أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰصَاحِبَىِ السِّجۡنِ ءَاَرۡبَابٌ مُّتَفَرِّقُوۡنَ خَيۡرٌ اَمِ اللّٰهُ الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُؕ‏ ۞

ترجمہ:

اے قید کے دونوں ساتھیو ! آیا متعدد خدا بہتر ہیں یا ایک اللہ جو غالب ہے ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے میری قید کے دونوں ساتھیو ! آیا متعدد خدا بہتر ہیں یا ایک اللہ جو غالب ہے۔ (یوسف : ٣٩) 

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کلام میں توحید باری کی تقاریر

اس سے پہلی آیت کے ضمن میں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے نبوت کا دعویٰ فرمایا تھا اور نبوت کا اثبات الوہیت کے اثبات پر موقوف ہے اس لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے الوہیت کے اثبات پر دلائل دینے شروع کیے۔ مخلوق کی اکثریت یہ تو مانتی تھی کہ ایک الٰہ ہے جو مستحق عبادت ہے وہ عالم اور قادر ہے اور ساری کائنات کا خالق ہے، لیکن ان کا طریقہ یہ تھا کہ گزشتہ زمانہ میں جو نیک لوگ گزرے تھے وہ ان کی صورتوں کے بت تراش لیتے تھے یا ستاروں کے نام پر بت بنا لیتے تھے اور اس اعتقاد سے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ نفع پہنچانے اور صرر کو دور کرنے پر قادر ہیں اس لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایسے دلائل قائم کیے کہ بتوں کی عبادت کرنا جائز نہیں ہے اور ان دلائل کی تقاریر حسب ذیل ہیں :

(ا) اللہ تعالیٰ یہ بیان فرمایا ہے کہ اگر ایک سے زیادہ خدا ہوں تو جہان میں خلل اور فساد پیدا ہوگا۔ لوکان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا (الانبیاء : ٢٢) اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا اور مستحق عبادت ہوتے تو آسمان اور زمین تباہ ہوجاتے۔ کیونکہ اگر دو خدا ہوتے اور دونوں کی مساوی قوت ہوتی اور دونوں میں سے ہر ایک اپنی مرضی کے مطابق کائنات کا نظام چلانا جاتا چاہتا اور دونوں کی مساوی قوت ہوتی اور وہ دونوں سورج کو اپنی اپنی جانب سے نکالنے کے لیے زور آزمائی کرتے تو اس کا نتیجہ میں سورج ٹوٹ کر بکھر جاتا اسی طرہ ایک خدا ایک درخت سے صرف سیب اگانا چاہتا اور دوسرا خدا اس درخت سے صرف آم لگانا چاہتا اور دونوں کی قوت مساوی ہوتی اور وہ دونوں اس درخت پر زور آزمائی کرتے تو وہ درخت پاش پاش ہوجاتا علی ھذا القیاس جب دو مساوی طاقت کے خد ہوتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کے منصوبہ کے خلاف اس نظام کائنات کو چلانے کے لیے اس کائنات میں زور آزمائی کرتے تو یہ کائنات بکھر کر ریزہ ریزہ ہوجاتی اس سے معلوم ہوا کہ خدائوں کی کثرت خلل اور فساد کو واجب کرت ہے اور جب خدا صرف ایک ہوگا تو وہ صرف ایک قسم کے نظام کو جاری کرے گا اور جو ن کہ اس کائنات کا نظام ایک طرز پر جاری ہے زمین میں روئیدگی ہو یا آسمان سے بارش کا نزول ہو، سورج، چاند اور ستاروں کا طلوع اور غروب ہوا انسانوں اور حیوانوں میں پیدائش کا طریقہ ہو ہم صدیوں سے دیکھتے چل آرہے ہیں کہ کائنات کے اس نظام میں وحدت ہے ہر چیز ایک ہی نظام کے تحت چل رہی ہے اور اس نظام کی وحدت زبان حال سے پکار کر یہ کہتی ہے کہ اس نطام کا ناظم بھی واحد تو جب یہ ثابت ہوگیا کہ خدائوں کی کثرت اس جہان کے فساد کو واجب کرتی ہے اور خدا کا واحد ہونا ہی اس جہان کی سلامتی کا ضامن ہے اور اس نظام کی بقا اور اس کی حسن ترتیب کا موجب ہے تو پھر اے میرے ساتھیو ! یہ بتائو کہ متعدد خدائوں کا ماننا بہتر ہے یا ایک اللہ کو ماننا بہتر ہے جو غالب ہے۔

