أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـقَدۡ هَمَّتۡ بِهٖ‌ۚ وَهَمَّ بِهَا‌ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّاٰ بُرۡهَانَ رَبِّهٖ‌ؕ كَذٰلِكَ لِنَصۡرِفَ عَنۡهُ السُّۤوۡءَ وَالۡـفَحۡشَآءَ‌ؕ اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُخۡلَصِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اس عورت نے ان (سے گناہ) کا قصد کرلیا اور انہوں نے (اس سے بچنے کا) قصد کیا اگر وہ اپنے رب کی دلیل نہ دیکھتے (تو گناہ میں مبتلا ہوجاتے) یہ ہم نے اس لیے کیا ہم ان سے بدکاری اور بےحیائی کو دور رکھیں بیشک وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس عورت نے ان (سے گناہ) کا قصد کرلیا اور انہوں نے (اس سے بچنے کا) قصد کیا اگر وہ اپنے رب کی دلیل نہ دیکھتے (تو گناہ میں مبتلا ہوجاتے) یہ ہم نے اس لیے کیا تاکہ ہم اس سے بدکاری اور بےحیائی کو دور رکھیں بیشک وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے ہیں۔ (یوسف : ٢٤) 

” ھم “ کا لغوی اور اصطلاحی معنی اور اس کے متعلق حدیث

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : ھم اس فکر کو کہتے ہیں جس سے انسان گھل جاتا ہے کہا جاتا ہے ھممت الشحم میں نے چربی کو پگھلا دیا ہے اور ھم کا معنی ہے دل میں کسی چیز کا قصد کرنا قرآن مجید میں ہے : اذ ھم قوم ان یبسطو الیکم ایدیھم (المائدہ : ١١) جب ایک قوم نے یہ قصد کیا کہ وہ (لڑنے کے لیے) تمہاری طرف ہاتھ بڑھائیں۔ (المفردات ج ٢، ص ٧٠٩، مطبوہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکمرہ، ١٤١٨ ھ)

دل میں اچانک کسی چیز کا خیال آجائے تو اس کو ھاجس کہتے ہیں اور اگر باربار کسی چیز کا خیال آئے تو اس کو خاطر کہتے ہیں اور جب دل اس چیز کے متعلق سوچنا شروع کر دے اور اس کے حصول کا منصوبہ بنانے لگے تو اس کو حدیث نفس کہتے ہیں اور جب اس کام کو کرنے کا راجح اور غالب قصد ہو اور مرجوع اور مغلوب قصد نہ کرنے کا ہو کہ مبادا اس میں کوئی خطرہ ہو اس کو ھم کہتے ہیں اور جب کام نہ کرنے کی مغلوب اور مرجوع جانب بھی ختم ہوجائے اور انسان یہ پکا قصد کرلے کہ میں نے یہ کام کرنا ہے خواہ فائدہ ہو یا نقصان تو اس کو عزم اور نیت کہتے ہیں اور انسان اسی عزم کا مکلف ہے۔ اگر گناہ کا ھم کیا جائے تو اس پر مواخذہ نہیں ہوتا لیکن اگر گناہ کا عزم اور اس کی نیت کی جائے تو اس پر مواخذہ ہوتا ہے۔ (جمل ج ١، ص ٢٣٦، مرقات ج ١، ص ٢٤٣)

ھم کے متعلق یہ حدیث ہے : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : جب میرا بندہ نیکی ھم (قصد) کرے اور اس پر عمل نہ کرے تو میں اس کی ایک نیکی لکھ دیتا ہوں اور جب وہ اس نیکی پر عمل کرے تو میں اس کی دس سے لے کر سات سو تک نیکیاں لکھ دیتا ہوں اور اس کی دگنی تک اور اگر میرا بندہ معصیت کا ھم (قصد) کرے اور اس پر عمل نہ کرے تو میں اس کی وہ معصیت نہیں لکھتا اور اگر وہ اس معصیت پر عمل کرے تو میں اس کی صرف ایک معصیت لکھتا ہوں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٢٨، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤٩١، مسند احمد ج ٢، ص ٢٤٢، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١٣٦٧٩، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٢٦٨٢، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٨٠، شرح السنہ رقم الحدیث : ٤١٤٨) 

