حکایت نمبر293: خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے کھجوریں قبول نہ کیں

حضرتِ سیِّدُنا اسماعیل بن اِسحاق علیہ رحمۃاللہ الرزاق سے منقول ہے کہ” حضرت سیِّدُناعَافیہ قاضی علیہ رحمۃاللہ الہادی بہت بڑے عابدوزاہدتھے۔خلیفہ مَہْدِی نے انہیں ایک علاقے کاقاضی مقررکردیا۔ایک مرتبہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ دوپہرکے وقت خلیفہ کے پاس گئے ۔خلیفہ نے اپنے پاس بلا کرحال دریافت کیا۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے سرکاری کاغذات سے بھراہوا تھیلا خلیفہ کے سامنے رکھتے ہوئے کہا: ”اے خلیفہ!میں عہدۂ قضاء سے اِسْتِعْفٰی دیتاہوں،آپ میری جگہ جسے چاہیں قاضی مقررکردیں،اب میں یہ ذمہ داری نہیں سنبھال سکتا۔”خلیفہ نے سُناتو سمجھاکہ شاید کسی سرکاری نمائندے یا صاحب ِ اَثرشخص نے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو تنگ کیا ہو گا۔ خلیفہ نے پوچھا: ”آپ(رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ)کوکس نے تنگ کیا؟کون ہے !جوآپ(رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ)کے معاملات میں دخیل ہوکرآپ(رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ)کوتنگ کررہاہے کہ آپ(رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ)استعفیٰ دینے کوتیارہوگئے ہیں؟”

قاضی عافیہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”اے خلیفہ!ایسی کوئی بات نہیں۔اصل بات کچھ اورہے۔ہوایوں کہ دوشخصوں کا مقدمہ تقریباًدوماہ سے میرے پاس تھا۔وہ مقدمہ ایسامشکل وحیران کُن تھاکہ ابھی تک حل نہیں ہوا۔ان میں سے ہرایک ثبوت وگواہ پیش کرچکاہے۔دونوں کے پاس اپنے اپنے دعویٰ پردلائل وگواہ موجود ہیں۔مجھے سمجھ نہیں ارہاتھاکہ ان کافیصلہ کس طرح کروں۔دوماہ تک یہی سلسلہ جاری رہا۔بالآخرمیں نے ان سے کہا،تم دونوں اپنے اپنے دعویٰ پردلائل وگواہ پیش کرچکے ہو، تمہارا فیصلہ کچھ دن بعدفلاں تاریخ کو ہو گا،میں تمہارے معاملے میں غوروفکرکروں گا۔جاؤ،فلاں دن آجانا۔وہ دونوں چلے گئے اورمیں غوروفکرکرنے لگا۔میں نے یہ مقدمہ اس لئے مؤخرکیاتھاکہ شایدیہ دونوں آپس میں صلح کرلیں گے ورنہ کم ازکم مجھے ان کے مقدمے میں غوروفکرکاموقع مل جائے گا۔مجھے تازہ اور عمدہ کجھوریں بہت پسندتھیں ان دونوں میں سے ایک شخص کومیری اس پسندکے بارے میں معلوم ہوگیا۔ابھی کھجوریں پکناشروع ہی ہوئی تھیں اورتازہ کھجوریں ان دنوں بڑے بڑے روساء وامراء کوبھی بڑی مشکل سے میسرآتی تھیں۔ وہ شخص نہ جانے کہاں سے اعلیٰ قسم کی تازہ کھجوروں سے بھراتھال لے آیا۔اس نے میرے خادم کو چند درہم رشوت دے کر اس بات پر راضی کر لیا کہ کھجوروں کا وہ تھال مجھ تک پہنچا دے۔ اس نے اس بات کی پرواہ نہ کی کہ میں یہ کھجوریں واپس کر دوں گا۔ اس نے کھجوروں کا تھال مجھے بھجوا دیا ،میں نے ان میں سے ایک کھجور بھی نہ لی اور خادم سے کہا کہ جہاں سے لائے ہو وہیں واپس لے جاؤ ۔میں ہر گز قبول نہ کروں گا ۔چنانچہ، وہ شخص اپنی کھجوریں لے کر واپس چلا گیا ۔دوسرے دن وہ اپنے مخالف فریق کے ساتھ میرے پاس آیا۔ آج ان کا فیصلہ ہونا تھا جب وہ دونوں میرے سامنے آئے ، میری نظر اور میرے دل میں وہ دونوں برابر کی حیثیت سے نہ آئے ۔مجھے ایسا لگا کہ میری توجہ اس شخص کی طرف زیادہ ہور ہی ہے جو کھجوریں لے کر آیا تھا۔ا ے خلیفہ! مجھے اپنی یہ کیفیت ہر گز ہر گز قبول نہیں۔ میں نے وہ کھجوریں قبول نہ کیں تب میری یہ حالت ہے۔اگر خدا نخواستہ قبول کر لیتا تو میرا کیا بنتا؟ میں نہیں چاہتا کہ کسی وجہ سے میں دینی معاملات میں رکاوٹ وفسادکاباعث بنوں اورہلاکت میرامقدَّربن جائے۔مجھے یہ بات باکل پسند نہیں کہ میری وجہ سے لوگوں میں فساد وبدامنی پھیلے۔ خدارا! مجھے معاف فرمائیں اور میری جگہ کسی اور کو قاضی مقرر کر دیں ،آپ کا مجھ پر احسان ہو گا۔” خلیفہ نے جب ان کی اخلاص بھری باتیں سنیں تو اِستِعْفٰی قبول کر کے ان کی جگہ کسی اور کو قاضی بنا دیا۔اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے اس طرح واپس ہوئے جیسے بہت بڑا بوجھ آپ کے سر سے اُتر گیا ہو ۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)؎ اللہ اس سے پہلے ایمان پہ موت دے دے نقصاں میرے سبب سے ہو سنتِ نبی کاصلي اللہ عليہ وسلم