أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَكۡرِهِنَّ اَرۡسَلَتۡ اِلَيۡهِنَّ وَاَعۡتَدَتۡ لَهُنَّ مُتَّكَـاً وَّاٰتَتۡ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنۡهُنَّ سِكِّيۡنًا وَّقَالَتِ اخۡرُجۡ عَلَيۡهِنَّ ‌ۚ فَلَمَّا رَاَيۡنَهٗۤ اَكۡبَرۡنَهٗ وَقَطَّعۡنَ اَيۡدِيَهُنَّ وَقُلۡنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا ؕ اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

جب اس عورت نے ان عورتوں کی نکتہ چینی سنی تو اس نے ان کو بلوایا اور اس نے ان کے لیے تکیے سجا کر ایک محفل منعقد کی اور ان میں سے ہر ایک کو ایک چھری دے دی اور (یوسف سے) کہا ان کے سامنے باہر آئو۔ ان عورتوں نے جب یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا تو بہت عظیم جانا اور انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے اور کہا سبحان اللہ ! یہ بشر نہیں ہے یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب س عورت نے ان عورتوں کی نکتہ چینی سنی تو اس نے ان کو بلوایا اور اس نے ان کے لیے تکیے سجا کر ایک محفل منعقد کی اور ان میں سے ہر ایک کو ایک چھری دے دی اور (یوسف سے) کہا ان کے سامنے باہر آئو ان عورتوں نے جب یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا تو بہت عظیم جانا اور انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے اور کہا : سبحان اللہ ! یہ بشر نہیں ہے تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔ (یوسف : ٣١) 

مصر کی عورتوں کی نکتہ چینی کا منشاء

اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کی نکتہ چینی کو مکر سے تعبیر فرمایا ہے اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) ان عورتوں یہ نکتہ چینی اس لیے کی تھی تاکہ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے رخ زیبا کو دیکھ سکیں کیونکہ ان کو اندازہ تھا کہ جب عزیز مصر کی بیوی ان کی اس تنقید کو سنے گی تو وہ ان کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا چہرہ مبارک دکھائے گی تاکہ ان عورتوں کو معلوم ہوجائے کہ اگر وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) پر فریفتہ ہوگئی ہے تو وہ اس میں معذور ہے۔

(٢) عزیز مصر کی بیوی نے ان عورتوں کو اپنا رازدار بنایا تھا اور یہ بتادیا تھا کہ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے محبت کرتی ہے لیکن جب ان عورتوں نے اس کا راز فاش کردیا تو یہ ان کی بدعہدی اور مکر تھا۔

(٣) ان عورتوں نے اس کی غیبت کی تھی اور یہ غیبت مکر کے مشابہگ تھی۔ یہ عورتیں بظاہر عزیز مصر کی بیوی پر نکتہ چینی کر رہی تھیں کہ وہ اپنے غلام پر فریفتہ ہوگئی ہے لیکن حقیقت میں وہ یہ چاہتی تھیں کہ عزیز مصری بیوی اپنا عذر ظاہر کرنے کے لیے انہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا حسین و جمیل چہرہ دکھائے

اسی طرح جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرض وفات میں حضرت ابوبکر (رض) کو امام بنانے کا حکم دیا اور حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا کہ آپ حضرت عمر کو نماز پڑھانے کا حکم دے دیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کی عورتوں کی طرح ہو۔ حضرت عائشہ ام المومنین (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیماری کے ایام میں فرمایا : ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھئایں۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا کہ ابوبکر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر رونے کا غلبہ ہوگا اور وہ لوگوں کو اپنی قرأت نہیں سنا سکیں گے آپ حضرت عمر کو نماز پڑھانے کا حکم دیں۔ پھر حضرت عائشہ نے حضرت حفصہ (رض) سے کہا کہ آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہیں کہ حضرت ابوبکر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر رونے کا غلبہ ہوگا اور وہ لوگوں کو اپنی قرات نہیں سنا سکیں گے۔ حضرت حفصہ نے اسی طرح کہا تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چھوڑو تم تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کی عورتوں کی طرح ہو ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں اور حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ سے کہا : میں تمہارے مقابلہ میں کبھی خیر کو حاصل نہیں کرسکتی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٧٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤١٨، سنن النسائی رقم الحدیث : ٨٣٤، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٧٠٨٤)

