حدیث نمبر150

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ کے کچھ فرشتے زمین میں سیر و سیاحت کرتے ہیں جو میری امت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں ۱؎(نسائی،دارمی)

شرح

۱؎ یعنی ان فرشتوں کی یہی ڈیوٹی ہے کہ وہ آستانہ عالیہ تک امت کا سلام پہنچایا کریں۔یہاں چند باتیں قابل خیال ہیں:ایک یہ کہ فرشتے کے درود پہنچانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضور بنفس نفیس ہر ایک کا درود نہ سنتے ہوں،حق یہ ہے کہ سرکار ہر دورو قریب کے درود خواں کا درود سنتے بھی ہیں اور درود خواں کی عزت افزائی کے لیے فرشتے بھی بارگاہِ عالی میں درود پہنچاتے ہیں تاکہ درود کی برکت سے ہم گنہگاروں کا نام آستانہ عالیہ میں فرشتہ کی زبان سے ادا ہو۔ سلیمان علیہ السلام نے تین میل سے چیونٹی کی آواز سنی تو حضور ہم گنہگاروں کی فریاد کیوں نہ سنیں گے،دیکھو رب تعالٰی ہمارے اعمال دیکھتا ہے پھر بھی اسکی بارگاہ میں فرشتے اعمال پیش کرتے ہیں۔دوسرے یہ کہ یہ فرشتے ایسے تیز رفتار ہیں کہ ادھر امتی کے منہ سے درود نکالا ادھر انہوں نے سبز گنبد میں پیش کیا اگر کوئی ایک مجلس میں ہزار بار درود شریف پڑھیں تو یہ فرشتہ ان کے اور مدینہ طیبہ کے ہزار چکر لگائے گا یہ نہ ہوگا کہ دن بھر کے درود تھیلے میں جمع کرکے ڈاک کی طرح شام کو وہاں پہنچائے جیسا کہ اس زمانہ کے بعض جہلاء نے سمجھا۔ تیسرے یہ کہ اﷲ تعالٰی نے فرشتوں کو حضور انور کا خدام آستانہ بنایا ہے،حضور انور کا خدمت گار ان فرشتوں کا سا رتبہ رکھتے ہیں۔