أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا‌ ؕ وَكَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب وہ پختگی کی عمر کو پہنچے تو ہم نے ان کو فیصلہ کی قوت اور علم عطا کیا اور ہم اسی طرح نیکوکاروں کو جزا دیتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب وہ پختگی کی عمر کو پہنچے تو ہم نے ان کو فیصلہ کی قوت اور علم عطا کیا اور ہم اسی طرح نیکوکاروں کو جزا دیتے ہیں۔ (یوسف : ٢٢) 

پختگی کی عمر میں متعدد اقوال

مجاہد نے کہا : شادہ (پختگی کی عمر) سے مراد ہے تینتیس (٣٣) سال کی عمر،

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : تیس اور کچھ سال،

ضحاک نے کہا : بیس سال،

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے اٹھارہ اور تیس سال کے درمیان۔

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ لکھتے ہیں : اشد کا معنی ہے قوت اور شباب کا اپنی انتہاء کو پہنچ جانا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس وقت ان کی عمر اٹھارہ سل ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس وقت ان کی عمر بیس سال یا تینتیس سال ہو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کسی حدیث میں اس وقت ان کی عمر کی تعیین کی تصریح نہیں ہے اور نہ ہی عمر کی کسی تعیین پر اجماع امت ہے اس لیے اس لفظ سے وہی مراد لینا چاہیے جس طرح اللہ عزوجل نے فرمایا ہے یعنی جب وہ اپنی قوت اور شباب کی انتہاء کو پہنچ گئے۔ (جامع البیان جز ١٢) ص ٢٣٢۔ ٢٣١) 

حکم اور علم کی تفسیر میں متعدد اقوال

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم نے ان کو حکم اور علم عطا فرمایا، مجاہد نے کہا یعنی نبوت سے پہلے عقل اور علم عطا فرمایا۔ (جامع البیان جز ١٢، ص ٢٣٢۔ ٢٣١، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) امام عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں ہیں : حکم کی تفسیر میں چار قول ہیں :

(١) مجاہد نے کہا حکم سے مراد فقہ اور عقل ہے۔

(٢) ابن السائب نے کہا حکم سے مراد نبوت ہے

(٣) زجاج نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کو حکیم بنادیا گیا اور زجاج نے کہا ہر عالم حکیم نہیں ہوتا حکیم وہ عالم ہوتا ہے جو اپنے علم کو استعمال کرے اور اس سے جہل کا استعمال کرنا ممتنع ہو۔

(٤) ثعلبی نے کہا حکم سے مراد ہے صحیح اور درست بات کہنا ارباب لغت نے کہا عرب کے نزدیک حکم وہ قول ہے جس میں جہل اور خطاء نہ ہو اور نفس جس چیز کی خواہش کرے اور اس میں ضرر ہو تو وہ اس خواہش کو رد کر دے اور اسی وجہ سے حاکم کو حاکم کہتے ہیں کیونکہ وہ ظلم اور کج روی سے روکتا ہے۔ اور علم کی تفسیر میں دو قول ہیں : (١) فقہ (٢) خواب کی تعبیر کا علم۔ (زاد المسیرج ٤، ص ٢٠١۔ ٢٠٠، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں حکم اور علم کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں :

(١) حکم اور حکمت کا اصل میں معنی ہے نفس کو اس کی خواہش سے روکنا اور جو کام انسان کے لیے نقصان دہ ہو اس سے منع کرنا اور حکم سے مراد حکمت عملیہ ہے اور علم سے مراد حکمت نظریہ ہے اور حکمت عملیہ کو حکمت عملیہ پر اس لیے مقدم فرمایا ہے کہ ریاضت کرنے والے پہلے حکمت عملیہ میں مشغول ہوتے ہیں پھر اس سے ترقی کر کے حکمت عملیہ تک پہنچتے ہیں اور مفکرین پہلے حکمت نظریہ کو حاصل کرتے ہیں اس کے بعد حکمت عملیہ کو حاصل کرتے ہیں اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا طریقہ پہلا تھا کیونکہ پہلے انہوں نے مصائب اور مشکلات پر صبر کیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر مکاشفات کے دروازے کھول دیئے اور فرمایا : ہم نے ان کو حکم اور علم عطا فرمایا۔ (حکمت عملیہ سے مراد ہے نفس کو برائیوں سے بچانا اور نیکیوں سے آراستہ کرنا اور حکمت علمیہ سے مراد ہے نفس الامر اور واقع کے حقائق کا علم اور ادراک)

(٢) حکم سے مراد ہے نبوت کیونکہ نبی مخلوق پر حاکم ہوتا ہے اور علم سے مراد ہے دین اور شریعت کا علم۔

(٣) حکم سے مراد ہے نفس مطمئنہ کا نفس امارہ پر حاکم ہونا حتیٰ کہ قوت شہوانیہ اور قوت غضبیہ مغلوب اور مقہور ہوجائیں اور عالم قدس سے انوار الہٰیہ کا جو ہر نفس پر فیضان ہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم نے ان کو حکم اور علم عطا فرمایا اس میں یہ اشارہ ہے کہ ان کی قوت عملی اور قوت علمی دونوں کامل ہوچکی تھیں۔ (تفسیر کبیر ج ٦، ص ٤٣٧، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ) علامہ قرطبی نے کہا اگر ان کو بجپن میں نبوت دی گئی تھی تو اس سے مراد ہے ان کے علم اور فہم میں زیادتی فرمائی۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ١٤٢) 

محسنین کی تفسیر میں متعدد اقوال

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم اسی طرح محسنین (نیکوکاروں) کو جزا دیتے ہیں۔ امام ابن جوزی نے کہا محسنین کی تفسیر میں تین قول ہیں :

(١) مصائب اور مشکلات پر صبر کرنے والے

(٢) ہدایت یافتہ لوگ

(٣) مومنین۔ امام محمد بن جریر طبری نے کہا اگرچہ اس آیت کا ظاہر معنی یہ ہے کہ ہم ہر محسن کو جزا دیتے ہیں لیکن اس سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں یعنی جس طرح حضرت یوسف کو مصائب اور مشکلات میں مبتلا کرنے کے بعد ہم نے ان کو زمین میں اقتدار دیا اور علم عطا فرمایا اسی طرح ہم آپ کے ساتھ معاملہ کریں گے اور آپ کو آپ کی قوم کے مشرکین سے نجات عطا فرمائیں گے اور آپ کو زمین پر اقتدار فرمائیں گے اور آپ کے علوم میں اضافہ فرمائیں گے۔ (زاد المسیر ج ٤، ص ٤٠١)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 22