حضرت عائشہ (رض) کا منشاء یہ تھا کہ اگر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صرف ایک مرتبہ حکم دینے سے حضرت ابوبکر کو امام بنادیا جاتا تو ہوسکتا ہے کہ بعد میں کوئی کہنے والا یہ کہتا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیماری کے کس حال میں یہ حکم دیا تھا یا سہو یا غفلت میں یہ حکم دیا تھا یا اتفاقاً یہ حکم دیا تھا اگر آپ کی توجہ کسی اور کی طرف دلائی جاتی تو آپ اس کو حکم دے دیتے لیکن جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دو بار حضرت عمر کی طرف توجہ دلائی گئی اور آپ نے ہر بار حضرت بوبکر ہی کو امام بنانے کا حکم دیا تو واضح ہوگیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غفلت سے یا بیماری کے کسی حال میں یہ حکم نہیں دیا تھا بلکہ پوری توجہ، حاضر دماغی اور بیداری ذہن کے ساتھ یہ حکم دیا تھا اور حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ (رض) کا باربار کسی اور کا سوال کرنا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہر بار بالاصرار حضرت ابوبکر ہی کا حکم دینا حضرت ابوبکر کی امامت کو پختہ اور موکد کردیتا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا : تم حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کی عورتوں کی طرح ہو یعنی جس طرح وہ بظاہر عزیز مصر کی بیوی پر نکتہ چینی کر رہی تھیں اور حقیقت میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا جمال دیکھنا چاہتی تھیں اسی طرح تم بھی بظاہر یہ کہہ رہی ہو کہ کسی اور کو امام بنایا جائے اور درحقیقت تم یہ چاہتی ہو کہ حضرت ابوبکر کی امامت کو اور پختہ اور موکد کردیا جائے تاکہ کوئی کہنے والا یہ نہ کہہ سکے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیماری کے کسی حال میں حضرت ابوبکر کو امام بنایا تھا۔ 

مصری خواتین کی دعوت کا اہتمام

عزیز مصر کی بیوی نے جب یہ سنا کہ یہ عورتیں اس کی حضرت یوسف (علیہ السلام) سے بےحد زیادہ محبت کی وجہ سے اس کو ملامت کر رہی ہیں تو اس نے اپنے عذر کو ظاہر کرنے کا ارادہ کیا۔ اس نے ان عورتوں کو بلایا اور ان کے لیے ایک مجلس منعقد کی۔ قرآن مجید میں متکئا کا لفظ ہے اس کا معنی ہے چھوٹے تکیے ور گدے اس کا دوسرا معنی ہے طعام۔ عتبی نے کہا : اصل محاورہ یہ ہے کہ تم جس شخص کو کھانے کی دعوت دو پھر تم اس کے بیٹھنے کے لیے گدے بچھائو تو اس طعام کو بطور استعارہ متکئا کہا جاتا ہے اس کا تیسرا معنی ہے اترج یا اترنجہ۔ یہ ایک خوش رنگ اور خوش ذائقہ پھل ہے اس کا حجم بڑا ہوتا ہے اور اس کا ذائقہکھٹا اور میٹھا ہوتا ہے اس کی تاثیر گرم تر ہے اور اس کے طبی فوائد بہت زیادہ ہیں۔ اس کا اصل معن یہی ہے کہ لیکن اس جگہ یہ انواع و اقسام کے پھلوں پر محمول ہے جو اس مجلس میں ان کے کھانے کے لیے رکھے گئے تھے۔ اس کا چوتھا معنی ہے ایسے پھل جو کاٹ کر کھائے جاتے ہیں۔ (زاد المسیر، الجامع لاحکام القرآن، تفسیر کبیر) خلاصہ یہ ہے کہ عزیز مصر کی بیوی نے ان عورتوں کی دعوت کی اور ان میں سے ہر عورت کو ایک معین جگہ بٹھا دیا اور پھل یا گوشت کاٹنے کے لیے ہر ایک کے ہاتھ میں چھری دے دی پھر اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ وہ ان عورتوں کے سامنے آئیں اور ان عورتوں کے سامنے سے گزریں۔ جب ان عورتوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اچانک دیکھا تو انہوں نے آپ کو بہت عظیم جانا اور وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے جلوہ حسن کو دیکھنے میں اس قدر منہمک اور مستغرق ہوئیں کہ انہوں نے پھلوں کے بجائے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے اور ان کو بالکل پتا نہیں چلا۔ 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے غیر معمولی حسن کے متعلق احادیث اور آثار

