أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ رَبِّ السِّجۡنُ اَحَبُّ اِلَىَّ مِمَّا يَدۡعُوۡنَنِىۡۤ اِلَيۡهِ‌ۚ وَاِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّىۡ كَيۡدَهُنَّ اَصۡبُ اِلَيۡهِنَّ وَاَكُنۡ مِّنَ الۡجٰهِلِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

یوسف نے کہا اے میرے رب ! مجھے قید ہونا اس گناہ سے پسند ہے جس کی طرف مجھے یہ دعوت دیتی ہیں اور اگر تو نے ان کی سازش مجھ سے دور نہ کی تو میں ان کی طرف مائل ہو جائوں گا اور میں جاہلوں سے ہو جائوں گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یوسف نے کہا : اے میرے رب ! مجھے قید ہونا اس گناہ سے پسند ہے جس کی طرف مجھے یہ دعوت دیتی ہیں اور اگر تو نے ان کی سازش مجھ سے دور نہ کی تو میں ان کی طرف مائل ہو جائوں گا اور میں جاہلوں سے ہوجائوں گا پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو عورتوں کی سازش سے محفوظ کردیا بیشک وہ بہت سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔ (یوسف : ٣٤۔ ٣٣) 

اللہ تعالیٰ کی عنایت کے بغیر گناہ سے بچنا ممکن نہیں

اس آیت میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جس دعا کا ذکر ہے اس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے یعنی یہ سب عورتیں ان کو گناہ کی طرف بلا رہی تھیں، اس کا ایک محمل تو یہ ہے کہ یہ سب عورتیں حضرت یوسف (علیہ السلام) سے اپنی اپنی خواہش کا اظہا کر رہی تھیں اور محفل میں شریک ہر عورت یہ چاہتی تھی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس کی خواہش کو پورا کریں اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ وہ عورتیں مل کر عزیز مصر کی بیوی کی سفارش کر رہی تھیں کہ تم نے اس عورت کی خواہش پوری نہ کر کے اس کے اوپر ظلم کیا ہے تمہیں اپنی عزت کو قائم رکھنے کے لیے اور مال و دولت اور سہولتوں کی فراوانی حاصل کرنے کے لیے یہ چاہیے کہ تم اس کی خواہش کو پورا کرو۔

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : اس موقع پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ذہن میں انوع و اقسام کے وسوسے تھے

(١) عزیز مصر کی بیوی بہت خوب صورت ہے۔

(٢) وہ بہت مال دار اور بڑے مرتبہ کی ہے اور وہ یہ کہتی ہے کہ اگر تم نے میری خواہش پوری کردی تو میں سب کچھ تم پر نچھاور کر دوں گی۔

(٣) محفل میں شریک ہر عورت ان سے اپنی خواہش کا اظہار کر رہی تھی اور خواہش پوری نہ کرنے کی صورت میں ان کو دھمکیاں دے رہی تھی اور اس معاملہ میں عورتوں کی سازشیں بہت سنگین ہوتی ہیں۔

(٤) حضرت یوسف (علیہ السلام) ان عورتوں کے شر سے بہت خوف زدہ تھے ان کو یہ خطرہ تھا کہ اگر ان عورتوں کی بات نہ مانی تو وہ ان کو قتل کروا دیں گی۔

اس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ذہن میں اس کام کی طرف ترغیب کی بھی وجوہات تھیں اور کام نہ کرنے کی صورت میں ڈر اور خوف کی بھی وجوہات تھیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ڈر تھا کہ گناہ کی تحریک کے یہ اسباب بہت قوی ہیں کہیں یہ ان کے پائے استقامت کو ڈگمگا نہ دیں اور بشری قوت اور انسانی طاقت ایسی ترغیبات اور تحریکات کے مقابلہ میں پاک دامنی پر برقرار رہنے کے لیے ناکافی ہے الا یہ کہ اللہ ؟ ؟ ؟ دستگیری فرمائے اور وہ بندے کو گناہ کے تاریک گڑھے میں گرنے سے بچالے اس لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی : اے میرے رب ! مجھے قید ہونا اس گناہ سے پسند ہے جس کی طرف مجھے یہ دعوت دیتی ہیں اور اگر تو ان کی سازش مجھ سے دور نہ کی تو میں ان کی طرف مائل ہو جائوں گا اور میں جاہلوں میں سے ہو جائوں گا۔ قید میں گرفتار ہونا مشقت اور مصیبت ہے اور جو ان کا مطلوب تھا وہ سرا سر لذت اور عیش تھا لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) جانتے تھے کہ اس عارضی لذت کا انجام دنی ا کی رسوائی اور آخرت کا عذاب ہے اور انہوں نے دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب کے مقابلہ میں قید کی مشقت اور مصیبت کو اختیار کرلیا اس لیے فرمایا : مجھے قید ہونا اس گناہ سے پسند ہے جس کی طرف مجھے یہ دعوت دیتی ہیں (ہم نے اس کا ترجمہ زیادہ پسند نہیں کیا کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا ان کی دعوت بھی کسی درجہ میں پسند تھی، لیکن زیادہ پسند قید ہونا تھا۔۔۔۔ سعیدی غفرلہ) اور اس سے یہ قاعدہ معلوم ہوا کہ جب انسان دو مصیبتوں میں سے کسی ایک مصیبت میں لازماً گرفتار ہو تو آسان مصیبت کو اختیار کرلے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آخرت کے عذاب کے مقابلہ میں دنیا کی مصیبت اختیار کرلینی چاہیے اور اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی عنایت شامل حال نہ ہو انسان کسی گناہ سے بچ سکتا ہے نہ کسی نیکی کو اختیار کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی دعا کو قبول کرلیا اور ان عورتوں کی سازش سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو محفوظ کردیا، بیشک وہ بہت سننے والا خوب جاننے والا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 33