أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا رَاٰ قَمِيۡصَهٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنۡ كَيۡدِكُنَّ‌ؕ اِنَّ كَيۡدَكُنَّ عَظِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

پھر جب اس نے یوسف کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی دیکھی تو اس نے کہا یہ تم عورتوں کی سازش ہے۔ بیشک تمہاری سازش بہت سنگین ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر جب اس نے یوسف کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی دیکھی تو اس نے کہا یہ تم عورتوں کی سازش ہے، بیشک تمہاری سازش بہت سنگین ہے۔ یوسف اس سے درگزر کرو اور اے عورت ! تم اپنے گناہ کی معافی مانگو، بیشک تم گناہ گاروں میں سے تھیں۔ (یوسف : ٢٩۔ ٢٨) 

عزیز مصر کی بیوی کو معافی مانگنے کی تلقین

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اس گواہ کا قول ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اس عورت کے خاوند یعنی عزیز مصر کا قول ہو عزیز مصر نے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ اے یوسف ! تم اس سے درگزر کرو اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ اس بات کو مخفی رکھو اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا کیونکہ اگر یہ بات پھیل جاتی تو اس سے عزیز مصر کی بدنامی ہوتی کیونکہ اگر کسی شخص کی بیوی بدچلن ہو تو یہ اس شخص کے لیے موجب عار ہوتا ہے اور جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بےقصوف ہونا اور اس عورت کا مجرم ہونا ظاہر ہوگیا تو اس گواہ نے کہا کہ تم اپنے خاوند سے معافی مانگو کیونکہ تم نے اس کی امانت میں خیانت کرنے کی جسارت کی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے خاوند نے کہا ہو کہ تم اپنے گناہ کی اللہ سے معافی مانگو، کیونکہ اگرچہ وہ لوگ کافر اور بت پرست تھے لیکن اللہ تعالیٰ کو ماننے والے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے قید خانہ میں فرمایا تھا : ء ارباب متفرقون خیر ام اللہ الواحد القھار (یوسف : ٣٩) کیا الگ الگ کئی معبود بہتر ہیں یا ایک اللہ جو سب پر غالب ہے۔ عزیز مصر نے اپنی بیوی سے کہا : بیشک تم گناہ گاروں میں سے تھیں، اس کے خاوند نے اپنی بیوی کی طرف گناہ کی نسبت کی اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے خاوند کو ابتداء ہی سے یہ معلوم تھا کہ قصوروار اور خطاکار اس کی بیوی ہے نہ کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کی بیوی غلط حرکتیں کرتی رہتی ہے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کے خاوند میں غیرت کا مادہ بہت کم تھا ورنہ اگر اس میں غیرت اور حمیت ہوتی تو وہ ایسی بدچلن اور بدقماش عورت کو قتل کردیتا یا اس کو بہت سخت اور عبرت ناک سزا دیتا پھر طلاق دے کر گھر سے نکال دیتا لیکن اس نے صرف اس پر اکتفا کیا کہ بیوی سے یہ کہا کہ تم اپنے گناہ کی معافی مانگو۔ علامہ قرطبی نے کہا ہے کہ مصریوں میں غیرت کا مادہ کم ہوتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے غیرت کا مادہ سلب کرلیا ہو۔ 

عورتوں کے مکر کا عظیم ہونا

عزیز مصر یا اس عورت کے عم زاد نے کہا : تم عورتوں کی سازش بہت عظیم ہوتی ہے اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے : وخلق الانسان ضعیفا۔ (النساء : ٢٨) اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ پس جب انسان فی نفسہٖ ضعیف ہے تو انسان کی ایک صنف یعنی عورت کا مکر اور ان کی سازش عظیم کیسے ہوگئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کی خلقت فرشتوں، جنات، آسمانوں، سیاروں اور پہاڑوں کی بہ نسبت ضعیف ہے اور عورتوں کا مکر اور ان کی سازش مردوں کے مکر اور ان کی سازش کے مقابلہ میں عظیم ہوتی ہے اس کی تائید اس حدیث میں ہے :

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید الفطر یا عید الاضحی کی نماز پڑھانے کے لیے عیدگاہ میں تشریف لے گئے جب آپ عورتوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے عورتوں کو مخاطب کر کے فرمایا : اے خواتین ! تم صدقہ کیا کرو، کیونکہ مجھے یہ دکھایا گیا ہے کہ اہل دوزخ میں تمہاری تعداد بہت زیادہ ہے۔ عورتوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! وہ کس وجہ سے ؟ آپ نے فرمایا : تم لعن طعن بہت زیادہ کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو اور عورتیں جو ناقص العقل اور ناقص الدین ہیں ان میں سے میں نے کوئی ایسی نہیں دیکھی جو تم سے زیادہ کسی ہوشیار اور دانا مرد کی عقل کو زائل کرنے والی ہو۔ انہوں نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمارے دین میں کیا کمی ہے اور ہماری عقل میں کیا کمی ہے ؟ آپ نے فرمایا : کیا یہ بات نہیں ہے کہ عورت کی شہادت مرد کی شہادت کا نصف ہوتی ہے ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا : یہ عورتوں کی عقل کی کمی ہے آپ نے فرمایا : کیا یہ بات نہیں ہے کہ جب عورتوں کو حیض آتا ہے تو وہ نماز پڑھتی ہیں نہ روزہ رکھتی ہیں ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں آپ نے فرمایا : یہ ان کے دین کی کمی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٠٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٠، ٧٩، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٧٩، سنن النسائی رقم الحدیث : ١٥٧٦، السنن الکبریٰ رقم الحدیث : ١٤٣٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٠٣، مسند احمد ج ٢، ص ٦٦، طبع قدیم، مسند احمد رقم الحدیث : ٥٣٤٣، عالم الکتب دارالفکر)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 28