(٢) یہ بت مصنوع ہیں، صائع نہیں اور یہ مغلوب اور مقہور ہیں غالب اور قاہر نہیں ہیں کیونکہ اگر کوئی انسان ان کو توڑنا یا خراب کرنا چاہے تو یہ اس کو کسی طرح روک نہیں سکتے اور جب یہ اپنے آپ کو کسی ضرر یا ہلاکت سے نہیں بچاسکتے تو دوسروں کو بھی کسی ضرر اور مصیبت سے نہیں بچا سکتے اور نہ کسی قسم کا کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں اور یہ جو فرمایا تھا ان متعدد اور مختلف خدائوں کا پوجنا بہتر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ بنانے والے نے مختلف مقدار اور سائز کے بت بنائے تھے اور ان کے رنگ اور ان کی شکلیں بھی مختلف تھیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ان بتوں کے بنانے والے جس رنگ، جس سائز اور جس شکص کے بت چاہتے تھے بنا لیتے تھے تو اے میرے بھائیو ! یہ بتائو کہ ان متعدد اور مختلف اور مجبور اور مقہور بتوں کی پرستش کرنا بہتر ہے جو کسی سے ضرور دور کرنے اور نفع پہنچانے پر قادر نہیں ہیں یا اللہ کی عبادت کرنا بہتر ہے وج واحد ہے جو ہر چیز پر قادر ہے اور ہر خیر اور شر پر غالب ہے وہ جس سے چاہے ضرور دور کر دے اور جس کو چاہے نفع پہنچا دے۔

(٣) اللہ تعالیٰ کا ایک ہونا ہی اس کی عبادت کو واجب کرتا ہے کیونکہ فرض کرو اگر دو خدا ہوتے تو ہم کو یہ علم نہیں ہے کہ ان دو میں سے ہم کو کس خدا نے پیدا کیا ہے اور کس نے ہم کو رزق دیا ہے اور کس نے ہم سے آفتوں اور مصیبتوں کو دور کیا ہے اور کس نے ہم کو نفع پہنچایا ہے تو ہم شک میں پڑجاتے کہ ہم اس خدا کی عبادت کریں یا اس خدا کی عبادت کریں اسی طرح جب متعدد اور مختلف بت خدا ہوں گے اور بالفرض وہ ضرر دور کرنے والے اور نفع پہنچانے والے ہوں تو ہم کو کیسے علم ہوگا کہ ہم کو جو نفع حاصل ہوا ہے یا ہم سے جو ضرر دور ہوتا ہے وہ اس بت کا کارنامہ ہے یا کسی دوسرے بت کا کارنامہ ہے یا ان دونوں کی یا سب کی مشارکت اور معاونت سے یہ اثر ظاہر ہوا ہے پھر ہم شک میں پڑجاتے کہ ہم ان متعدد اور مختلف بتوں میں سے کس کی عبادت کریں اور ان میں سے جس کی بھی عبادت کرتے تو ترجیح بلا مرجح لازم آتی یا ترجیح المرجوع لازم آتی اور اس وقت ہم شک میں مبتلا ہوجاتے کہ ہماری عبادت کا مستحق یہ بت ہے یا دوسرا بت ہے لیکن جب خدا ایک ہوگا تو پھر یہ شک نہیں ہوگا اور ہم کو یقین ہوگا کہ صرف یہی ہماری عبادت کا مستحق ہے اور اس پوری کائنات میں عبادت کا اس کے سوا اور کوئی مستحق نہیں ہے تو اے میرے بھائیو ! اب بتائو کہ متعدد اور مختلف خدائوں کا ماننا بہتر ہے یا اللہ کو ماننا بہت رہے جو غالب اور قہار ہے۔

(٤) قہار کی شرط یہ ہے کہ اس کے سوا ہر ایک کے لیے قاہر ہو اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ معبود واجب الوجود لذاتہ ہو کیونکہ اگر وہ ممکن ہوگا تو وہ اپنے وجود میں کسی موجد کا محتاج ہوگا پھر وہ مقہور ہوگا قاہر نہیں ہوگا اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ معبود واحد ہو کیونکہ اگر مثلاً دو معبود ہوں گے تو ان میں سے ہر ایک دوسرے پر قاہر ہوگا کیونکہ قہار وہ ہوتا ہے جو اپنے سوا ہر ایک کے لیے قاہر ہو اور جب ہ رایک دوسرے پر قاہر ہوگا تو ان میں سے ہر ایک مقہور ہوگا اس لیے ضروری ہے کہ جو معبود قہار ہو وہ واجب الوجود لذاتہ ہو اور واحد ہو اور جب معبود واحد ہے تو افلاک معبود نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ متعدد ہیں نہ کواکب اور سیارے، نہ نور اور ظلمت، نہ عقل نہ نفس، نہ حیوان نہ جمادات نہ نباتات کیونکہ یہ سب متعدد ہیں جس نے ستاروں کو رب مانا تو وہ بھی ارباب متفرقین ہیں وہ قہار نہیں ہوسکتے اسی طرح ارواح اور اجسام میں سے کوئی معبود نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ متعدد ہیں اور متعدد چیزیں قہار نہیں ہوسکتیں قہار تو صرف واحد ہوتا ہے تو اے میرے بھائیو ! یہ بتائو کہ ان متعدد اور مختلف چیزوں کو رب ماننا بہتر ہے یا اللہ کو رب ماننا بہتر ہے جو واحد اور قہار ہے۔

