وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖؕ-وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَۚ-وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۵۴)

اور اگر ہر ظالم جان زمین میں جو کچھ ہے (ف۱۳۵) سب کی مالک ہوتی ضرور اپنی جان چھڑانے میں دیتی (ف۱۳۶) اور دل میں چپکے چپکے پشیمان ہوئے جب عذاب دیکھا اور ان میں انصاف سے فیصلہ کردیا گیا اور ان پر ظلم نہ ہوگا

(ف135)

مال و متاع خزانہ و دفینہ ۔

(ف136)

اور روزِ قیامت اس کو اپنی رہائی کے لئے فدیہ کر ڈالتی مگر یہ فدیہ قبول نہیں اور تمام دنیا کی دولت خرچ کر کے بھی اب رہائی ممکن نہیں جب قیامت میں یہ منظر پیش آیا اور کُفّار کی امیدیں ٹوٹیں ۔

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۵۵)

سن لو بےشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں (ف۱۳۷) سن لو بےشک اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر ان میں اکثر کو خبر نہیں

(ف137)

تو کافِر کسی چیز کا مالک ہی نہیں بلکہ وہ خود بھی اللہ کا مملوک ہے ، اس کا فدیہ دینا ممکن ہی نہیں ۔

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(۵۶)

وہ جِلاتا اور مارتا ہے اور اسی کی طرف پھرو گے

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(۵۷)

اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی (ف۱۳۸) اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے

(ف138)

اس آیت میں قرآنِ کریم کے آنے اور اس کے موعظت و شفا و ہدایت و رحمت ہونے کا بیان ہے کہ یہ کتاب ان فوائدِ عظیمہ کی جامع ہے ۔ موعظت کے معنی ہیں وہ چیز جو انسان کو مرغوب کی طرف بلائے اور خطرے سے بچائے ۔ خلیل نے کہا کہ موعظت نیکی کی نصیحت کرنا ہے جس سے دل میں نرمی پیدا ہو ۔ شفاء سے مراد یہ ہے کہ قرآنِ پاک قلبی امراض کو دور کرتا ہے ۔ دل کے امراض اخلاقِ ذمیمہ ، عقائدِ فاسدہ اور جہالتِ مُہلِکہ ہیں ، قرآنِ پاک ان تمام امراض کو دور کرتا ہے ۔ قرآنِ کریم کی صفت میں ہدایت بھی فرمایا کیونکہ وہ گمراہی سے بچاتا اور راہِ حق دکھاتا ہے اور ایمان والوں کے لئے رحمت اس لئے فرمایا کہ وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ-هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ(۵۸)

تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں (ف۱۳۹) وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے

(ف139)

فرح : کسی پیاری اور محبوب چیز کے پانے سے دل کو جو لذّت حاصل ہوتی ہے اس کو فرح کہتے ہیں ۔ معنی یہ ہیں کہ ایمان والوں کو اللہ کے فضل و رحمت پر خوش ہونا چاہیئے کہ اس نے انھیں مواعظ اور شفاءِ صدور اور ایمان کے ساتھ دل کی راحت و سکون عطا فرمائے ۔ حضرت ابنِ عباس و حسن و قتادہ نے کہا کہ اللہ کے فضل سے اسلام اور اس کی رحمت سے قرآن مراد ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ فضلُ اللہ سے قرآن اور رحمت سے ا حادیث مراد ہیں ۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًاؕ-قُلْ ﰰ للّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ(۵۹)

تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو اللہ نے تمہارے لیے رزق اتارا اس میں تم نے اپنی طرف سے حرام و حلال ٹھہرا لیا (ف۱۴۰) تم فرماؤ کیا اللہ نے اس کی تمہیں اجازت دی یا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو (ف۱۴۱)

(ف140)

جیسے کہ اہلِ جاہلیت نے بحیرہ ، سائبہ وغیرہ کو اپنی طرف سے حرام قرار دے لیا تھا ۔

(ف141)

مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ کسی چیز کو اپنی طرف سے حلال یا حرام کرنا ممنوع اور خدا پر افتراء ہے (اللہ کی پناہ) آج کل بہت لوگ اس میں مبتلاء ہیں ، ممنوعات کو حلال کہتے ہیں اور مباحات کو حرام ۔ بعض سود کو حلال کرنے پر مُصِر ہیں ، بعض تصویروں کو ، بعض کھیل تماشوں کو ، بعض عورتوں کی بے قیدیوں اور بے پردگیوں کو ، بعض بھوک ہڑتال کو جو خودکشی ہے مباح سمجھتے ہیں اور حلال ٹھہراتے ہیں اور بعض لوگ حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے پر مُصِر ہیں جیسے محفلِ میلاد کو ، فاتحہ کو ، گیارہویں کو اور دیگر طریقہ ہائے ایصالِ ثواب کو ، بعض میلادِ شریف و فاتحہ و توشہ کی شیرینی و تبرک کو جو سب حلال و طیب چیزیں ہیں ناجائز و ممنوع بتاتے ہیں ، اسی کو قرآنِ پاک نے خدا پر افترا کرنا بتایا ہے ۔

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠(۶۰)

اور کیا گمان ہے ان کا جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ قیامت میں ان کا کیا حال ہوگا بےشک اللہ لوگوں پر فضل کرتا ہے (ف۱۴۲) مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

(ف142)

کہ رسول بھیجتا ہے ، کتابیں نازِل فرماتا ہے اور حلال و حرام سے باخبر فرماتا ہے ۔