز جس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خریدا تھا بادشاہ کے خزانوں پر مامور تھا اس نے حضرت یوسف کو مالک بن دعر سے بیس دینار میں خریدا تھا اور ایک حلہ اور نعلین زائد دی تھیں

اور ایک قول یہ ہے کہ اس نے حضرت یوسف کو قافلہ والوں سے خریدا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ قافلہ والوں نے حضرت یوسف کی قیمت بڑھا دی تھی۔ ان کی قیمت میں مشک، عنبر، ریشم، چاندی، سونا، موتی اور جواہر تھے جن کی مالیت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ قطفیر نے مالک بن دعر کو یہ قیمت دے کر حضرت یوسف کو خریدا تھا۔ 

کنعان سے مصر تک حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پہنچنے کی تفصیل

وہب بن منبہ اور دیگر نے کہا : جب مالک بن دعر نے حضرت یوسف کو ان کے بھائیوں سے خریدا تو انہوں نے ایک دوسرے کو یہ دستاویز لکھ کردی : مالک بن دعر نے یعقوب فلاں فلاں بیٹوں سے یہ غلام بیس درہم کے عوض خرید لیا ہے اور ان کے بھائیوں نے یہ شرط عائد کی تھی کہ یہ بھاگا ہوا غلام ہے اور اس کو زنجیروں اور بیڑیوں میں باندھ کر رکھا جائے اور انہوں نے اس پر اللہ کی گواہ بنایا تھا رخصتی کے وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے کہا : اللہ تمہاری حفاظت کرے ہرچند کہ تم نے مجھے ضائع کردیا ہے اللہ تمہاری مدد کرے ہرچند کہ تم نے مجھے رسوا کیا ہے اور اللہ تم پر رحم کرے اگرچہ تم نے مجھ پر رحم نہیں کیا انہوں نے حضرت یوسف کو زنجیروں اور بیڑیوں سے باندھ کر ننگے پالان پر بٹھایا یعنی پالان پر کوئی فرش یا بچھونا نہیں تھا جب وہ قافلہ آل کنعان کی قبروں کے پاس سے گزرا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی والدہ کی قبر کو دیکھا اور ایک سیاہ فام حبشی ان کے پہرے پر مامور تھا اس لمحہ وہ غافل ہوگیا تو حضرت یوسف نے اپنے آپ کو اپنی والدہ کی قبر پر گرا دیا اور ان کی قبر پر لوٹ پوٹ ہونے لگے اور ان کی قبر سے گلے لگ گئے اور اضطراب سے کہنے لگے : اے میری ماں ! سر اٹھا کر اپنے بیٹے کو دیکھئے وہ کس طرح زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ گلے میں غلامی کا طوق پڑا ہوا ہے۔ اس کو اس کے بھائیوں نے اس کے والد سے جدا کردیا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا یجیے کہ وہ ہم کو اپنی رحمت کے مستقر میں جمع کر دے بیشک وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ادھر جب اس حبشی نے حضرت یوسف کو پالان پر نہیں دیکھا تو وہ پیچھے دوڑا اس نے دیکھا کہ وہ ایک قبر کے پاس ہیں اس نے اپنے پیر سے خاک پر ٹھوکر ماری اور حضرت یوسف کو خاک پر لوٹ پوٹ کردیا اور آپ کو دردناک مار لگائی۔ حضرت یوسف نے کہا : مجھے مت مارو اللہ کی قسم میں بھاگا نہیں تھا میں جب اپنی ماں کی قبر کے پاس سے گزرا تو میں نے چاہا کہ میں اپنی ماں کو الوداع کہوں اور میں دوبارہ ایسا کام نہیں کروں گا جو تم کو ناپسند ہو۔ اس حبشی نے کہا : اللہ کی قسم تو بہت برا غلام ہے تو کبھی اپنے باپ کو پکارتا ہے اور کبھی اپنی ماں کو پکارتا ہے تو نے اپنے مالکوں کے سامنے ایسا کیوں نہیں کیا ؟ تب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر دعا کی : اے اللہ ! اگر تیرے نزدیک میرے یہ کام خطا ہے تو میں اپنے دادا حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے وسیلہ سے دعا کرتا ہوں کہ تو مجھے معاف کردے اور مجھ پر رحم فرما تب آسمان کے فرشتوں نے چیخ و پکار کی اور حضرت جبریل نازل ہوئے اور کہا : اے یوسف ! اپنی آواز کو پست رکھیں آپ نے تو آسمان کے فرشتوں کو رلا دیا ہے کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں زمین کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر کر کے اس زمین کو الٹ پلٹ کر دوں ! حضرت یوسف نے کہا : اے جبریل ٹھہرو ! بیشک اللہ تعالیٰ حلیم ہے جلدی نہیں کرتا تو جبریل نے زمین پر اپنا پر مارا تو زمین پر اندھیرا چھا گیا اور گردوغبار اڑنے لگا اور سورج کو گہن لگ گیا اور قافلہ اس حال میں تھا کہ کوئی شخص دوسرے کو نہیں پہچان رہا تھا قافلہ کے سردار نے کہا : تم میں سے کسی نے ضرور کوئی ایسا کام کیا ہے جو پہلے نہیں کیا گیا تھا میں اتنے طویل عرصہ سے اس علاقہ میں سفر کر رہا ہوں اور میرے ساتھ کبھی اس قسم کا معاملہ پیش نہیں آیا تب اس حبشی غلام نے کہا میں نے اس عبرانی غلام کو ایک تھپڑ مارا تھا تب اس نے آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور کچھ دعا کی پتا نہیں اس نے کیا دعا کی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے ہمارے خلاف دعا کی تھی۔ سردار نے کہا تو نے ہمیں ہلاک کرنے کا سامان کردیا۔ اس غلام کو ہمارے پاس لے کر آئو وہ حضرت یوسف کو لے کر آیا، سردار نے ان سے کہا اے لڑکے ! اس نے تم کو تھپڑ مارا جس کے نتیجہ میں ہم پر وہ عذاب آیا جس کو تم دیکھ رہے ہو، اگر تم بدلہ لینا چاہتے ہو تو تم جس سے چاہو بدلہ لے لو اور اگر تم معاف کردو تو تم سے یہی توقع ہے۔ حضرت یوسف نے کہا میں اس امید پر اس کو معاف کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرما دے گا تو اسی وقت وہ گردوغبار چھت گیا اور سورج ظاہر ہوگیا اور مشرق اور مغرب میں روشنی پھیل گئی اور وہ سردار صبح و شام حضرت یوسف کی زیارت کرتا تھا اور آپ کی تعظیم و تکریم کرتا تھا حتیٰ کہ حضرت یوسف مصر پہنچ گئے اور آپ نے دریائے نیل میں غسل کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان سے سفر کی تھکاوٹ دور کردی اور ان کا حسن و جمال لوٹا دیا۔ وہ سردار حضرت یوسف کو لے کر دن میں شہر میں داخل ہوا اور ان کے چہرے کا نور شہر کی دیواروں پر پڑ رہا تھا انہوں نے حضرت یوسف کو خریدنے کے لیے پیش کیا تو بادشاہ کے وزیر قطفیر نے حضرت یوسف کو خرید لیا۔ یہ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے

اور ایک قول یہ ہے کہ وہ بادشاہ مرنے سے پہلے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دین کی اتباع کی پھر جن دنوں میں حضرت یوسف مصر کے خزانوں پر مامور تھے وہ بادشاہ مرگیا اور اس کے بعد قابوس بادشاہ ہوا وہ کافر تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے انکار کردیا۔ 

عزیز مصر کی فراست

عزیز مصر نے اپنی اہلیہ سے کہا : یوسف کو تعظیم و تکریم سے ٹھہرائو، یعنی ان کی رہائش کا عمدہ انتظام کرو ان کو اچھے کھانے کھلائو اور خوبصورت کپڑے پہنائو پھر کہا شاید یہ ہم کو فائدہ پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا بنالیں گے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا وہ نامرد تھا اور اس کی اولاد نہیں تھی اسی طرح امام ابن اسحاق نے کہا کہ وہ عورتوں سے مقاربت نہیں کرتا تھا اور اس کی اولاد نہیں تھی اور اس نے جو کہا تھا کہ ہم اس کو بیٹا بنالیں گے تو اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ وہ اس کو منہ بولا بیٹا بنالیں گے اور پچھلی امتوں میں منہ بولے بیٹے بنانے کا عام رواج تھا اور اس طرح اول اسلام میں بھی یہ رواج تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا لوگوں میں سب سے اچھی فراست کا ظہور تین آدمیوں سے ہوا، ایک عزیز مصر تھا جس نے حضرت یوسف کے چہرے سے سعادت کے آثار بھانپ کر کہا شاید یہ ہم کو فائدہ پہنچائے یا ہم اس کو اپنا بیٹا بنالیں گے۔ دوسری حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی تھیں جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں شرافت کے آثار دیکھ کر اپنے والد سے کہا : یا بت استاجرہ ان خیر من استاجرت القوی الامین۔ (القصص : ٢٦) اے ابا جان ! آپ انہیں اجرت پر رکھ لیں بیشک جن کو آپ اجرت پر رکھیں ان میں بہترین شخص وہ ہے جو طاقت ور اور ایمان دار ہو۔ اور تیسرے شخص حضرت ابوبکر صدیق (رض) تھے جنہوں نے حضرت عمر (رض) میں حکمرانی اور جہاں بانی کی استعداد اور صلاحیت دیکھ کر ان کو اپنے بعد اپنا خلیفہ نامزد کردیا۔ (جامع البیان جز ١٢، ص ٢٣٠، معالم التنزیل ج ٢، ص ٣٥١ الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ١٤١۔ ١٣٩، تفسیر ابن کثیر ج ٢، ص ٥٢٤، روح المعانی جز ٢، ص ٣١٤۔ ٣١٠) امام فخر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے لکھا ہے کہ ان میں سے کسی روایت پر قرآن مجید دلالت نہیں کرتا اور نہ کسی صحیح حدیث میں ذکر ہے اور نہ کتاب اللہ کی تفسیر ان میں سے کسی روایت پر موقوف ہے پس صاحب عقل کے لیے ان روایات سے احتراز کرنا زیادہ لائق ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٦، ص ٤٣٥، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ) 