وھم بھا کے ترجمہ کے دو محمل

عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف کے ساتھ گناہ کا قصد کرلیا تھا اور وھم بھا کا ہمارے نزیک مختار معنی یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس گناہ سے اپنا دامن بچانے کا قصد کیا اور اگر وہ اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتے تو گناہ میں مبتلا ہوجاتے اور جمہور مفسرین کے نزدیک اس آیت کا معنی اس طرح ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) بھی گناہ کا ارادہ کرلیتے اگر وہ اپنے رب کی دلیل نہ دیکھنے کی تقدیر پر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے جو قصد صادر ہوتا وہ ھم کے درجہ میں ہوتا اور گناہ کا عزم نہ ہوتا اور جو چیز ممنوع اور معصیت ہے وہ گناہ کا عزم ہے نہ کہ گناہ کا ھم۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی عصمت میں اس قدر راسخ تھے اور اپنی ذات میں اس قدر کامل اور مکمل تھے کہ ایک حسین اور صاحب اقتدار عورت نے ان کو اپنی طرف راغب کرنے کی پوری کوشش کی اور ان کو حصول لذت کی دعوت دی لیکن انہوں نے خوف خدا کے غلبہ سے اس کی دعوت کو مسترد کردیا اور ایسے ہی پاکبازوں کے متعلق حدیث میں یہ نوید ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس دن کسی کا سایہ نہیں ہوگا اس دن سات آدمی اللہ کے سائے میں ہوں گے : امام عادل، وہ شخص جو اپنے رب کی عبادت میں جوان ہوا وہ شخص جس کا دل مسجد میں معلق رہتا ہے وہ دو آدمی جو اللہ کی محبت میں ملیں اور اللہ کی محبت میں الگ ہوں اور وہ آدمی جس کو کسی صاحب منصب اور صاحب جمال عورت نے گناہ کی دعوت دی ہو اور وہ کہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جو چھپا کر صدقہ دے حتیٰ کہ بائیں ہاتھ کو پتا نہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے اور وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٦٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٣١، موطا امام مالک رقم الحدیث : ٢٠٠٥، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٣٣٨، سنن کبریٰ للبیہقی ج ١٠ ص ٨٧، کتاب الاسماء والصفات ص ٣٧١۔ ٣٧٠، شرح السنہ رقم الحدیث : ٤٧٠، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٣٩١، مسند احمد ج ٢، ص ٤٣٩، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٣٥٨، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٦٣٢٠، شعب الایمان رقم الحدیث : ٧٩٤، تاریخ بغداد ج ١٢، ص ٢٣٩، ج ٩، ص ٢٥٤۔ ٢٥٣) 

آیا حضرت یوسف (علیہ السلام) سے گناہ صادر ہوا تھا یا نہیں ؟

بعض مقتدمین مفسرین نے ایسی روایت لکھی ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے زنا کا ارتکاب تو نہیں کیا تھا لیکن زنا کے تمام مقدمات میں ملوث ہوگئے تھے (ہم ایسی روایات اور خرافات سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں) اور انہوں نے دلائل سے اپنے اس مکروہ موقف کو ثابت کیا ہے ہم پہلے ان روایات کو رمز اور کنایہ سے درج کریں گے کیونکہ ان کو بعینہ درج کرنے سے ہمارا دل لرزتا ہے اور ہم میں ان کو اسی طرح درج کرنے کی ہمت نہیں ہے پھر ان روایات کے ثبوت میں ان کے دلائل کا ذکر کریں گے اور پھر ان کا رد کریں گے۔ 

وھم بھا کی باطل تفسیریں

امام ابو الحسن علی بن احمد الواحدی نیشاپوری متوفی ٤٦٨ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ھم (قصد) کی کیا کیفیت تھی ؟ انہوں نے کہا وہ عورت چت لیٹ گئی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) بیٹھ گئے۔ (اس کے آگے حیا سوز عبارت ہے) اور یہ سعید بن جبیر، ضحاک، سدی، مجاہد، ابن ابی بزہ، اعمشق اور حسن بصری کا قول ہے اور یہی متقدمین کا قول ہے اور متاخرین نے دونوں قصدوں میں فرق کیا ہے۔

