أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاتَّبَعۡتُ مِلَّةَ اٰبَآءِىۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ‌ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنۡ نُّشۡرِكَ بِاللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ‌ؕ ذٰلِكَ مِنۡ فَضۡلِ اللّٰهِ عَلَيۡنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَشۡكُرُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

میں نے ان کے دین کو ترک کردیا ہے اور میں نے اپنے باپ دادا، ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین کی اتباع کی ہے۔ ہمارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک قرار دیں یہ ہم پر اور لوگوں پر اللہ کا فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا) اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین کی اتباع کی ہے، ہمارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک قرار دیں یہ ہم پر اور لوگوں پر اللہ کا فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ (یوسف : ٣٨) 

اللہ کی نعمتوں کے اظہار کا جواز

امام رازی فرماتے ہیں کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اس معجزہ کا اظہار فرمایا جو علم الغیب ہے تو اس کے ساتھ یہ بھی ذکر فرمایا کہ وہ اہل بیت بیت نبوت سے ہیں اور ان کے باپ، داد اور پر دادا سب اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور جب انسان اپنے باپ دادا کے طریقہ اور پیشہ کا ذکر کرے تو یہ بعید نہیں ہے کہ اس کا بھی وہی پیشہ اور طریقہ ہو اور حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علہیم السلام کی نبوت دنیا میں مشہور تھی اور جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ ظاہر کیا کہ وہ بھی ان کے بیٹے ہیں تو ساقی اور نانبائی نے ان کی طرف بہت عزت اور احترام کے ساتھ دیکھا اور اب یہ قوی امید ہوگئی کہ وہ ان کی اطاعت کریں گے اور ان کے دلوں میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے وعظ و نصیحت کا بہت قوی اثر ہوگا اس آیت میں یہ دلیل بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں اور فضیلتوں کا اظہار کرنا جائز ہے۔ 

دین کا معنی

اس مقام پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نبی تھے تو انہوں نے یہ کیوں فرمایا کہ میں نے اپنے باپ دادا کی ملت کی اتباع کی ہے کیونکہ نبی کی تو خود اپنی شریعت ہوتی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ملت سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مراد دین ہے اور حضرت آدم سے لے کر سیدنا محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین واحد ہے کیونکہ دین ان اصول اور عقائد کو کہتے ہیں جو سب نبیوں میں مشترک ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ کی توحید، انبیاء، رسولوں، فرشتوں، تقدیر اور قیامت کو ماننا۔ اس کی زیادہ وضاحت کے لیے الفاتحہ : ٣ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ 

شرک سے اجتناب کے اختصاص کی توجیہ

اس مقم پر دوسرا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : اور ہمارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک قرار دیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک کرنا، نہ صرف یہ کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے جائز نہیں بلکہ یہ تو کسی کے لیے بھی جائز نہیں پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خصوصیت کے ساتھ یہ کس طرح فرمایا کہ ہمارے لیے یہ جائز نہیں ہے اس کے دو جواب ہیں : ایک جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینا ہرچند کہ کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے لیکن انبیاء (علیہم السلام) کا مقام چونکہ عام لوگوں سے بہت بلند ہوتا ہے اور جن کا رتبہ ہے سوا اس کو سوا مشکل ہے “ کے مصداق ان پر گرفت بھی بہت سخت ہوتی ہے اس لیے اللہ کے شریک بنانے کا عدم جواز ان کے لیے زیادہ شدید اور زیادہ موکد ہے اور دوسرا جواب یہ ہے کہ اس آیت سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان کے لیے اللہ کو شریک بنانا جائز نہیں ہے بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان کو کفر اور شرک کی آلودگی سے پاک رکھا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ماکان للہ ان یتخذ من ولد۔ (مریم : ٣٥) اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔ ایک سوال یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بالعموم شرک کی نفی کیوں کی اور یہ فرمایا : ہمارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی چیز کو بھی شریک بنائیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو بر سبیل عموم نفی کی ہے کہ ہم کسی چیز کو بھی اللہ کا شریک نہیں بنائیں گے اس عموم کی یہ وجہ ہے کہ شرک کی بہت سی اصناف اور اقسام ہیں بعض لوگ بتوں کی پرستش کرتے ہیں اور بعض لوگ آگ کی پرستش کرتے ہیں اور بعض ستاروں کی پرستش کرتے ہیں، بعض فرشتوں کی پرستش کرتے ہیں اور بعض نبیوں کی پرستش کرتے ہیں مثلاً حضرت عیسیٰ اور عزیز کی، بعض جانوروں کی مثلاً گائے کی پرستش کرتے ہیں اور بعض درختوں کی مثلاً پیپل کی پرستش کرتے ہیں اور بعض لوگ گزرے ہوئے نیک بندوں کی پرستش کرتے ہیں، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان تمام فرقوں کا رد فرمایا اور دین حق کی طرف رہنمائی فرمائی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، وہی خالق ہے اور وہی رازق ہے۔ 

ایمان پر شکر ادا کرنے کا وجوب

اس کے بعدحضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : یہ ہم پر اور لوگوں پر اللہ کا فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ ہمارا شرک نہ کرنا اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے ہے۔ اس کے بعد فرمایا : لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ اس قول میں شکر ادا نہ کرنے والوں کی مذمت کی ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ شرک نہ کرنے اور ایمان لانے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا واجب ہے اس لیے ہر مومن پر واجب ہے کہ ایمان کی نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اللہ پر ایمان لانا، سب سے بڑی نعمت ہے اس لیے مسلمانوں پر واجب ہے کہ سب سے زیادہ اس نعمت کا شکر ادا کریں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 38