(٥) اللہ تعالیٰ واحد ہے اس نے اپنی پہچان کرانے کے لیے اور اپنی عبادت کا حکم دینے کے لیے ایک لاکھ سے زیادہ انبیاء اور رسل بھیجے اور آسمانی کتابیں اور صحائف نازل کیے اس نے یہ دعویٰ کیا کہ اس تمام کائنات کو اس نے پیدا کیا ہے اور وہ اکیلا اس نظام کو چلا رہا ہے فرض کیجیے کہ اس کے علاوہ اور خدا بھی ہے جس نے اس دنیا کو بنانے اور چلانے میں اپان رول ادا کیا ہے اور وہ بھی عبادت کا مستحق ہے تو کیا اس نے اپنی پہچان اور شناخت کرانے کے لیے اور اپنی عبادت کا حکم دینے کے لیے کوئی نبی اور رسول اس دنیا میں بھیجا کہ صرف وہی ایک نہیں ہے اس دنیا کو بنانے اور چلانے میں ہم دو خدا ہیں اس کا کوئی نبی بھی اس کے شریک ہونے پر کوئی معجزہ اور دلیل لے کر آیا اللہ تعالیٰ کے نبی نے کہا میرا خدا سورج کو مشرق سے نکال کر مغرب میں غروب کرتا ہے تو کیوں نہ اس دوسرے خدا نے اس دعویٰ کو باطل کیا اور اپنی ہستی کا احساس دلانے کے لیے کسی دن سورج کو اس کی مخالف جانب سے طلوع کر کے دکھایا اللہ تعالیٰ نے کہا وہ زمین سے غلہ پیدا کرتا ہے تو اس دوسرے خدا نے کبھی آسمان سے رزق برسا کر دکھایا ہو تاکہ یہ میری پہچان ہے اور میری شناخت ہے اس نے بھی اپنی شراکت کو ثابت کر کے لیے کوئی آسمانی کتاب نازل کی ہوتی اس کے بھی کسی نبی نے کوئی معجزہ پیش کیا ہوتا اپنی شراکت پر مبنی کوئی نظام دیا ہوتا کسی طرح تو اپنے شریک ہونے کا احساس دلایا ہوتا تو اے میرے بھائیو ! ان متعدد گونگے اور بےثبوت خدائوں کو مننا بہتر ہے یا اللہ تعالیٰ کو ماننا بہتر ہے جو واحد اور قہار ہے جس نے پانی پہچان اور شناخت کے لیے معجزات دے کر ایک لاکھ سے زائد انبیاء اور رسول بھیجے، آسمانی کتابیں نازل کیں، اپنی وحدانیت پر مبنی عبادات کا نظام دیا اپنی توحید پر اس نظام کائنات کو دلیل بنایا جس دلیل کو آج تک کوئی توڑ نہیں سکا۔ فرض کیجیے کوئی دوسرا خدا بھی ہے اور قیامت کے اس نے ہم سے پوچھا کہ تم نے میری عبادت کیوں نہیں کی تو ہم کہہ دیں گے کہ تو نے اپنی پہچان اور شناخت کے لیے اپنا کون سا نمائندہ بھیجا، اپنی عبادت کا کون سا طریقہ بتایا تھا تو ہم ایسے گونگے اور بےثبوت خدا کی عبادت کیسے کرتے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان بتوں کو ارباب کیسے فرمایا جبکہ ان میں سے کوئی بھی رب نہیں ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کلام ان کے اعتقاد کے اعتبار سے ہے اور معنی یہ ہے کہ اگر بالفرض وہ رب ہوں تو متعدد رب ماننا بہتر ہے یا واحد۔

(٦) حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اس کلام میں توحید پر ایک اور دلیل ہے اور وہ یہ ہے کہ متعدد آقائوں کے مقابلہ میں ایک آقا کو راضی کرنا اور اس کی اطاعت کرنا آسان ہے۔ فرض کیجیے ایک شخص کے دو آقا ہیں ایک کہتا ہے اس وقت سو جائو اور دوسرا کہتا ہے اس وقت جاگتے رہو ایک کہتا ہے اس وقت کھانا کھائو دوسرا کہتا ہے اس وقت کھانا مت کھائو تو وہ شخص دونوں کی اطاعت کیسے کرسکتا ہے اور جب ایک شخص دو کی اطاعت نہیں کرسکتا تو متعدد اور مختلف آقائوں کی اطاعت کیسے کرسکتا ہے پس اے میرے بھائیو ١ یہ بتائو کہ متعدد اور مختلف ارباب کو ماننا بہتر ہے یا صرف اللہ کو ماننا بہتر ہے جو واحد اور قہار ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 39