ابو العباس احمد بن یحییٰ نے کہا اس عورت نے گناہ کا قصد کیا اور وہ اپنے قصد پر ڈٹی رہی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی معصیت کا قصد کرلیا تھا لیکن انہوں نے معصیت کا ارتکاب نہیں کیا اور نہ اس پر اصرار کیا پس دونوں کے ھم (قصد) میں فرق ہے اور ابن الالنبار نے اس کی شرح میں کہا اس عورت نے زنا کا عزم کیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قلب میں معصیت کا خطرہ ہوا اور حدیث نفس بھی عارض ہوئی لیکن ان کے اس ھم (قصد) پر گناہ لازم نہیں آیا، جیسے کسی نیک شخص نے سخت گرمی کے دنوں میں روزہ رکھا ہوا ہو اور اس کو ٹھنڈا اور میٹھا پانی دکھائی دے اور اس کے دل میں پانی پینے کا خیال آئے اور وہ اس کا منصوبہ بھی بنائے لیکن وہ خوف خدا کی وجہ سے پانی نہ پیے تو اس سے اس بات پر مواخذہ نہیں ہوگا کہ اس کے دل میں پانی پینے کا خیال کیوں آیا تھا۔

زجاج نے کہا : مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے گناہ کا ھم (قصد) کرلیا تھا اور جس طرح مرد عورت کے ساتھ اس کام کو کرنے کے لیے بیٹھتا ہے وہ اس طرح بیٹھ گئے تھے کیونکہ انہوں نے کہا تھا : وما ابری نفسی ان النفس لامارۃ بالسوء الا مارحم ربی ان ربی غفور رحیم۔ (یوسف : ٥٣) اور میں اپنے نفس کو بےقصوف نہیں کہتا بیشک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے سوا اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے بیشک میرا رب بہت بخشنے والا ہے بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ ابن الانباری نے کہا : اس آیت کی تفسیر میں صحابہ اور تابعین سے جو روایات ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے گناہ کو قصد کرلیا تھا اور وہ ان اس کو ان کا عیب نہیں شمار کرتے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے گناہ کا قصد کرنے کے باوجود اپنے آپ کو نفس کی خواہش پوری کرنے سے روکا اور ان کا یہ اقدام محض اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کے احکام کی تعظیم کی وجہ سے تھا اور جن لوگوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے گناہ کا قصد ثابت کیا ہے وہ حضرت علی اور حضرت ابن عباس (رض) ہیں اور تابعین میں سے وہب بن منبہ اور ابن سیرین وغیرہم ہیں اور یہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے حقوق اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کے بلندر درجات کو ان لوگوں کی بہ نسبت بہت زیادہ جاننے والے تھے جنہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے گناہ کی قصد کی نفی کی ہے۔ حسن بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے گناہوں کا اس لیے ذکر نہیں فرمایا کہ اس سے ان کا عیب بیان کیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کا اس لیے ذکر فرمایا ہے تاکہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو اور ابوعبید نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور وہ بھی اس کا قصد کرلیتے اگر وہ اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتے۔ 

لولا ان رابرھان ربہ کی باطل تفسیریں

حضرت ابن عباس (رض) اور عامتہ المفسرین نے یہ کہا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی صورت کی مثال دکھائی گئی کہ وہ اپنی انگلی دانتوں میں دبائے ہوئے کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں : کیا تم بدمعاشوں کا سا عمل کر رہے ہو حالانکہ تمہارا نام انبیاء (علیہم السلام) میں لکھا ہوا ہے پس حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ سن کر حیا آگئی۔ حسن بصری نے کہا : حضرت جبریل (علیہ السلام) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی صورت میں متمثل ہو کر آگئے تھے اور سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ان کے لیے حضرت یعقوب مثالی جسم میں آئے اور ان کے سینہ پر ہاتھ مارا تو ان کی انگلیوں کی پوروں سے شہوت نکل گئی۔ سدی نے کہا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دیکھا کہ حضرت یعقوب اپنے گھر میں کھڑے ہوئے کہہ رہے ہیں : اے یوسف ! اس سے بدکاری نہ کرو تم ایسا شخص جب تک بدکاری نہ کرے وہ اس پرندہ کی طرح ہے جو فضا میں اور رہا ہو اور اس کو کوئی پکڑ نہ سکتا ہو اور جب وہ بدکاری کرلے تو وہ اس پرندہ کی مثل ہوگا جو مرنے کے بعد زمین پر گرجائے اور اپنے نفس سے کسی چیز کو دور نہ کرسکے اور مجاہد نے حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) جب اس عورت کے پاس بیٹھ گئے تو ان کے سامنے ایک ہاتھ ظاہر ہوا جس پر لکھا ہوا تھا : ولا تقربوا الزنی انہ کان فاحشۃ وساء سبیلا۔ (بنی اسرائیل : ٣٢) اور زنا کے قریب نہ جائو بیشک وہ بےحیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) پھر اٹھ کر بھاگے اور وہ عورت بھی بھاگی اور جب ان کے دلوں سے دہشت دور ہوگئی تو پھر پہلی حالت پر لوٹ گئے تب پھر اسی طرح ایک ہاتھ ظاہر ہوا جس پر لکھا ہوا تھا : واقتو یوما ترجعون فیہ الی اللہ ثم توفی کل نفس ما کسبت وھم لا یظلمون۔ (البقرہ : ٢٨١) اور اس دن سے ڈرو جس دن میں تم الہ کی طرف لوتائے جائو گے پھر ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ وہ دونوں پھر اٹھ کر بھاگے اور جب ان سے خوف دور ہوگیا تو پھر وہ سابقہ حالت کی طرف لوٹ گئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے جبریل سے کہا : اس سے پہلے کہ میرا بندہ گناہ میں مبتلا ہوجائے اس کو جا کر سنبھال لو، تب حضرت جبریل اپنی انگلی دانتوں میں دبائے ہوئے آئے اور کہا : اے یوسف ! تم جاہلوں کا عمل کر رہے ہو حالنا کہ تمہارا نام انبیاء میں لکھا ہوا ہے۔ (الوسیط ج ٢، ص ٦٠٩۔ ٦٠٧، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٥ ھ)

