دین ہر وصف کی عزت ہے

عورتوں کو یہ نہ سمجھنا چاہیئے کہ یہ ہماری برائی کی جارہی ہے بلکہ اللہ اور رسول کی طرف سے اصل مال اصل عزت اور اصل حسن سے آگاہ کیا جارہا ہے کہ وہ دین ہے، دینداری ہے،یہ حسن اللہ اور رسول کی بارگاہ کا ہے،یہ خوبصورتی دائرہٗ اسلام کی ہے،دوسرے اوصاف کے ساتھ یہ وصف ہو تو ان اوصاف کی طرف سے آنے والی خرابیوں سے بچا لیتا ہے ،اسلام نے دوسرے اوصاف پرانتخاب کو حرام نہیں فرما دیا ، بلکہ یہ رغبت دی گیٔ دین والی کو ترجیح دینی چاہیئے،دوسرا مطلب یہ کہ دوسرے اوصاف کی حاملین میں اگر دینداری پائی جارہی ہے تو سونے پر سھاگہ مگر ہمارا مطمح نظر دین ہونا چاہیئے،اور ان اوصاف کی حاملین میں دینداری نہ ہو تو جو دیندار ہو اسی کو ترجیح دینا چاہیئے

دیندار بدصورت بھی اچھی

نبی اکرم نور مجسم ﷺ نے فرمایا لاتزوجوا النسآء لحسنھن فعسیٰ حسنھن ان یردیھن ولا تزوجوھن لاموالھن فعسیٰ اموالھن ان تطغیھن ولٰکن تزوجھن علی الدین ولامۃ خرمآء سودآء ذات دین افضل عورتوں سے ان کے حسن کی وجہ سے نکاح نہ کرو،ہو سکتا ہے انکا حسن انہیں خراب کردے،اور ان سے ان کے مالوں کی وجہ سے نکاح نہ کرو،ہو سکتا ہے انکا مال انہیں سرکش بنا دے،ان سے انکے دین کے نام پر نکاح کرو،اور ضرور کالی باندی دین والی افضل ہے ( ابن ماجہ عن ابن عمرو،کنز العمال ج۱۶ص۲۹۲)

اس حدیث پاک سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اسلام میں دینداری کی حیثیت کیا ہے کہ آپنے یہاں تک ارشاد فرمایا کہ آزاد عورتوں میں دینداری کا وصف نہ ہو،مالدار اور حسین عورتوں میں دین کا کمال نہ ہو تو باندی اگرچہ ماحول میں آزاد عورتوں سے نیچلے طبقہ میں ہے مگر دینداری کی وجہ سے وہی ان سب پر قابل ترجیح ہے،مسلمان جب مسلمان ہے تو اسکی ذہنیت بھی ہر اعتبار سے مسلمان ہونی چاہیئے،اس لئے جو اللہ اور رسول کی بارگاہ میں قابل عزت ہے اسکا پتہ دیا جارہا ہے