أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسۡمَآءً سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡـتُمۡ وَ اٰبَآؤُكُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ‌ؕ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ‌ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ‌ؕ ذٰلِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

تم اللہ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہو وہ صرف چند اسماء ہیں جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیا ہے اللہ نے ان کے ساتھ کوئی سند نہیں نازل کی حکم صرف اللہ کا ہے اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو یہی صحیح دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تم اللہ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہو وہ صرف چند اسماء ہیں جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیا ہے اللہ نے ان کے ساتھ کوئی سند نہیں نازل کی، حکم صرف اللہ کا ہے، اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو یہی صحیح دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : ٤٠) 

بتوں کے صرف اسماء ہونے پر ایک اعتراض کا جواب

اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا : کیا متعدد اور متفرق رب ماننا بہتر ہے یا ایک اللہ کو جو قہار ہے ! اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان متفرق ارباب کے مسمیات اور ان کے مصادیق موجود ہیں، اور اس آیت میں فرمایا ہے کہ ان کے صرف اسماء ہیں یعنی مسمیات اور مصادیق نہیں ہیں اور یہ ان دو آیتوں میں ھکھلا ہوا تعارض ہے، اس کے دو جواب ہیں :

(١) وہ ان بتوں کو الٰہ اور معبود کہتے تھے حالانکہ ان بتوں میں الوہی صفات موجود نہیں تھیں پس یہ بت نام کے الٰہ اور معبود تھے الٰہ اور معبود کے مصداق اور مسمیٰ نہ تھے اس لیے یہ کہنا صحیح ہے کہ جن کی تم پرستش کرتے ہو وہ صرف اسماء ہیں اور اس سے پہلی آیت میں یہ فرمایا : وہ ان کے خود ساختہ رب ہیں نہ کہ وہ فی الواقع رب ہیں۔

(٢) روایت ہے کہ وہ بت پرست مشبہ تھے ان کا یہ عقیدہ تھا کہ اصل الفہ تو نور اعظم ہے اور ملائکہ انوار صغیرہ ہیں اور انہوں نے ان انوار کی صورتوں پر یہ بت تراش لیے تھے اور حقیقت میں ان کے معبود اور سماویہ تھے اور یہی مشبہ کا قول ہے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ ایک بہت بڑا جسم عرش پر مستقر ہے اور وہ اس کی عبادت کرتے ہیں اور حقیقت میں ان کا تصور شدہ جسم موجود نہیں ہے پس وہ ایسے اسماء کی عبادت کرتے تھے۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٤٥٩) 

کفار کے اس قول کا رد کہ اللہ نے بتوں کی تعظیم کا حکم دیا ہے

بت پرستوں کی ایک جماعت یہ کہتی تھی کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ یہ بت اس معنی میں خدا ہیں کہ انہوں نے اس جہان کو پیدا کیا ہے لیکن ہم ان بتوں پر معبود کا اس لیے اطلاق کرتے ہیں اور ان کے اس لیے عبادت کرتے ہیں کہ ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کی عبادت کرنے اور ان کی تعظیم بجا لانے کا حکم دیا ہے اللہ تعالیٰ نے نہیں دیا اور نہ اللہ تعالیٰ نے اس نام کو رکھنے کی کوئی دلیل نازل کی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور نے یہ حکم دیا ہے تو اس کا حکم لائق التفات اور قابل توجہ نہیں ہے چہ جائیکہ وہ حکم واجب القبول ہو اور اس کی اطاعت ضروری ہو کیونکہ حکم دینے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ 

اللہ کے مستحق عبادت ہونے کی دلیل پھر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو کیونکہ عبادت انتہائی تعظیم اور اجلال بجا لانے کا نام ہے اور انتہائی تعظیم اسی کی جائز ہے جس نے انتہائی انعام و اکرام کیا ہو اور اللہ تعالیٰ نے ہی انسان کو پیدا کیا اسی نے اس کو زندگی دی اور اسی نے اس کو عقل، رزق اور ہدایت عطا کی اور اللہ تعالیٰ کی انسان پر حد و شمار سے باہر نعمتیں ہیں اور اس کے احسان کی وجوہات غیرمتناہی ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا انسان پر انتہائی انعام و اکرام ہے اور جب انتہائی انعام و اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے تو انتہائی تعظیم اور اجلال کا بھی وہی مستحق ہے اس لیے اس کے سوا اور کسی کی عبادت کرنا جائز نہیں ہے۔ 

اس بات کی توجیہ کہ اکثر لوگ اللہ کے استحاق عبادت کو نہیں جانتے اس کے بعد فرمایا : لیکن اکثر لوگ اس کو نہیں جانتے کہ عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے لہٰذا وہ زمین میں رونما ہونے والے واقعات کا استناد افلاک اور ستاروں کی طرف کرتے ہیں کیونکہ ان کو یہ علم ہے کہ کوئی چیز بھی کسی سبب کے بغیر رونما نہیں ہوتی وہ دیکھتے ہیں کہ گرمیوں اور سردیوں کے موسم میں جو زمینی پیداوار حاصل ہوتی ہیں ان میں سورج کی حرکت اور اس کے تغیر کا دخل ہوتا ہے اس لیے ان کے دماغوں میں یہ بات مرکوز ہوگئی کہ اس جہان میں جو حوادث رونماہوتے ہیں ان کا سبب سورج، چاند اور باقی ستارے ہیں ہیں پھر اللہ نے جب انسان کو توفیق دی تو اس نے یہ جان لیا کہ بالفرض ان حوادث کا سبب یہ افلاک اور کواکب ہیں لیکن یہ افلاک اور کواکب بھی تو ممکن اور حادث ہیں انہیں بھی تو کسی موجد اور خالق کی ضرورت ہے اور ضروری ہے کہ وہ موجد اور خالق واجب الوجود ہو اور اس کا واحد ہونا ضروری ہے اور جب ان افلاک اور کواکب کا خالق وہ ذات واحد سے تو کیوں نہ تمام حوادث کا خالق اسی کو مان لیا جائے لیکن ایسے عقل والے بہت کم ہیں اس لیے فرمایا : لیکناکثر لوگ اس کو نہیں جانتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 40