وھم بھا اور لولا ان رابرھان ربہ کی تفسیر میں ان روایات کو درج ذیل مفسرین نے بھی اپنی تصانیف میں درج کیا ہے : امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ (جامع البیان جز ١٢، ص ٢٥٠۔ ٢٣٩) امام ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٧، ص ٢١٢٦۔ ٢١٢٣) امام ابو اللیث نصر بن محمد السمرقندی المتوفی ٣٧٥ ھ (تفسیر السمرقندی ج ٢، ص ١٥٧) امام الحسین بن مسعود البغوی المتوفی ٥١٦ ھ (معالم التنزیل ج ٢، ص ٣٥٤۔ ٣٥٣) علامہ عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ (زاد المسیر ج ٤، ص ٢٠٩۔ ٢٠٣) ، علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ، (الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ١٤٧۔ ١٤٦) قاضی بیضاوی متوفی ٦٨٥ ھ نے لولا ان رابرھان ربہ کی تفسیر میں ان روایات کو درج کیا ہے (انوار التنزیل مع عنایت القاضی ج ٥، ص ٢٩٠) علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ نے (الدر المنثور ج ٤، ص ٥٢٥۔ ٥٢١)

میں ان سب روایات کو درج کیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ تمام روایات باطل اور مردود ہیں اور وضاعین نے جعلی سند بنا کر ان روایات کو حضرت ابن عباس اور حضرت علی (رض) ایسے صحابہ اور اخیار تابعین کی طرف منسوب کردیا ورنہ ان نفوس قدسیہ کا مرتبہ اس سے بہت بلند ہے کہ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ایسے عفت مآب اور مقدس نبی کے متعلق ایسی عریاں اور فحش رویا ات بیان کرتے۔ غور کیجیے کہ قرآن کریم تو یہ کہتا ہے کہ جب عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دعوت گناہ دی تو انہوں نے فرمایا : اللہ کی پناہ ! وہ میری پرورش کرنے والا ہے، اس نے مجھے عزت سے جگہ دی ہے بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے۔ (یوسف : ٢٣) اور ان وضاعین نے ایسی ننگی خرافات کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف منسوب کردیا ہمارے نزدیک قرآن مجید کی یہ ایک آیت ہی ان روایات کے رد اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاک دامنی اور گناہوں سے برأت کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔ ہمارے مفسرین چونکہ روایات جمع کرنے کے دلدادہ ہوتے ہیں اس وجہ سے انہوں نے اپنی تفاسیر میں ان روایات کو درج کردیا ورنہ ان کے دلوں میں انبیاء (علیہم السلام) کی عظمت ہم سے بہت زیادہ تھی۔ 

وھم بھا کا اکثر صحیح اور بعض غلط محامل

علامہ ابو الحسن علی بن محمد ال اور دی المتوفی ٤٥٠ ھ نے لولا ان رابرھان ربہ کی تفسیر میں تو یہی وضعی روایات درج کی ہیں لیکن وھم بھا کی تفسیر میں بعض صحیح محامل بیان کیے ہیں اور بعض محامل غلط ہیں ہم اس بحث کو مکمل رکنے کی خاطر ان محامل کا بھی ذکر کر رہے ہیں وہ لکھتے ہیں : حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ھم (قصد) کے متعلق چھ قول ہیں :

