أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ هِىَ رَاوَدَتۡنِىۡ عَنۡ نَّـفۡسِىۡ‌ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنۡ اَهۡلِهَا‌ۚ اِنۡ كَانَ قَمِيۡصُهٗ قُدَّ مِنۡ قُبُلٍ فَصَدَقَتۡ وَهُوَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۞

ترجمہ:

یوسف نے کہا اسی نے مجھے اپنی طرف راغب کیا تھا اس عورت کے خاندان میں سے ہی ایک شخص نے گواہی دی اگر یوسف کی قمیص آگے سے پھٹی ہوئی ہے تو وہ عورت سچی ہے اور یوسف جھوٹوں میں سے ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یوسف نے کہا اسی نے مجھے اپنی طرف راغب کیا تا اس عورت کے خاندان میں سے ہی ایک شخص نے گواہی دی کہ اگر یوسف کی قمیص آگے سے پھٹی ہوئی ہے تو وہ عورت سچی یہ اور یوسف جھوٹوں میں سے ہے۔ اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے تو وہ عورت جھوٹی ہے اور یوسف سچوں میں سے ہے۔ (یوسف : ٢٧۔ ٢٦) 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تہمت سے برأت اور ان کے صدق کے شواہد

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ابتدائً اس عورت کا پردہ فاش نہیں کیا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی اپنی عزت اور پاک دامنی پر حرف آرہا ہے تو پھر انہوں نے حقیقت حال واضح کی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے صدق اور آپ کی پاک دامنی پر متعدد شواہد تھے ان میں سے بعض شواہد درج ذیل ہیں :

(١) حضرت یوسف (علیہ السلام) بظاہر عزیز مصر کے پروردہ اور غلام تھے اور جو شخص پروردہ اور غلام ہو اس کا اپنے مالک پر اس حد تک تسلط اور تصرف نہیں ہوتا اور وہ اس کی عزت اور ناموس پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کرتا۔

(٢) عزیز مصر اور اس عورت کے چچازاد بھائی نے یہ دیکھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) بہت تیزی سے دروازے کی طرف نکلنے کے لیے بھاگ رہے تھے اور عورت ان کے پیچھے بھاگ رہی تھی اس سے واضح طور پر پتہ چلتا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس سے جان چھڑانا چاہ رہے تیھ اور وہ عورت ان کے درپے تھی اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) اس کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والے ہوتے تو معاملہ اس کے برعکس ہوتا وہ عورت بھاگ رہی ہوتی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) اس کے پیچھے ہوئے۔

میرے استاذ حضرت مفتی محمد حسین نعیمی (رح) نے فرمایا : اس عورت نے تو ساتوں کمروں میں تالے لگا دیئے تھے اور دروازے بند کردیئے تھے پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس سے بھاگنے کا موقع کیسے ملا ؟ انہوں نے فرمایا : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دل میں اللہ سے دعا کی : اے اللہ مجھے اس عورت سے بچا اور اس گناہ سے بچنے کے لیے جو کچھ میں کرسکتا ہوں اور جو کچھ میری قدرت میں ہے وہ میں کرتا ہوں اور جو میں نہیں کرسکتا وہ تو کر دے سو انہوں نے بھاگنا شروع کیا اور بند کمروں کے دروازے کھلتے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کا ہر معاملہ میں یہی طریقہ ہے جو کچھ بندہ کرسکتا ہے وہ بندہ کرے اور جو بندہ نہیں کرسکتا وہ اللہ تعالیٰ کردیتا ہے۔ دیکھئے غلہ کی پیداوار کے لیے زمین میں ہل چلانا ہوتا ہے بیج بونا ہوتا ہے کھیت میں پانی دینا ہوتا ہے پھر اس کے پکنے کے لیے سورج کی حرارت، ذائقہ کے لیے چاند کی کرنیں پانی کے حصول کے لیے بارش اور دانے کو بھوسے سے الگ کرنے کے لیے ہوائوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ سورج، چاند، بارش اور ہوائیں انسان کی قدرت میں نہیں ہیں تو جو کام اس کی قدرت میں نہیں ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کردیتا ہے بھاگنا حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قدرت میں تھا انہوں نے بھاگنا شروع کیا اور اللہ تعالیٰ نے بند دروازے کھولنے شروع کیے۔

