۵۴۔ عن علقمۃ عن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال: لَعَنَ اللّٰہُ الْوَاشْمَاتِ الْمُوتَشِمَاتِ وَ الْمُتَنَمصَاتِ وَ الْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَیِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰہِ فَبَلَغَ ذَلِکَ اِمْرأ ۃً من بنی أسد یقال لہا اُم یعقوب فجاء ت فقالت :اِنہ بلغنی أنک لعنت کیت و کیت فقال: و ما لی لا ألعن من لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و من ہو فی کتاب اللہ فقالت : لقد قرأت ما بین اللوحین فما وجدت فیہ ما تقول، قال: لئن کنت قرأتیہ لقد وجدتیہ ، أما قرأت ’’وَ مَا آتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہٗ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہٗ فَانْتَہُوْا‘‘ قالت :بلی ، قال : فاِنہ قد نہی عنہ ، قالت : فاِنی أری أہلک یفعلونہ ، قال : فاذہبی و انظری ، فذہبت و نظرت فلم ترمن حاجتہا شیئا فقال: لو کانت کذلک ماجا معتہا ۔ فتاوی رضویہ حصہ اول ۹/۱۲۲

حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی لعنت بدن گودنیوالیوں او ر گدوانے والیوں پر،منہ کے بال نوچنے والیوں اور خوبصورتی کیلئے دانتوں میں کھڑکیا ں بنانے والیوں اور اللہ تعالیٰ کی بنائی چیز بگاڑنے والیوں پر ۔ یہ سن کر ایک بی بی اسدیہ جنکی کنیت ام یعقوب تھی خدمت مبارک میں حاضر ہوئیں ، عرض کی : میں نے سنا ہے آپ نے ایسی ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے،فرمایا : مجھے کیا ہوا کہ میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ۔اور جس کا بیان قرآن عظیم میں ہے ۔ ان بی بی نے کہا: میں نے قرآن اول سے آ خر تک پڑھا اس میں کہیں اسکا ذکر نہ پایا ۔ فرمایا: تم نے قرآن پڑھا ہوتا تو یہ آیت ضرور پڑھی ہوتی ۔کیا تم نے نہ پڑھا کہ ’’جو رسول تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔ انہوں نے عرض کیا: ہاں ،تو آپ نے فر مایا:بیشک نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان حرکات سے منع فرمایا۔ کہنے لگیں: میں نے تو آپ کی اہلیہ کو بھی اس طرح کرتے دیکھا ہے ۔ فرمایا : جائو، اور دیکھو ۔ وہ گئیں اور دیکھا تو انکے مطلب کی کوئی چیز نظر نہ آئی۔ آپ نے فرمایا : اگر وہ ایسا کرتیں تو میں کبھی انکو اپنے پاس نہ رکھتا ۔

]۵[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں

منکر حدیث دیکھے !کہ اس کاخیال وہی ان بی بی کا خیال اور ہمارا جواب بعینہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جواب ہے ۔ یہ بی بی ام یعقوب اسدیہ ہیں، کبار تابعین و ثقات صالحات سے ہونے میں تو کلام نہیں ،اور حافظ الشان نے فرمایا : صحابیہ معلوم ہوتی ہیں ۔بہر حال انکی فضیلت و صلاح قبول حق پر باعث ہوئی ۔ سمجھ لیں اور اسکے بعد خود اس حدیث کو حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتیں ۔ ابنائے زمانہ سے گزارش کرنی چاہیئے ۔

ع دلا مردانگی زیں زن بیاموز

ولکن الہدایۃ لن تنالا ۔ بلا فضل من المولی تعالیٰ

ایک بار عالم قریش سیدنا امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مکہ معظمہ میں فرمایا : مجھ سے جو چاہو پوچھو! میں قرآن سے جواب دونگا ۔کسی نے سوال کیا احرام میں زنبور کو قتل کرنے کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مَا آتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہٗ وَ مَانَہَاکُمْ عَنْہٗ فَانْتَہُوْا

اللہ عزوجل نے تو فرمایا :کہ ارشاد رسول پر عمل کرو ۔

وحدثنا سفیان بن عیینۃ عن عبد الملک بن عمیر عن ربعی بن خراش عن حذیفۃ بن الیمان عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال:إقْتَدَوْا بِالَّذِیْنَ مِنْ بَعْدِی أبِی بَکْرٍ وَّ عُمَرَ ۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہمیں حدیث پہونچی کہ حضور نے فرمایا : ان دو کی پیروی کر جو میرے جانشین ہونگے ،ابو بکر و عمر ر ضی اللہ تعالیٰ عنہما ’’و حدثنا سفیان بن مسعر بن کدام عن قیس بن مسلم عن طارق بن شہاب عن عمر بن الخطاب ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ أنہ أمر بقتل المحرم الزنبور ۔

یعنی ہمیں امیر المؤمنین عمر ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث پہونچی کہ انہوں نے احرام باندھے ہوئے کو قتل زنبور کا حکم دیا ۔ ذکرہ الامام السیوطی فی الاتقان ۔فتاوی رضویہ حصہ اول ۹/۱۲۲

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۵۴۔ الجامع الصحیح للبخاری ، التفسیر ، /۷۲۵ ٭ الصحیح لمسلم ، اللباس، ۲/۲۰۴

الجامع للترمذی، الادب ، ۱/۲۰۸ ٭ السنن لابن ماجہ ، النکاح ، ۱/۱۴۴

المسند لاحمد بن حنبل ، ۱/۴۳۴ ٭ السنن للنسائی، الزینۃ ، ۲/۲۳۸

السنن لابی داؤد ، الترجل، ۲/۵۷۴ ٭