أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجۡنَ فَتَيٰنِ‌ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّىۡۤ اَرٰٮنِىۡۤ اَعۡصِرُ خَمۡرًا‌ ۚ وَقَالَ الۡاٰخَرُ اِنِّىۡۤ اَرٰٮنِىۡۤ اَحۡمِلُ فَوۡقَ رَاۡسِىۡ خُبۡزًا تَاۡكُلُ الطَّيۡرُ مِنۡهُ‌ ؕ نَبِّئۡنَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ ۚ اِنَّا نَرٰٮكَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور یوسف کے ساتھ دو جوان (بھی) قید خانے میں داخل ہوئے ان میں سے ایک نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب (کے لیے انگور) نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں جن سے پرندے کھا رہے ہیں۔ آپ ہمیں اس کی تعبیر بتائیے ہمارا گمان ہے کہ آپ نیک لوگوں میں سے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یوسف کے ساتھ دو جوان (بھی) قیدخانہ میں داخل ہوئے ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب (کے لیے انگور) نچوڑ دیا ہوں اور دوسر نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں جن سے پرندے کھا رہے ہیں آپ ہمیں اس کی تعبیر بتائیے ہمارا گمان ہے کہ آپ نیک لوگوں میں سے ہیں۔ (یوسف : ٣٦) 

حضرت یوسف کی قید خانہ میں ساقی اور نانبائی سے ملاقات

وہب بن منبہ وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دراز گوش پر سوار کرا کے قید خانہ میں لے جایا گیا اور ایک آدمی ان کے ساتھ یہ کہتا ہوا جارہا تھا جو شخص اپنی مالکہ کا کہنا نہ مانے اس کی یہی سزا ہوتی ہے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) فرماتے تھے : دوزخ کی آگ، تارکول کی قمیص پہننے، گرم کھولتے ہوئے پانی کو پینے اور تھور کو کھانے کے مقابلہ میں یہ سزا بہت کم ہے۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) قیدخانہ میں پہنچے تو وہاں کئی ایسے لوگ دیکھے جو رہائی سے ناامید ہوچکے تھے اور ان کی سزا بہت سختی تھی، حضرت یوسف (علیہ السلام) ان سے فرماتے تم صبر کرو اور بشارت قبول کرو تم کو اجر ملے گا۔ انہوں نے کہا اے نوجوان ! آپ کس قدر نیک باتیں کرتے ہیں، آپ کے قرب میں ہم کو برکت ملے گی ! آخر آپ کون ہیں ؟ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : میں اللہ کے پسندیدہ بندے یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ کا بیٹا یوسف ہوں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) غمزہ لوگوں کو قیدخانے میں تسلی دیتے تھے زخمیوں کی مرہم پٹی کرتے تھے، ساری رات نماز پڑھتے تھے اور خوف خدا سے قدر روتے تھے کہ کوٹھڑی کی چھت، دیواریں اور دروازوں پر بھی گریہ طاری ہوجاتا تھا تمام قیدی آپ سے مانوس ہوگئے تھے اور جب کوئی قیدی، قید سے رہائی پاتا تو جانے سے پہلے آپ کے پاس بیٹھ جاتا، قیدخانہ کا داروغہ بھی آپ سے محبت کرتا تھا اور آپ کو بہت آرام پہنچاتا تھا ایک دن اس نے کہا اے یوسف ! میں آپ سے اتنی محبت کرتا ہوں کہ کسی اور سے اتنی محبت نہیں کرتا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : میں تمہاری محبت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں ! اس نے پوچھا اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ نے بتایا : میرے باپ نے مجھ سے محبت کی تو میرے بھائیوں نے میرے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا میری مالکہ نے مجھ سے محبت کی اس کے نتیجہ میں، میں آج اس قید میں ہوں۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) قیدخانہ میں تھے تو مصر کا سب سے بڑا بادشاہ جس کا نام ریان بن الولید تھا وہ بوڑھا ہوچکا تھا اس کو اپنے نان بائی اور ساقی پر شک ہوا کہ وہ اس کو زہر دینے ولاے ہیں اس نے ان دونوں کو قید میں ڈلوا دیا۔ ثعلبی نے کعب سے روایت کیا ہے کہ ساقی کا نام منجا تھا اور نانبائی کا نام مجلث تھا۔ قرآن مجید نے ان دونوں کے فتیان کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ عربی میں فتی غلام کو بھی کہتے ہیں اور یہ دونوں بادشاہ کے غلام تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے قیدیوں سے کہا تھا کہ وہ خواب کی تعبیر بتاتے ہیں تو نانبائی اور ساقی نے ایک دوسرے سے کہا : آئو ہم اس عبرانی غلام کا تجربہ کریں پھر ان دونوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے خواب کی تعبیر پوچھی، ساقی نے کہا : میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں بادشاہ کے لیے انگور نچوڑ رہا ہوں اور نانبائی نے کہا : میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے جارہا ہوں اور پرندے اس سے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں ہمارا گمان ہے کہ آپ نیک لوگوں میں سے ہیں۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩ ص ١٦٥۔ ١٦٤، تفسیر امام ابن ابی حاتم، ج ٧ ص ٢١٤٣۔ ٢١٤١، النکت و العیون ج ٣ ص ٣٦۔ ٣٥، تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٥٢٩، الدر المنثور ج ٤ ص ٥٣٧۔ ٥٣٥)

ساقی اور نانبائی کے بیان کیے ہوئے خواب آیا سچے تے یا جھوٹے ؟

ساقی اور نانبائی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے جو خواب بیان کیا تھا وہ سچا تھا یا جھوٹا ؟ اس کے متعلق تین قول ہیں :

(١) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : انہوں نے جھوٹا خواب بیان کیا تھا انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے صرف تجربہ کے طور پر سوال کیا تھا۔

(٢) مجاہد اور امام ابن اسحاق نے کہا : انہوں نے سچا خواب بیان کیا تھا اور انہوں نے واقعی خواب دیکھا تھا۔

(٣) ابو مجاز نے کہا : نانبائی نے جھوٹا خواب بیان کیا تھا اور ساقی نے سچا خواب بیان کیا تھا۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٢٢٣۔ ٢٢٢، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ بیروت ١٤٠٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 36