حدیث نمبر156

روایت ہے حضرت فضالہ ابن عبید سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اس نے نماز پڑھی پھر کہا الٰہی مجھے بخش دے اور رحم کر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے نمازی تو نے جلدی کی جب تو نماز پڑھ کر بیٹھے تو اﷲ کی حمد کر جس کے وہ لائق ہے اور مجھ پر درود بھیج پھر دعا کر۲؎ فرماتے ہیں اس کے بعد دوسرے شخص نے نماز پڑھی پھر اﷲ کی حمد اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا تو فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے نمازی مانگ قبول ہوگی ۳؎ ترمذی،ابوداؤد،نسائی نے اس کی مثل روایت کی ۴؎

شرح

۱؎ آپ صحابی،انصاری،اوسی ہیں،کنیت ابو محمد ہے،غزوہ احد و خیبر میں حاضر رہے، بیعت رضوان میں شریک تھے، دمشق میں قیام رہا، امیر معاویہ کی طرف سے وہاں کے قاضی رہے، ۵۳ھ؁ میں وہیں وفات پائی۔

۲؎ کیونکہ رب دینے والا ہے اور اس کے حبیب دلوانے والے اور بانٹنے والے یا یوں کہو کہ رب سے مانگنا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے مانگنا ہے لہذا حمد و صلوۃ کے بعد مانگو۔

۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی دعا بغیر حمد صلوۃ قبول نہیں ہوتی یہ دونوں قبول دعا کی شرطیں ہیں۔

۴؎ ایسے ہی اسے ابن خزیمہ حاکم اور ابن حبان نے نقل کیا ترمذی نے اسے صحیح کہا۔