(١) بعض متاخرین نے کہا ہے کہ جب عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کو مارنے کا قصد کیا۔

(٢) قطرب نے کہا : اس عورت نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے اس کام کا قصد کیا یہ مکمل کلام ہے اس کے بعد نیا جملہ ہے جس میں جزا مقدم ہے اور شرط موخر ہے اور معنی اس طرح ہے : اگر انہوں نے اپنے رب کی برہان نہ دیکھی ہوتی تو وہ بھی اس عورت کا قصد کرلیتے۔

(٣) اس عورت نے قضاء شہوت کا قصد کیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی عفت پر قائم رہنے کا قصد کیا۔

(٤) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو اس عورت کا ھم کیا تھا وہ عزم اور ارادہ نہ تھا بلکہ وہ فعل اور ترک کا میلان تھا اور حدیث نفس (دل کے خیالات) میں اس وقت کوئی حرج نہیں ہے جب اس کے ساتھ عزم نہ ہو اور نہ اس کے بعد فعل کا ارتکاب ہو۔

(٥) حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ھم سے مراد یہ ہے کہ مردوں کے دلوں میں عورتوں کی شہوت سے جو طبعی تحریک ہوتی ہے وہ تحریک ہوئی اگرچہ وہ اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھتے ہوں۔

(٦) انہوں نے اس عورت سے بدکاری کا ھم کیا اور اس کا عزم کرلیا حضرت ابن عباس نے کہا انہوں نے…… 

انبیاء (علیہم السلام) کو گناہ گار قرار دینے کی توجیہات اور ان کا ابطال

علامہ ماوردی نے وھم بھا کا یہ چھٹا محمل جو بیان کیا ہے یہ قطعاً باطل اور مردود ہے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شان میں گستاخی ہے اور اس روایت کی حضرت ابن عباس (رض) کی طرف نسبت وضعی اور جعلی ہے ان کا دامن اس جھوٹ اور تہمت سے پاک ہے۔ علامہ ماوردی نے اس باطل قول کو صحیح ثابت کرنے کے لیے حسب ذیل تاویلات کی ہیں : کہا گیا ہے یہ ھم (قصد) تو معصیت ہے اور انبیاء (علیہم السلام) کے معاصی کی تین توجیہات ہیں :

(١) ہر نبی کو اللہ تعالیٰ نے کسی گناہ میں مبتلا کیا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے خوفزدہ رہے اور جب بھی اس گناہ کو یاد کرے تو خوب عبادت کرنے کی کوشش کرے اور اللہ تعالیٰ کے عفو اور رحمت کی وسعت پر اعتماد نہ کرے۔

(٢) اللہ تعالیٰ نے ان کو گناہوں میں مبتلا کیا تاکہ جب اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں سے درگزر کرے اور آخرت میں انہیں ان کے گناہوں کی سزا نہ دے تو وہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی نعمت کے پہنچائیں۔

(٣) اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو گناہوں میں اس لیے مبتلا کیا تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید رکھنے میں اور گناہوں پر توبہ کرنے کے بعد اس معافی کی توقع اور مایوسی کو ترک کرنے میں گناہ گار لوگ ان کو اپنا مقتدا قرار دیں۔ (النکت والعیون ج ٣، ص ٢٥۔ ٢٤، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

تمام انبیاء (علیہم السلام) معصوم ہیں اعلان نبوت سے پہلے اور اعلان نبوت کے بعد ان سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوتا یہ صغیرہ نہ کبیرہ، نہ سہوا، نہ عمداً ، نہ صورتاً ، نہ حقیقتاً ۔ علامہ ماوردی نے انبیاء (علیہم السلام) کے گناہوں کو ثابت کرنے کی جو تین توجیہات ذکر کی ہیں یہ بھی باطل اور مردود ہیں اور اب ہم حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عصمت پر دلائل پیش کریں گے۔ فنقول وباللہ التوفیق۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف گناہ کی تہمت کا رد اور ابطلال

