أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَرَاوَدَتۡهُ الَّتِىۡ هُوَ فِىۡ بَيۡتِهَا عَنۡ نَّـفۡسِهٖ وَغَلَّقَتِ الۡاَبۡوَابَ وَقَالَتۡ هَيۡتَ لَـكَ‌ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ‌ اِنَّهٗ رَبِّىۡۤ اَحۡسَنَ مَثۡوَاىَ‌ؕ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور وہ جس عورت کے گھر میں تھے اس نے ان کو اپنی طرف راغب کیا اور اس نے دروازے بند کر کے کہا جلدی آئو ! یوسف نے کہا اللہ کی پناہ ! وہ میری پرورش کرنے والا ہے اس نے مجھے عزت سے جگہ دی ہے بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ جس عورت کے گھر میں تھے اس نے ان کو اپنی طرف راغب کیا اور اس نے دروازے بند کر کے کہا جلدی آئو۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا اللہ کی پناہ ! وہ میری پرورش کرنے والا ہے اس نے مجھے عزت سے جگہ دی ہے بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے۔ (یوسف : ٢٣ )

حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عفت اور پارسائی کا کمال

راودت، رود سے ماخوذ ہے اس کا معنی ہے نرمی اور حیلے سے کسی چیز کو باربار طلب کرنا اس کا معنی یہ ہے کہ عزیز مصر کی بیوی نرمی اور لوچ دار باتوں سے کافی عرصہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہی تھی اس معنی کو یوں بھی تعبیر کیا جاسکتا تھا کہ عزیز مصر کی بیوی نے ان کو اپنی طرف راغب کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو اس طرح تعبیر فرمایا کہ وہ جس عورت کے گھر میں تھے اس نے ان کو اپنی طرف راگب کیا اس میں نکتہ یہ ہے کہ جو شخص کسی کے گھر میں رہتا ہو اس کے زیر اہسان ہو وہ اس کا ماتحت ہوتا ہے اور گھر والے کا اس پر مکمل تسلط اور اقتدار ہوتا ہے سو حضرت یوسف (علیہ السلام) اس کی مکمل دسترس میں تھے اور ان کے لیے اس کی فرمائش سے انکار کرنا بہت مشکل تھا لیکن ان پر خوف خدا کا اس قدر غلبہ تھا کہ باوجود اس بات کے کہ وہ عزیز مصر کی بیوی کے زیراحسان تھے اور اس کے زیراقتدار اور زیر تسلط تھے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی معصیت میں اس کی فرمائش پوری کرنے سے صاف انکار کردیا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے جب اس معنی کو اس طرح تعبیر فرمایا اور وہ جس عورت کے گھر میں تھے اس نے ان کو اپنی طرف راغب کیا تو اس پیرائے میں تعبیر کرنے سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی کمال نزاہت ظاہر ہوئی جو اس طرز سے واضح نہیں ہوسکتی تھی۔ اگر یوں کہا جاتا کہ عزیز مصر کی بیوی نے ان کو اپنی طرف راغب کیا اور اس سے اللہ تعالیٰ کے کلام کی معجز نظام بلاغت کا اظہار ہوتا ہے۔ عزیز مصر کی بیوی کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ورغلانا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) مصر میں جس عورت کے گھر میں تھے اس کے خاوند نے اس کو یہ تاکید کی تھی کہ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بہت تعظیم اور تکریم کے ساتھ رکھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) بہت حسین اور جمیل تھے اور وہ جوانی کی عمر کو پہنچ چکے تھے جب وہ عورت حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سات کمروں کے پیچھے ایک کوٹھڑی میں لے گئی اور ہر کمرہ کا دروازہ بند کر کے تالا لگاتی چلی گئی پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے نفس کی طرف راغب کرنے کے لیے کہنے لگی : اے یوسف ! تمہارے بال کتنے حسین ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : سب سے پہلے میرے جسم سے یہ بال الگ ہوں گے۔ اس نے کہا : تمہاری آنکھیں کتنی حسین ہے آپ نے فرمایا : سب سے پہلے میرے جسم سے یہ آنکھیں بہہ جائیں گی۔ اس نے کہا : تمہارا چہرہ کتنا حسین ہے آپ نے فرمایا : اس کو مٹی کھاجائے گی۔ اس نے کہا : تمہاری صورت کتنی اچھی ہے آپ نے فرمایا : میرے رب نے یہ صورت رحم میں بنائی تھی۔ اس نے کہا : اے یوسف ! تمہاری صورت میرے جسم میں حلول کرچکی ہے آپ نے فرمایا : اس میں شیطان تمہاری معاونت کر رہا ہے۔ اس نے کہا : میں نے تمہارے لیے ریشم کا بستر بچھا دیا ہے، اٹھو اور میری خواہش پوری کرو۔ آپ نے فرمایا : پھر جنت سے میرا حصہ جاتا رہے گا۔ اس نے کہا : میرے ساتھ چھپ جائو آپ نے فرمایا : میرے رب سے کوئی چیز نہیں چھپ سکتی۔ وہ اسی طرح آپ کو مائل کرتی رہی اور آپ اس سے گریز فرماتے رہے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١١٤٧٥، الوسیط ج ٢، ص ٦٠٧، معالم التنزیل ج ٢، ص ٣٥٢، الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ١٤٥)

