أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَتۡ فَذٰلِكُنَّ الَّذِىۡ لُمۡتُنَّنِىۡ فِيۡهِ‌ؕ وَ لَـقَدۡ رَاوَدْتُّهٗ عَنۡ نَّـفۡسِهٖ فَاسۡتَعۡصَمَ‌ؕ وَلَئِنۡ لَّمۡ يَفۡعَلۡ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَـيُسۡجَنَنَّ وَلَيَكُوۡنًا مِّنَ الصّٰغِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اس نے کہا یہی ہے وہ جس کی وجہ سے تم مجھ کو ملامت کرتی تھیں میں نے اس کو اپنی طرف راغب کیا تھا یہ بچا رہا اور اگر اس نے وہ کام نہیں کیا جو میں نے اس سے کہا ہے تو یہ ضرور قید کردیا جائے گا اور یہ بےعزت لوگوں میں سے ہوجائے گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس نے کہا یہی ہے وہ جس کی وجہ سے تم مجھ کو ملامت کرتی تھیں میں نے اس کو اپنی طرف راغب کیا تھا یہ بچا رہا اور اگر اس نے وہ کام نہیں کیا جو میں نے اس سے کہا ہے تو یہ ضرور قید کردیا جائے گا اور یہ بےعزت لوگوں میں سے ہوجائے گا۔ (یوسف : ٣٢) 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کی سخت آزمائش

جب مصر کی عورتوں نے عزیز مصر کی بیوی کے متعلق کہا کہ وہ اپنے غلام پر فریفتہ ہوگئی ہے اور ہم اس کو صریح بےراہ روی میں دیکھتی ہیں تو اس نے ایک محفل میں ان کو بلایا اور ان کے ہاتھوں میں پھل کاٹنے کے لیے چھریاں دے دیں اور خادم سے کہا : یوسف کو بلا کر لائو جب اچانک حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کے سامنے آئے تو وہ جلوہ یوسف کو دیکھ کر ایسی مدہوش ہوئیں کہ بےخودی میں انہوں نے پھلوں کی بجائے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے اور ان کو احساس تک نہیں ہوا تب عزیز مصر کی بیوی نے کہا : یہی ہے وہ جس کی وجہ سے تم مجھ ملامت کرتی تھیں تم نے تو اس کو ایک لمحہ کے لیے دیکھا ہے تو سوچو جو اس کے ساتھ دن رات رہتی ہو اس کی بےخودی کا کیا حال ہوگا۔ اس آیت میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاک دامنی اور گناہ میں ملوث نہ ہونے کی صاف تصریح ہے کیونکہ اس عورت نے اعتراف کیا میں نے اس کو اپنی طرف راغب کیا تھا یہ بچا رہا پھر اس نے یوسف (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے اس کی خواہش پوری نہ کی تو وہ ان کو جیل میں ڈلوا دے گی اور ان کو بےعزت کرادے گی اور یہ بہت بڑی اور خطرناک دھمکی تھی کیونکہ جو شخص لوگوں کی نگاہوں میں عزت دار ہو، جو منصب نبوت اور مرتبہ رسالت پر فائز ہو اگر اس کی عزت و ناموس کو خطرہ ہو اور لوگوں کی نگاہوں میں اس کے بےتوقیر ہونے کا کھٹکا ہو تو یہ اس کے لیے سخت آزمائش ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 32