ان روایات میں ہرچند کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف صراحتاً زنا کی نسبت نہیں کی ہے لیکن صراحت کی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس حرام کام کے لیے تیار ہو کر بیٹھ گئے (معاذ اللہ) اور جو چیز حرام ہو، اس کا مقدمہ بھی حرام ہوتا ہے اور حرام کا ارتکاب گناہ کبیرہ ہے اور تمام انبیاء (علیہم السلام) کبائر اور صغائر سے معصوم ہوتے ہیں۔ انبیاء (علیہم السلام) کی عصمت پر ہم نے مفصل دلائل تبیان القرآن ج ١، ص ٣٦٧۔ ٣٦٥ اور شرح صحیح مسلم ج ٧، ص ٢٩٧۔ ٦٩٥ میں ذکر کیے ہیں۔ ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ ان روایات میں جن برے کاموں کی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف نسبت کی گئی ہے ان کے رد اور ابطلال کے لیے یہ آیت کافی ہے : وراودتہ التی ھو فی بیتھا عن نفسہ وغلقت الابواب وقالت ھیت لک قال معاذ اللہ انہ ربی احسن مثوی انہ لا یفلح الظالمون۔ (یوسف : ٢٣) اور وہ جس عورت کے گھر میں تھے اس نے انہیں اپنی طرف راغب کیا اور اس نے دروازے بند کر کے کہا جلدی آئو ! یوسف نے کہا اللہ کی پناہ ! وہ میری پرورش کرنے والا ہے اس نے مجھ عزت سے جگہ دی ہے بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے۔ کس قدر رنج اور افسوس کی بات ہے کہ جب عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دعوت گناہ دی تو انہوں نے اس کو سختی سے رد کردیا اور اپنے رب کے انعام و اکرام کا ذکر کیا اور اس کام کو ظلم قرار دیا ایسے پاکباز، مقدس اور اللہ سے ڈرنے والے نبی کے متعلق ایسی حیا سوز اور بےہودہ روایات ذکر کی جائیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گناہوں سے برأت کے متعلق دوسری آیت یہ ہے : کذلک لنصرف عنہ السوء والفحشاء۔ (یوسف : ٢٤) یہ ہم نے اس لیے کیا تاکہ ہم ان کو بےحیائی اور بدکاری سے دور رکھیں۔ ان روایات میں جو فحش افعال حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف منسوب کیے گئے ہیں کیا وہ بےحیائی اور بدکاری کے کام نہیں ہیں کیا اجنبی اور نامحرم عورت کے سامنے ایک مرد کا برہنہ ہونا فحاشی اور بےحیائی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے ہم نے یوسف کے بےحیائی اور بدکاری سے دور رکھا اور ان وضاعین نے عین بےحیائی اور بدکاری کو اپنی جعلی روایات میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف منسوب کیا اور حیرت ان مفسرین پر ہے جنہوں نے ان روایات کو تقویت پہنچانے کے لیے انبیاء (علیہم السلام) کے لیے پہلے گناہوں کو مانا پھر گناہوں کی توجیہات کیں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انہ من عبادنا المخلصین۔ (یوسف : ٢٤) بیشک وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے ہیں۔ اور جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے ہیں ان کے متعلق شیطان نے بھی اعتراف اور اقرار کیا ہے کہ وہ ان کو گمراہ نہیں کرسکے گا۔ قال فبعزتک لا غوینھم اجمعین الا عبادک منھم المخلصین۔ ص : ٨٣، ٨٢) شیطان نے کہا تیری عزت کی قسم ! میں ان سب کو ضرور گمراہ کر دوں گا ماسوا ان کے جو تیرے مخلص بندے ہیں۔ 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاک دامن ہونے پر متعدد شہادتیں