امام ابن ابی حاتم متوفی ٢٣٧ ھ، امام واحدی متوفی ٤٦٨ ھ، امام بغوی متوفی ٥١٦ ھ اور علامہ قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) اور عزیز مصر کی بیوی کے درمیان یہ مکالمہ اسی طرح بیان کیا ہے اگرچہ اس مکالمہ کے بعض اجزاء ہمارے لیے ناقابل فہم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہ السلام) کے جسم کے کھانے کو زمین پر حرام کردیا ہے اس لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ فرمانا کہ ان کی آنکھیں زمین میں بہہ جائیں گی اور ان کے چہرے کو مٹی کھاجائے گی موجب اشکال ہے اگر یہ روایت صہیح ہو تو اس کی یہ تاویل ہوسکتی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی ذات سے عام انسان کا ارادہ کیا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔ 

مخلوق کی بہ نسبت خالق سے حیا کرنا لائق ستائش ہے

جب عزیز مصری بیوی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو گناہ کی دعوت دی تو انہوں نے کہا : اللہ کی پناہ ! وہ میری پرورش کرنے والا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مراد یہ تھی کہ وہ عزیز مصر میری پرورش کرنے والا ہے اس نے مجھ پر بہت احسان کیے ہیں اور میری تعظیم و تکریم کرنے کا حکم دیا پھر یہ کس قدر احسان ناشناسی، ناشکری اور حیا سوز بات ہوگی کہ میں ایسے بےلوث محسن کی بیوی کے ساتھ بدکاری کروں اور اس کی عزت پر ہاتھ ڈالوں اور دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ میری پرورش کرنے والا ہے اس نے مجھے بیشمار نعمتیں عطا کی ہیں تو میں اپنے رب کی نافرمانی کروں اور گناہ کا ارتکاب کروں میں اس چیز سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں ! ہمارے نزدیک یہ دوسری تفسیر راجح ہے کیونکہ مخلوق سے حیا کر کے گناہ سے باز رہنے کی بہ نسبت یہ زیادہ قابل ستائش بات ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے ڈر اور اس کے خوف اور اس سے حیا کر کے گناہ سے باز رہے اور پیغمبر کی شان کے لائق یہی دوسری چیز ہے۔ 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے جوابات کی وضاحت

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عزیز مصر کی بیوی کے جواب میں تین باتیں ذکر کیں پہلے فرمایا : معاذ اللہ ! میں اس گناہ کے ارتکاب سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اور میں اللہ کے احکام کی اطاعت کرتا ہوں اگرچہ تم نے مجھ پر بہت احسان کیے ہیں اور مجھے بہت تعظیم اور تکریم کے ساتھ رھکا ہے لیکن تم سے کہیں زیادہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کے احسان ہیں اور مجھ پر تمہارے حکم کو ماننے کی بہ نسبت اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے کا زیادہ حق ہے پھر فرمایا : وہ میری پرورش کرنے والا ہے۔ مشہور تفسیر کے مطابق اس سے عزیز مصر کو مراد لیا جائے تو معنی اس طرح ہوگا کہ مخلوق کے حق کی رعایت کرنا بھی واجب ہے اور عزیز مصر نے مجھ پر بہت احسان کیے ہیں۔ اب ان احسانات کا بدلہ میں اس کی عزت کو پامال کروں تو یہ کس قدر بری بات ہوگی پھر فرمایا : بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے، اس کا معنی یہ ہے کہ انسان پر واجب ہے کہ وہ اپنے آپ کو ضرر سے بچائے تم جس گناہ کی دعوت دے رہی ہو اس کی لذت بہت کم ہے اور بہت کم وقت کے لیے ہے اور اس کے نتیجہ میں دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب ہے اور جب قلیل لذت کے مقابلہ میں ضرر شدید ہو تو پھر اس لذت کو ترک کرنا واجب ہے اور اگر اس لذت کو ترک نہ کیا تو آخرت میں فلاح حاصل نہیں ہوگی۔ اس کی دوسری تقریر یہ ہے کہ ظلم کا معنی ہے کسی چیز کو اس جگہ رکھنا جو اس کا صحیح اور جائز محل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ے مرد میں جو شہوت رکھی ہے اسکو خرچ کرنے کا جائز اور صحیح محل اس کی منکوحہ ہے اگر کوئی شخص اپنی شہوت کو اپنی منکوحہ کے بجائے کسی اور عورت میں خرچ کرے تو یہ ظلم ہے اور ایسا کرنے والا ظالم ہوگا اور طالم فلاح نہیں پاتے۔ اللہ تعالیٰ نے ظالموں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے سو اس حسین ترتیب کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے زیز مصر کی بیوی کو یہ حکیمانہ اور ناصحانہ جوابات دیئے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 23