(٣) عزیز مصر اور اس عورت کے عم زاد نے دیکھا کہ اس عورت نے مکمل طور پر بنائو سنگھار کیا ہوا تھا اور خود کو بنایا اور سنوارہوا تھا جبکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) پر زینت کا کوئی اثر نہیں تھا وہ اسی طرح معمول کے مطابق حالت میں تھے اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ اس کام کی دعوت دینے والی وہ عورت ہی تھی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) اس سے اپنا دامن بچانے والے تھے۔

(٤) عزیز مصر نے مشاہدہ کیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ایک طویل مدت تک ان کے پاس رہے اور انہوں نے ہمیشہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو صداقت اور شرافت کا پیکر پایا اور کبھی ان میں غیرشائستہ اور غیر متوازن کام نہیں دیکھا اور یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاکیزگی کی واضح شہادت ہے۔

(٥) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے نہایت بےباکی سے بےدھڑک اور دو ٹوک الفاظ میں کہا : یہ مجھے اپنی طرف راغب کر رہی تھی جبکہ اس عورت نے مبہم اور مجمل کلام کیا اور کہا : اس شخص کی کیا سزا ہونی چاہیے جو آپ کی اہلیت کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے کیونکہ جو مجرم ہوتا ہے وہ بہرحال دل میں ڈرتا ہے۔

(٦) یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس عورت کا خاوند عاجز تھا یعنی نامرد تھا اور اس عورت میں طلب شہوت کے آثار بھرپور تھے لہٰذا اس فتنہ کی اس عورت کی طرف نسبت رنا ہی زیاہ مناسب تھا اور چونکہ یہ تمام قرائن حضرت یوسف (علیہ السلام) کی صداقت پر دلالت کرتے تھے اور اس عورت کو مجرم ثابت کرتے تھے اس لیے عزیز مصر نے توقف اور سکوت کیا کیونکہ اس نے جان لیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سچے ہیں اور یہ عورت جھوٹی ہے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی صداقت پر ایک اور دلیل ظاہر فرمائی جس سے یہ قرائن اور قوی ہوگئے اور یہ ظاہر ہوگیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس الزام سے بری ہیں اور یہ عورت ہی مجرم ہے اور وہ خارجی شہادت یہ ہے : اس عورت کے خاندان میں سے ہی ایک شخص نے گواہی دی اگر یوسف (علیہ السلام) کی قمیص آگے سے پھٹی ہوئی ہے تو وہ عورت سچی ہے اور یوسف (علیہ السلام) جھوٹوں میں سے ہے اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے تو وہ عورت جھوٹی ہے اور یوسف (علیہ السلام) سچوں میں سے ہے۔ (یوسف : ٢٧۔ ٢٦) اس شاہد کے متعلق دو قول ہیں :

(١) ایک نوزائیدہ بچہ جو پالنے میں تھا اس نے یہ گواہی دی تھی۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : چار بچوں نے پالنے میں کلام کیا : حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) ، صاحبجریرج، شاہد یوسف اور فرعون کی بیٹی ماشطہ کا بیٹا۔ (مسند احمد رقم الحدیث : ٢٨٢٢، عالم الکتب و دارالفکر، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٢٥١٧، جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٦٣١، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١١٥٠٣، حسن، سعید بن جبیر، ضحاک وغیرہم سے بھی اسی طرح مروی ہے جامع البیان جز ١٢ ص ٢٥٥۔ ٢٥٣، تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٧ ص ٢١٢٨)

(٢) وہ شاہد اس عورت کا عمزاد تھا اور وہ بہت دانا شخص تھا اتفاق سے وہ اس وقت عزیز مصر کے ساتھ اس عورت کے پاس جارہا تھا اس نے کہا ہم نے دروازے کے پیچھے کچھ آہٹ اور قمیص پھٹنے کی آواز سنی ہے مگر ہم کو یہ معلوم نہیں کہ کون عورت تم جھوٹی ہو پھر جب انہوں نے قمیص کو دیکھا تو پیچھے سے پھٹی ہوئی تھی۔ (زاد المسیر ج ٤، ص ٣١١)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 26