اللہ تعالیٰ کی گواہی سے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ان گناہوں کی تہمت دور ہوگئی علاوہ ازیں مخلوق نے بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برات پر گواہی دی کیونکہ اس واقعہ میں جو لوگ مبتلا ہیں ان میں خود حضرت سیدنا یوسف (علیہ السلام) اور عزیز مصر کی بیوی ہے اس کا خاوند ہے اور عزیز مصر کی بیوی کے خاندان کا گواہ ہے اور سب نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاک دامنی اور پارسائی کو بیان کیا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : ھی راودتنی عن نفسی۔ (یوسف : ٢٦) یہ عورت خود مجھے بہکار رہی تھی۔ رب السجن اخب الی مما یدعو ننی الیہ۔ (یوسف : ٣٣) اے میرے رب ! جس کام کی طرف یہ عورتیں مجھے دعوت دے رہی ہیں اس کی بہ نسبت مجھے قید میں رہنا پسند ہے۔ اور عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تہمت سے برأت اس طرح بیان کی : وقلد راودتہ عن نفسہ فاستعصم۔ (یوسف : ٣٢) بیشک میں نے اس کو بہکایا اور اس نے اپنے آپ کو (گناہ سے) بچائے رکھا۔ قالت امرءۃ العزیز الئن حصحص الحق انا راوتہ عن نفسہ وانہ لمن الصدقین۔ (یوسف : ٥١) عزیز مصر کی بیوی نے کہا اب تو حق بات ظاہر ہو ہی گئی ہے میں نے ہی ان کو بہکایا تھا اور بیشک وہ سچوں میں سے ہیں۔ اور عزیز مصر نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برأت اس طرح بیان کی : قال انہ من کید کن ان کید کن عظیم۔ یوسف اعرض عن ہذا واستغفری لذنبک انک کنت من الخطئین۔ (یوسف : ٢٩۔ ٨ ٢) اس نے کہا بیشک یہ تم عورتوں کی گہری سازش ہے اور یقینا تمہاری سازش بہت بڑی ہے۔ اے یوسف ! تم اس بات سے درگزر کرو اور اے عورت ! تو اپنے جرم کی معافی طلب کرے بیشک تو ہی خطاکاروں میں سے ہے۔ اور گاہوں نے اس طرح برأت بیان کی : وشھد شاھد من اھلھا انکان فمیصہ قد من قبل فصدقت وھو من الکذبین وان کان فمیصہ قد من دبر فکذبت وھو من الصدقین۔ (یوسف : ٢٧۔ ٢٦) اور اس عورت کے خاندان میں سے ایک گواہ نے گواہی دی اگر ان کا کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہے تو عورت سچی ہے اور وہ جھوٹ بولنے والوں میں سے ہیں اور اگر ان کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو اس عورت نے جھوٹ بولا اور وہ سچوں میں سے ہیں۔ 

لولا ان را برھان ربہ کو ذکر کرنے کا فائدہ

ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے گناہ کا قصد نہیں کیا تھا بلکہ گناہ سے بچنے کا قصد کیا تھا تو پھر اس کے بعد یہ ذکر کرنے کا کیا فائدہ ہے کہ ” اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھتے تو “ ہم کہتے ہیں کہ اس کی جزا محذوف ہے اور وہ یہ ہے کہ پھر وہ معصیت میں مبتلا ہوجاتے اور اس کے ذکر کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ انہوں نے جو گناہ کا قصد نہیں کیا تھا اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان میں عورتوں کی طرف رگبت کرنے کا مادہ نہیں تھا یا وہ عورتوں کے ساتھ اس فطری فعل پر قادر نہیں تھے بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں اپنے رب کے دین اور اس کی شریعت کے براہین اور دلائل کا علم تھا اور وہ یہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے نامحرم اور اجنبی عورتوں سے خواہش نفس پوری کرنے کو حرام کردیا ہے اور وہ اللہ کے نبی تھے اور نبی کو مخلوق میں سب سے زیادہ اللہ کا خوف ہوتا ہے پس انہوں نے جو بدکاری اور گناہ سے بچنے کا قصد کیا اس کی یہ وجہ نہیں تھی کہ وہ بدکاری پر قادر نہیں تھے بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اللہ کی شریعت کی برہان سے واقف تھے اور انہیں معلوم تھا کہ اجنبی عورت سے خواہش نفس پوری کرنا حرام ہے۔ امام رازی نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصد کا دوسرا محمل یہ ہے کہ عزیز مصر کی بیوی نے آپ سے حصول لذت کا قصد کیا اور آپ نے اس کو اس کام سے منع کرنے اور ڈانٹنے کا قصد کیا اگر یہ کہا جائے کہ اس صورت میں اس قول کا کیا فائدہ ہوگا کہ ” اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھتے تو “ اس کا جواب یہ ہے کہ اس صورت میں اس کا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس پر مطلع کیا کہ اگر آپ نے اس عورت کو حصول لذت سے منع کیا اور ڈانٹا تو یہ آپ کو بدنام کرنے کی کوشش کرے گی اور آپ کو قید کرادے گی سو آپ کا بدنامی اور قید میں مبتلا ہونا اس فحش کام میں مبتلا ہونے سے بہتر ہے کیونکہ انجام کار آپ کی براژت اور نیک نامی بھی ظاہر ہوجائے گی اور آپ کو قید سے رہائی بھی مل جائے گی اور اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس چیز کا علم نہ ہوتا تو آپ معصیت میں مبتلا ہوجاتے۔ 

