الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر158

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسے پسند ہو کہ اس کو پوری نآپ ملے ۱؎ تو جب ہم اہل بیت پر درود پڑھے تو کہے الٰہی اُمی نبی حضور محمد پر ۲؎ اور مسلمانوں کی ماؤں یعنی حضور کی بیویوں پر اور ان کی اولاد پر اور اہل بیت پر۳؎ رحمت بھیج جیسے آل ابراہیم پر تو نے رحمت بھیجی ۴؎ تو حمد و بزرگی والا ہے۔(ابوداؤد)

شرح

۱؎ یعنی درود کا پورا ثواب ملےاور دعا پورے طور پر قبول ہو،نیز ہر مراد حاصل ہو۔

۲؎ حضور نبی بھی ہیں اور امی بھی۔نبی کے معنی ہیں غیب کی خبر دینے والا یا امت کی خبر رکھنے والا یا بے کسوں کی خبر لینے والا یا بڑی شان والا۔یہ لفظ نَبَاءٌ سے بنا یا نَبُوَّۃٌ سے۔شریعت میں نبی وہ انسان ہے جس پر وحی کی جائے تبلیغ کا حکم ہو یا نہ ہو رسول وہ ہیں جن پر وحی بھی ہو اور تبلیغ کا حکم بھی۔امّی ام کی طرف منسوب ہے بمعنی ماں یا اصل حضور کے امی ہونے کے یہ معنی ہیں کہ آپ اُمُّ القُریٰ یعنی مکہ معظمہ کے رہنے والے ہیں،مکہ معظمہ ساری زمین کی اصل ہے لہذا اُمُّ القُریٰ کہلاتا ہے یا یہ کہ آپ بغیر کسی سے سیکھے شکم مادر سے عالم عارف باﷲ پیدا ہوئے یا یہ کہ آپ ام الکتاب یعنی لوح محفوظ کے عالم و حافظ ہیں،آپ بڑی شاندار ماں کے فرزند ہیں کہ آمنہ خاتون جیسی ماں نہ کوئی ہوئی نہ ہو رضی اللہ عنہا۔سیدنا آمنہ خاتون کے فضائل ہماری کتاب تفسیر نعیمی جلد اول میں دیکھو۔

۳؎ یہ عطف تفسیری ہے کیونکہ حضور علیہ السلام کی بیویاں اور اولاد ہی تو اہل بیت ہیں،حضور علیہ السلام کی ساری بیویاں عزت و احترام اور نکاح کی حرمت کے لحاظ سے مسلمانوں کی مائیں ہیں اگرچہ ان سے پردہ واجب،ان کی میراث کا استحقاق نہیں،ان کی اولاد سے امت کا نکاح جائز یعنی وہ بہنیں نہیں۔

۴؎ آل ابراہیم میں حضور بھی داخل ہیں لہذا اس کلمے میں بھی حضور پر درود ہوا۔