حضرت انس (رض) نے معراج کے سلسلہ میں ایک طویل حدیث روایت کی ہے اس میں ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے جایا گیا۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے دروازہ کھلوایا ان سے پوچھا گیا : تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا : جبرئیل ان سے پوچھا گیا : تمہارے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے کہا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا گیا : کیا انہیں بلایا گیا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں انہیں بلایا گیا ہے ! پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا تو وہاں حضرت یوسف (علیہ السلام) تھے اور (لوگوں کا) نصف حسن ان کو عطا کیا گیا تھا، الحدیث۔ (صحیح مسلم الایمان : ٢٥٩ (١٦٢) الرقم المسلسل : ٤٠٤)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو نصف حسن عطا کیا گیا تھا۔ (مسند احمد رقم الحدیث : ١٤٠٥ دارالفکر طبع جدید، جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٧١٢، المستدرک ج ٢ ص ٥٧٠)

ربیعہ الجرشی نے کہا : حسن کے دو حصے کیے گئے ایک حصہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو دیا گیا اور باقی ایک حصہ تمام لوگوں کو دیا گیا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٧١٥، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١١٥٥٩)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت یوسف کا چہرہ بجلی کی طرح چمکتا تھا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١١٥٥٩)

امام ابن المنذر، امام ابو الشیخ اور امام طبرانی نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا چہرہ بجلی کی طرح چمکتا تھا اور جب کوئی عورت ان کے پاس کسی کام سے آتی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے چہرے پر نقاب ڈال لیتے تھے اس خوف سے کہ کہیں وہ عورت کسی فتنہ میں مبتلا نہ ہوجائے۔ (الدر المنثور ج ٤ ص ٥٣٢)

امام ابو الشیخ نے اسحاق بن عبداللہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) جب مصر کی گلیوں میں جاتے تھے تو ان کا چہرہ دیواروں پر اس طرح چمکتا تھا جس طرح سورج دیواروں پر چمکتا ہے۔ (الدر المنثور ج ٤ ص ٥٣٢)

امام عبد بن حمید، امام ابن المنذر اور امام ابو الشیخ حضرت عکرمہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسن کی لوگوں پر اس طرح فضیلت تھی جس طرح چودھویں رات کے چاند کی ستاروں پر فضیلت ہوتی ہے۔ (الدر المنثور ج ٤ ص ٥٣٢، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٤ ھ)

ان عورتوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس لیے عظیم جانا کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے چہرے پر انوار نبوت اور آثار رسالت دیکھے اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ ان میں فرشتوں کے خواص ہیں کیونکہ وہ کھانے پینے کی چیزوں کی طرف اور عورتوں کی طرف التفات نہیں کرتے تھے اور ان کے دلوں میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا رعب طاری ہوگیا اس لیے انہوں نے بےساختہ کہا : یہ بشر نہیں ہے، یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔ 

مصری خواتین کا پھلوں کی بجائے اپنے ہاتھوں کو کاٹ لینا

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سندوں کے ساتھ روایت کرتے ہیں : اب زید نے کہا : وہ عورتیں چھریوں کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو کاٹ رہی تھیں اور ان کا یہی گمان تھا کہ وہ پھلوں کو کاٹ رہی ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسن کو دیکھ کر ان کی عقلیں جاتی رہی تھیں۔

قتادہ نے کہا : انہوں نے اپنے ہاتھوں کو کاٹ ڈالا اور ان کو بالکل پتا نہیں چلا۔

ابن اسحاق نے کہا عزیز مصر کی بیوی حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا : آپ ان کے سامنے آئیں حضرت یوسف ان کے سامنے آئے جب انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسن کو دیکھا تو ان کی عقلیں مغلوب ہوگئیں، انہوں نے چھریوں سے اپنے ہاتھوں کو کاٹ ڈالا اور ان کو بالکل پتا نہیں چلا کہ وہ کیا کر رہی ہیں۔ (جامع البیان جز ١٢ ص ٢٧٠، مطبوعہ دارالفکر ٤١٢ ھ ١ ھ)

