شیطان و نفس کی دشمنیوں کی حکمت

🌺 إذا علمت أن الشيطان لا يغفل عنك فلا تغفل أنت عمن ناصيتك بيده، جعله لك عدوا ليحوشك به إليه، وحرك عليك النفس لتديم إقبالك عليه

📘الحكم العطائية

🏵( قرآن و سنت سے ) یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ شیطان ( کھلا دشمن ) ہر وقت آپ کی ٹوہ اور تاڑ میں ہے ۔ کبھی چوکتا نہیں ۔ مبتلاء غفلت نہیں ہوتا تو ( اس کا ایک ہی علاج ہے کہ ) تم اس ( رب العالمین ) سے غافل نہ ہو جس کے دست قدرت کے قبضہ میں تیری پیشانی ہے ۔۔

اللہ نے اسے تمہارا دشمن بنایا ہے تاکہ اس کی وجہ سے تجھے مکمل طور پر اپنی جناب کی طرف کھینچ لے ۔ اور ، شیطان کے ساتھ ساتھ تیرے نفس ( امارہ ) کو بھی ( تیرے خلاف ) متحرک رکھا ہوا ہے تاکہ تیرا دھیان و فکر بھی ہر دم اسی کی ذات کی طرف متوجہ رہے ۔

✒ فقیر خالد محمود عرض گذار ہے کہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ پانی کی رفتار سست ہو جانے کے متوقع مقامات پر رکاوٹیں بنا دی جاتی ہیں ۔ باد مخالف پرواز کو بلند کرتی ہے ۔ دشمنیوں والے ہی ہمیشہ چوکنے ہوتے ہیں

اسی طرح نفس انسانی کی دنیا کے ساتھ محبت ، نہ ختم ہونے والی خواہشات ، ہردم فزوں حسرتوں، تمناؤں، اللہ تبارک و تعالی سے روکنے والی متعدد لذتوں کی تحریکوں کے ساتھ ہر وقت کی محاذ آرائی ایک مؤمن کے ذات باری تعالی کی سمت سفر کو مزید تیز تر بنا دیتی ہے ۔

اور کیا خوب کہا ہے الشيخ أبو العباس رضي الله عنه نے

✅عداوة العدو حقاً هي اشتغالك بمحبة الحبيب حقاً ۔

دشمن کے ساتھ حقیقی دشمنی ہے ہی تمہارا اپنے محبوب کی محبت میں فی الواقع کھویا رہنا ۔

( دشمن کی باتوں میں آئے رہنا ، اسے دشمن سمجھنا ہرگز اس کے ساتھ دشمنی نہیں، کہنے کو جو بھی کہا جاتا رہے )

یار کی یاری یا دشمن کی دشمنی ایک وقت میں ان میں سے کسی ایک میں ہی بندہ مشغول ہو سکتا ہے ۔

اور جناب ذو النون المصري رضي الله عنه کی فہمائش ہے

🌺 إن كان هو يرانا من حيث لا نراه فالله يراه من حيث لا يرى الله فاستعن بالله عليه”

اگر شیطان ہمیں ایسے طور پر دیکھتا ہے کہ ہم اسے دیکھ نہیں پاتے تو ہمارا رب تو اسے اس وقت بھی دیکھ رہا ہوتا ہے جب یہ لعین اسے دیکھ نہیں رہا ہوتا ۔ تو پھر اس مردود کے خلاف اسی جل و علا کی مدد ڈھونڈو ۔

✒ از قلم شیخ الحدیث و التفسیر حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب مہتمم ادارہ معارف القران کشمیر کالونی کراچی خادم جامع مسجد حضرت سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا مصطفی آباد پھالیہ منڈی روڈ منڈی بہاؤالدین