أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ بَدَا لَهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا رَاَوُا الۡاٰيٰتِ لَيَسۡجُنُـنَّهٗ حَتّٰى حِيۡنٍ۞

ترجمہ:

پھر (یوسف کی پاکبازی کی) علامات دیکھنے کے باوجود ان کی یہی رائے ہوئی کہ وہ کچھ عرصہ کے لیے یوسف کو ضرور قید کردیں۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر (یوسف کی پاکبازی کی) علامات دیکھنے کے باوجود ان کی یہی رائے ہوئی کہ وہ کچھ عرصہ کے لیے یوسف کو ضرور کردیں۔ (یوسف : ٣٥) 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قید کرنے کا سبب

جب عزیز مصر پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تہمت سے برأت ظاہر ہوگئی تو واضح طور پر اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کوئی تعرض نہیں کیا ادھر وہ عورت اپنی تمام حیلہ سازیوں اور مکر و فریب کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنی موافقت پر ابھارتی رہی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی پھر جب وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے مایوس ہوگئی تو اس نے اپنا انتقام لینے کے لیے اپنے خاوند سے کہا اس عبرانی غلام نے مجھے لوگوں کے درمیان رسوا کردیا ہے یہ لوگوں سے کہتا پھرتا ہے کہ اس عورت نے اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے مجھے بہکایا اور ورغلایا تھا اور میں ہر شخص کے سامنے جاکر اپنا عذر نہیں بیان کرسکتی اس لیے اس فحش بات کا چرچا روکنے کے لیے اس غلام کو قید کردیا جائے۔ عزی زمصر نے سوچا اس طرح اس کی بھی بدنامی ہو رہی ہے، اس لیے مصلحت اسی میں ہے کہ لوگوں کی زبانیں بند کرنے کے لیے اس کو قید کردیا جائے۔ (جامع البیان جز ١٢ ص ٢٧٩، ملخصاً ) 

حصرت یوسف (علیہ السلام) کی پاکبازی کی علامات

اس آیت میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاکبازی کی علامات کا ذکر ہے وہ علامات یہ تھیں : حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قمیص کا پیچھے سے پھٹا ہوا ہونا، حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اس عورت سے بھاگنا اور اس عورت کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کا پیچھا کرنا اس عورت کے خاندان کے ایک شخص کا اس عورت کو قصور وار قرار دینا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برأت کو بیان کرنا اس دعوت میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر ان عورتوں کا ہاتھ کاٹ لینا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برأت کے لیے سبحان اللہ کہنا اور ان کی پارسائی کی وجہ سے ان کو فرشتہ قرار دینا۔ 

قید کی مدت

عکرمہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سات سال قید خانے میں رہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٧٤٠)

طارق اور سعید بن جبیر نے کہا : یہ مدت چھ ماہ تھی۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١١٥٩١)

ابو صالح نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ مدت پانچ سال تھی۔ حضرت ابن عباس سے ایک اور روایت ہے کہ یہ مدت ایک سال تھی۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے سات سال کی روایت کی ہے۔ عطا نے کہا : یہ قید اس وقت تک کے لیے تھی حتیٰ کہ لوگوں کی زبانیں اس واقعہ کے ذکر سے بند ہوجائیں۔ الماوردی نے کہا : اس قید کی کوئی مدت معین نہیں کی گئی تھی اور ان کو غیر محدود مدت کے لیے قید کیا گیا تھا اور یہی قول صحیح ہے۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٢٢٢، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ١٤٠٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 35