لولا ان رابرھان ربہ کے مزید محامل

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے رب کی جو برہان دیکھی تھی اس کے دو محمل تو وہ ہیں جن کا ہم نے ابھی ذکر کیا ہے ان کے علاوہ بھی اس کے کئی صحیح محمل ہیں :

(١) رب کی برہان سے مراد نبوت ہے جو بےحیائی اور گناہ کے کاموں سے مانع ہوتی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو اس لیے بھیجا گیا ہے کہ وہ مخلوق کو برے کاموں اور گناہوں سے منع کریں اگر وہ لوگوں کو برے کاموں سے منع کریں اور خود سب سے بڑی برائی میں ملوث ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ کی اس وعید میں داخل ہوجائیں گے۔ یایھا الذین امنوا لم تقولون مالا تفعلون۔ کبرمقتا عندا اللہ ان تقولوا مالا تفعلون۔ (الصف : ٣۔ ٢) اے ایمان والو ! ایسی بات تم کیوں کہتے ہو جس پر تم خود عمل نہیں کرتے۔ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناراضگی کا موجب ہے کہ تم ایسی بات کہو جس پر تم خود عمل نہیں کرتے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے یہود کی اس بات پر مذمت کی ہے کہ وہ جو کچھ کہتے تھے اس کے موافق عمل نہیں کرتے تھے فرمایا اتا مرون الناس بالبر وتنسون انفسکم۔ (البقرہ : ٤٤) کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔ اور جو چیز یہود کے حق میں باعث مذمت ہو وہ اس رسول کی طرف کیسے منسوب ہوسکتی ہے جس کی تائید معجزات سے کی گئی ہو۔

(٢) حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ بتایا گیا تھا کہ شریعت میں زنا حرام ہے اور ان کو اس کے دلائل پر مطلع کیا گیا تھا اور زانی کے لیے دنیا میں جو سزا مقرر کی گئی ہے اور آخرت میں اس پر جو عذاب دیا گیا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان تمام امور پر مطلع کیا گیا تھا۔

(٣) اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو برے اخلاق سے پاک صاف رکھا ہے بلکہ جو نفوس قدسیہ انبیاء (علیہم السلام) سے متصل ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بھی بری عادتوں اور برے کاموں سے محفوظ رکھا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھر کم تطھیرا۔ (الاحزاب : ٣٣) اللہ یہی ارادہ فرماتا ہے کہ اے رسول کے گھر والو ! وہ تم سے ہر قسم کی ناپاکی کو دور فرما دے اور وہ تمہیں اچھی طرح پاک اور صاف رکھے۔ 

السوء، الفحشاء اور المخلصین کے معنی

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ ہم نے اس لیے کیا تاکہ ہم ان سے السوء اور الفحشاء کو دور رکھیں، بیشک وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے ہیں۔ السوء اور الفحشاء میں کئی وجہ سے فرق ہے السوء کا معنی ہے : ہاتھ کا جرم اور الفحشاء کا معنی ہے زنا۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ اسلواء کا معنی ہے زنا کے مبادی اور مقدمات مثلاً بوس و کنار اور شہوت سے دیکھنا اور الفحشاء کا معنی ہے۔ (زنا) تفسیر کبیر) اور تیسرا فرق یہ ہے کہ السوء کا معنی ہے شہوت اور الفحشاء کا معنی ہے بغل گیر ہونا، چوتھا فرق یہ ہے کہ السوء کا معنی ہے بری باتوں کا ذکر اور الفحشاء کا معنی ہے زنا، پانچویں فرق یہ ہے کہ السوء کا معنی ہے اپنے ساتھی کی خیانت کرنا اور الفحشاء کا معنی ہے بےحیائی کا مرتکب ہونا۔ (الجامع لاحکام القرآن) مخلصین کی قرأت لام کی زیر کے ساتھ بھی ہے اور لام کی زبر کے ساتھ بھی ہے اگر لام کی زیر کے ساتھ قرأت ہو تو اس سے مراد ہے جن لوگوں نے اخلاص کے ساتھ اللہ عزوجل کی اطاعت کی اور اگر لام پر زبر کے ساتھ قراعٔت ہو تو اس سے مراد ہے جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے چن لیا۔ (انوار التنزیل)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 24