اللہ کے امر کے غالب ہونے کے محامل

اس آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور اللہ اپنے کام پر غلب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ آیت کے اس حصہ کے متعدد محمل ہیں جو حسب ذیل ہیں :

(١) اللہ تعالیٰ اپنے حکم کو نافذ کرنے پر غالب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جس چیز کا ارادہ فرماتا ہے اس کو کر گزرتا ہے آسمان اور زمین میں کوئی اس کی قضاء کو ٹال نہیں سکتا اور نہ اس کے حکم کو روک سکتا ہے۔

(٢) اللہ تعالیٰ حضرت یوسف کے امور اور ان کے معاملات پر غالب ہے ان کے امور انور ان کے معاملات کا انتظام اللہ کی طرف سے ہے اس میں ان کی اپنی سعی اور کوشش کا دخل نہیں ہے، ان کے بھائیوں نے ان کو ہر قسم کی برائی اور ضرر پہنچانے کی کوشش کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ نیکی اور بھلائی پہنچانے کا ارادہ کیا پس جو کچھ ہوا وہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور اس کی تدبیر کے مطابق تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے کہ تمام امور اور معاملات اللہ تعالیٰ کے قبضہ وقدرت میں ہیں اور جو شخص بھی دنیا کے احوال اور عجائب میں غور کرے گا اس کو اس بات کا یقین ہوجائے گا کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے اور اللہ تعالیٰ کی قضا غالب ہے۔

(٣) اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز غالب نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز پر گا لب ہے وہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے متعلق فرماتا ہے : ہوجا، تو وہ ہوجاتی ہے۔ اور اکثر لوگ نہیں جانتے اس کا معنی یہ ہے کہ اکثر لوگ اس کے غیب پر مطلع نہیں ہیں بلکہ کوئی شخص بھی ازخود غیب کو نہیں جانتا، سوا ان کے جن کو وہ خود کسی غیب پر مطلع فرمادے۔ 

قصہ یوسف میں تقدیر کے غالب آنے کی مثالیں

(٤) حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے بھائیوں کے سامنے اس خواب کو نہ بیان کریں پھر اللہ تعالیٰ کا امر اور اس کی تقدیر غالب آگئی حتیٰ کہ یوسف (علیہ السلام) نے یہ خواب بیان کردیا پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے ارادہ کیا تھا کہ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قتل کریں گے پھر اللہ تعالیٰ کی تقدیر غالب آگئی حتیٰ کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) بادشاہ بن گئے اور ان سب نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ کیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے ارادہ کیا تھا کہ وہ اپنے والد کی پوری توجہ اور ان کی محبت کو صرف اپنے لیے حاصل کرلیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی قضا غالب آگئی حتیٰ کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا دل ان سے بیزار ہوگیا بھائیوں کا ارادہ یہ تھا کہ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) پر ظلم کرنے کے بعد توبہ کر کے نیک اور صالح بن جائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر غالب آگئی وہ اپنے گناہوں کو بھول گئے اور ان پر ڈٹے رہے حتیٰ کہ تقریباً ستر سال کے بعد انہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا اور اپنے والد سے کہا انا کنا خاطئین بیشک ہم خطا کرنے والے تھے اور انہوں نے ارادہ کیا تھا کہ جب وہ اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے جائیں گے اور ان کو خون آلود قمیص دکھائیں گے تو وہ اپنے باپ کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی قضا غالب آگئی اور ان کے باپ نے ان کی باتوں سے دھوکا نہیں کھایا اور انہوں نے کہا بل سولت لکم انفسکم امرا بلکہ تم نے اپنے دل سے ایک بات گھڑ لی ہے اور انہوں نے یہ تدبیر کی تھی کہ ان کے باپ کے دل سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی محبت زائل ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ کا امر غالب آگیا اور ان کے باپ کے دل میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی محبت اور الفت اور زیادہ ہوگئی اور عزیز مصر کی اہلیہ نے یہ ارادہ کیا تھا کہ وہ عزیز مصر سے شکایت کرنے میں پہل کرے گی تو اس کو حضرت یوسف کے خلاف بدگمان کر دے گی لیکن اللہ کی تقدیر غالب آگئی اور عزیز مصر نے اپنی اہلیہ کو قصوروار قرار دے دیا اور کہا : استغفری لذنبک انک کنت من الخاطئین اپنے گناہ سے توبہ کرو بیشک تم خطاکاروں میں سے ہو اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے قیدخانہ سے چھٹکارا پانے کی تدبیر کی اور جس شخص نے قید سے رہا ہو کر بادشاہ کو شراب پلائی تھی اس سے کہا بادشاہ کے سامنے میرا ذکر کرنا لیکن اللہ کا امر غالب آگیا اور وہ شراب پلانے والا بادشاہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر کرنا بھول گیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) مزید کئی سال تک قیدخانہ میں رہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 21