حدیث نمبر151

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مجھ پر کوئی شخص سلام نہیں بھیجتا مگر اﷲ مجھ پر میری روح لوٹاتا ہے حتی کہ میں اس کا جواب دیتا ہوں ۱؎ (ابوداؤد،بیہقی،دعوات کبیر)

شرح

۱؎ یہاں روح سے مراد توجہ ہے نہ وہ جان جس سے زندگی قائم ہے حضور تو بحیات دائمی زندہ ہیں۔ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ میں ویسے تو بے جان رہتا ہوں کسی کے درود پڑھنے پر زندہ ہو کر جواب دیتا رہتا ہوں ورنہ ہر آن حضور پر لاکھوں درود پڑھے جاتے ہیں تو لازم آئے گا کہ ہر آن لاکھوں بار آپ کی روح نکلتی اور داخل ہوتی رہے۔خیال رہے کہ حضور ایک آن میں بے شمار درود خوانوں کی طرف یکساں توجہ رکھتے ہیں،سب کے سلام کا جواب دیتے ہیں جیسے سورج بیک وقت سارے عالم پر توجہ کرلیتا ہے ایسے آسمان نبوت کے سورج ایک وقت میں سب کا درود سلام سن بھی لیتے ہیں اور اس کا جواب بھی دیتے ہیں لیکن اس میں آپ کو کوئی تکلیف بھی محسوس نہیں ہوتی کیوں نہ ہو کہ مظہر ذات کبریا ہیں،رب تعالٰی بیک وقت سب کی دعائیں سنتا ہے۔