امام ابن ابی حاتم نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا کہ اس عورت نے منتظم سے کہا کہ یوسف کو سفید لباس پہنائو کیونکہس فید لباس میں انسان زیادہ حسین معلوم ہوتا ہے اور جس وقت وہ عورتیں پھل کاٹ رہی ہوں اس وقت یوسف کو ان کے سامنے لے جانا۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کے سامنے آئے تو وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھنے میں ایسی مدہوش ہوئیں کہ انہوں نے پھلوں کی بجائے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے اور ان کو درد کا بالکل احساس نہیں ہوا اور جب حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کے سامنے سے چلے گئے تو پھر انہیں درد کا احساس ہوا اور پھر عزیز مصر کی بیوی نے کہا : تم نے تو ایک لمحہ کے لیے یوسف کو دیکھا ہے تو تمہارا یہ حال ہوگیا تو سوچو کہ جو دن رات یوسف کے ساتھ رہتی ہو اس کا کیا حال ہوا ہوگا تو وہ عورتیں بےساختہ بولیں کہ سبحان اللہ ! یہ بشر نہیں ہے یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔ امام ابن ابی حاتم کی ایک اور روایت میں ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) ان عورتوں کے سامنے سے چلے گئے تو عزیز مصر کی بیوی نے کہا : یہ ہے وہ شخص جس سے محبت کی وجہ سے تم مجھ کو ملامت کر رہی تھیں، تم نے دیکھ لیا کہ تم اس کو ایک نظر دیکھ کر اس قدر مدہوش ہوئیں کہ تم نے پھلوں کی بجائے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے اور تم کو بالکل درد نہیں ہوا۔ جب ان عورتوں نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھوں اور بہتے ہوئے خون کو دیکھا تو وہ درد کی شدت سے کر اہنے اور رونے لگیں اور انہوں نے کہا : یہ بشر نہیں ہے یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے اور ہم آج کے بعد اس کی محبت کی وجہ سے تم کو ملامت نہیں کریں گے۔ (الدر المنثور ج ٤ ص ٥٣٢۔ ٥٣١، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٤ ھ) 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کو فرشتہ کہنے کی توجیہ

ان عورتوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر جو یہ کہا تھا کہ یہ بشر نہیں ہے یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے اس سے ان کا مقصود یہ تھا کہ یہ بہت غیرمعمولی حسن کے مالک ہیں، اس لیے عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات مرکوز ہے کہ فرشتوں سے زیادہ کوئی حسین نہیں ہوتا اور شیطان سے زیادہ کوئی بدشکل نہیں ہوتا، لہٰذا ان کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو فرشتہ کہنا ان کے غیر معمولی حسن کی وجہ سے تھا دوسری وجہ یہ ہے کہ فرشتوں میں شہوت اور غضب کا مادہ نہیں ہوتا، ان کی غذا تو صرف اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء ہے، پھر جب ان عورتوں نے یہ دیکھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان عورتوں میں کسی عورت کے چہرے کی طرف نہیں دیکھا حالانکہ جب کوئی عام آدمی عورتوں کے پاس سے گزرے تو ان کی طرف ضرور نظر ڈالتا ہے تو انہوں نے کہا : یہ بشر نہیں ہے یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ ہم نے ان میں کوئی شہوت کا ایر نہیں دیکھا نہ ان میں بشریت یا انسانیت کا کوئی تقاضا دیکھا یہ انسان اور بشر کی تمام سفلی صفات سے منزہ ہیں اور انہیں دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے انسانیت کے پیکر میں کوئی عظیم فرشتہ ہو۔ دوسری توجیہ ہے کہ ان عورتوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر کہا : یعنی عیزز مصری بیوی نے ان پر جو تہمت لگائی ہے یہ اس تہمت سے بہت دور ہیں اور یہ تو گناہوں سے بری ہونے میں فرشتوں کی طرح معصوم ہیں یہ کوئی عام بشر نہیں جن کے متعلق ایسی بدگمانی کی جاسکے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 31