حدیث نمبر152

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اپنے گھر قبور نہ بناؤ ۱؎ اور میری قبر کو عید نہ بناؤ۲؎ اور مجھ پر درود بھیجا کرو کہ تمہارا درود مجھے پہنچتا ہے تم جہاں بھی ہو۳؎ (نسائی)

شرح

۱؎ یعنی گھروں میں مردے دفن نہ کرو باہر جنگل میں دفن کرو اپنے گھر میں دفن ہونا حضور کی خصوصیت ہے یا اپنے گھروں کو قبرستان کی طرح اﷲ کے ذکر سے خالی مت رکھو بلکہ فرائض مسجد وں میں ادا کرو اور نوافل گھر میں۔

۲؎یعنی جیسے عیدگاہ میں سال میں صرف دوبار جاتے ہیں ایسے میرے مزار پر نہ آؤ بلکہ اکثر حاضری دیا کرو یا جیسے عید کے دن کھیل کود کے لیے میلوں میں جاتے ہیں ایسے تم ہمارے روضہ پر بے ادبی سے نہ آیا کرو بلکہ باادب رہا کرو۔

۳؎ مرقات نے یہاں فرمایا کہ ارواح قدسیہ بدن سے نکل کر ملائکہ کی طرح ہوجاتی ہیں کہ وہ سارے عالم کو کف دست کی طرح دیکھتی ہیں اوران کے لیے کوئی شے حجاب نہیں رہتی۔ یہی مضمون کچھ فرق کے ساتھ اشعۃ اللمعات نے بھی بیان فرمایا لہذا اس حدیث کے معنی یہ ہوئے کہ تم جہاں بھی ہو تمہارے درود کی آواز مجھ تک پہنچتی ہے جب آج بجلی کی طاقت سے وارلیس اور ریڈیو کے ذریعے لاکھوں میل کی آواز سن لی جاتی ہے تو اگر طاقت نبوت سے درود کی آواز سن لی جائے تو کیا بعید ہے۔یعقوب علیہ اسلام نے صدہا میل سے پیراہن یوسف علیہ السلام کی خوشبو پائی،سلیمان علیہ السلام نے تین میل سے چیونٹی کی آواز سنی حالانکہ آج تک کوئی طاقت چیونٹی کی آواز نہ سنا سکی تو ہمارے حضور بھی درود خوانوں کی آواز ضرور سنتے ہیں۔