باب الصلوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وفضلھا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے اور اس کی فضیلت کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ صلوۃ کے معنی ہیں رحمت یا طلب رحمت۔جب اس کا فاعل رب ہو تو بمعنی رحمت ہوتی ہے اور فاعل جب بندے ہوں تو بمعنی طلب رحمت،درود شریف کے فضائل ہماری شمار سے باہر ہیں۔حق یہ ہے کہ ہرمسلمان پر عمر میں ایک بار درود شریف پڑھنا فرض اور ہر مجلس میں جہاں بار بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام شریف لیا جائے ایک بار واجب ہے اور ہر بارمستحب۔نماز کے قعدے میں درود شریف امام شافعی کے ہاں فرض ہے، احناف اور دیگر آئمہ کے ہاں سنت مؤکدہ یا واجب،درود شریف صرف نبی یا فرشتوں پر ہوسکتا ہے غیر نبی پر نبی کے تابع ہو کر درود جائز بالاستقلال مکروہ۔

حدیث نمبر145

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابی لیلی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت کعب ابن عجرہ ملے ۲؎ تو بولے کہ کیا میں تمہیں وہ ہدیہ نہ دوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے میں نے کہا ہاں وہ ہدیہ مجھے ضرور دیں ۳؎ تو فرمایا کہ ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا عرض کیا یارسول اﷲ آپ کے اہل بیت پر دورد کیا ہے اﷲ نے یہ تو ہمیں سکھادیا کہ آپ پر سلام کیسے عرض کریں۴؎ فرمایا یوں کہو اے اﷲ محمد اور آل محمد پر رحمتیں بھیج ۵؎ جیسے حضرت ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمتیں کیں بے شک تو حمد و بزرگی والا ہے ۶؎ اے اﷲ حضور محمد و آل محمد پر ایسی ہی برکتیں بھیج جیسی برکتیں حضرت ابراہیم و آل ابراہیم پر اتاریں۷؎ بے شک تو حمد و بزرگی والا ہے ۸؎ (مسلم و بخاری)مگر مسلم نے دونوں جگہ علیٰ ابراھیم کا ذکر نہ کیا۔

شرح

۱؎ آپ انصاری ہیں،تابعی ہیں،مدنی ہیں،ایک سو بیس صحابہ سے ملاقات کی،خلافت فاروقی میں عمر فاروق کی شہادت سے چھ سال پہلے پیدا ہوئے،آپ کے والد صحابی ہیں،غزوہ احد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔

۲؎ آپ صحابی ہیں،بیعت رضوان میں موجود تھے،کوفہ میں قیام رہا،۷۵ سال عمر ہوئی، ۵۱ھ؁ میں مدینہ منورہ میں انتقال کیا۔

۳؎ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام حضور کی احادیث کو پیش قیمت ہدیہ اور بے بہا اسلامی تحفہ سمجھتے تھے اور نعمت لَایَزَال سمجھ کر اسے سناتے تھے۔

۴؎ یعنی جب آیت کریمہ:”یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا” اتری تو ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ رب نے ہم کو صلوۃ و سلام کا حکم دیا ہمیں التحیات میں آپ کو سلام کرنا تو آگیا مگر صلوۃ کیسے عرض کریں۔خیال رہے کہ یہاں سلام سے مراد التحیات کا سلام ہے اسی لیے مسلم شریف نے اس حدیث کے لیے یہ باب مقرر کیا “بَابُ کَیْفِ الصَّلوٰۃِ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الصَّلوٰۃِ ” معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا تھا کہ ہم پر اور ہمارے اہل بیت پر درود بھیجو تب صحابہ نے یہ سوال کیا۔

۵؎ آل اہل سے بنا بمعنی والاجیسے”وَ اِذْ نَجَّیۡنٰکُمۡ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ ” یا حضور کی بیویاں ہیں،قرآن کریم نے بیویوں کو ا ھل بیت فرمایا ہے” فَقَالَ لِاَہۡلِہِ امْکُثُوۡۤا یا حضور کی ساری اولاد ہے یعنی آپ کے چاروں بیٹے اور چاروں بیٹیاں اور تاقیامت فاطمہ زہرا کی نسل یا تمام بنی ہاشم جن پر زکوۃلینا حرام ہے صحیح یہ ہے کہ حضور کی ساری ازواج اور اولاد آپ کی آل ہے۔اس کی تحقیق ہماری کتاب”شانِ حبیب الرحمان”اور”فہرست القرآن”دیکھو۔

۶؎ یہاں تشبیہ شہرت کی بنا پر ہے ورنہ حضور اور حضور کی صلوۃ ابراہیم علیہ السلام اور ان کی صلوۃ سے افضل ہے،چونکہ ابراہیم علیہ السلام نے ہمارے حضور کے لیے دعائیں مانگیں”رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیۡہِمْ رَسُوۡلًا” اس کے شکریئے میں ہم لوگ ہر نماز میں ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں دیتے ہیں۔

۷؎ یعنی جیسی عزت اور بزرگی ابراہیم علیہ السلام کو دی ایسی ہمارے حضور کو بھی دے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں ہزار ہا انبیاء ہوتے تو حضور کی اولاد میں لاکھوں اولیاء اﷲ ہوں۔

۸؎ خیال رہے کہ یہ درود ابراہیمی ہے نماز میں صرف یہی پڑھا جائے گا اور درود نہیں مگر نماز کے علاوہ یہ درود غیر مکمل ہوگا کیونکہ اس میں سلام نہیں اور قرآن کریم نے صلوۃ و سلام دونوں کا حکم دیا لہذا خارج نماز وہ درود پڑھو جس میں صلوۃ و سلام دونوں ہوں،نماز میں چونکہ التحیات میں سلام آچکا ہے اس لیے یہاں سلام نہ آنا مضر نہیں ہے۔ بعض لوگ اس حدیث کی بناء پر کہتے ہیں کہ درود ابراہیمی کے سوا اور کوئی درود جائز نہیں مگر یہ غلط ہے کیونکہ تمام صحابہ، محدثین،فقہاء یوں کہتے ہیں”قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ”یہ درود ابراہیمی کے علاوہ ہے۔