حدیث نمبر153

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر ہو اور مجھ پر درود نہ پڑھے ۱؎ اس کی ناک گرد آلود ہو جس پر رمضان آئے پھر اس کی بخشش سے پہلے گزر جائے اس کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے اس کے ماں باپ یا ان میں سے ایک بڑھاپا پائے اور اسے جنت میں نہ پہنچائیں ۲؎ (ترمذی)

شرح

۱؎ یعنی ایسا مسلمان خوارو ذلیل ہوجائے جو میرا نام سن کر درود نہ پڑھے۔عربی میں اس بددعا سے مراد اظہار ناراضی ہوتاہے حقیقتًا بددعا مراد نہیں ہوتی،اس حدیث کی بناء پر بعض علماء نے فرمایا کہ ایک ہی مجلس میں اگر چند بار حضور کا نام شریف آوے تو ہر بار درود شریف پڑھنا واجب ہے،مگر یہ استدلال کچھ کمزورسا ہے کیونکہ رَغِمَ اَنفٌ ہلکا کلمہ ہے جس سے درود کا استحباب ثابت ہو سکتا ہے نہ کہ وجوب۔مطلب یہ ہے کہ جو بلا محنت دس رحمتیں،دس درجے،دس معافیاں حاصل نہ کرے بڑا بیوقوف ہے۔

۲؎ یعنی وہ مسلماں بھی ذلیل و خوار ہوجائے جو رمضان کا مہینہ پائے اور اسکا احترام اوراس میں عبادات کرکے گناہ نہ بخشوائے،یونہی وہ بھی خوار ہوجس نے جوانی میں ماں بآپ کا بڑھاپا پایا پھر ان کی خدمت کرکے جتنی نہ ہوا۔ بڑھاپے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ بڑھاپے میں اولاد کی خدمت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور اس وقت کی دعا اولادکا بیڑا پار کردیتی ہے۔خیال رہے کہ یہ تینوں چیزیں مسلمانوں کے لیے مفید ہیں،کافر کسی نیکی سے جنتی نہیں ہوسکتا،ہاں بعض نیکیوں کی وجہ سے اسے ایمان لانے کی توفیق مل جاتی ہے اور بعض کی برکت سے اس کا عذاب ہلکا ہوجاتا ہے۔