حدیث نمبر155

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ میں آپ پر بہت درود پڑھتا ہوں تو درود کتنا مقررکروں ۱؎ فرمایا جتنا چاہو، میں نے کہا چہارم فرمایا جتنا چاہو اگر درود بڑھا دو تو تمہارے لیے بہتر ہے میں نے کہا آدھا فرمایا جتنا چاہو اگر درود بڑھا دو تو تمہارے لیے بہتر ہے میں نے کہا دو تہائی تو فرمایا جتنا چاہو لیکن اگر درود بڑھا دو تو تمہارے لیے بہتر ہے۲؎ میں نے کہا میں سارا درود وہی پڑھوں گا۳؎ فرمایا تب تو تمہارے غموں کو کافی ہوگا اور تمہارے گناہ مٹا دے گا۴؎ (ترمذی)

شرح

۱؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں صلوۃ سے مراد دعائیں ہیں۔ منشاءسوال یہ ہے کہ میرے لیے حد مقرر فرمادی جائے کہ اپنے تمام درود وظیفوں میں درود کتنا پڑھوں اور باقی ذکر اذکار دعائیں کتنی۔

۲؎ یعنی زیادتی درود نفل ہے نفل میں معین کرنے کا حق بندے کو ہوتا ہے،راوی کے چہارم یا نصف فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ تمام درود وظیفوں کا تہائی یا آدھا درود پڑھوں باقی میں سارے وظیفے،جواب ملا کر درود جتنا بڑھا اتنا ہی بہتر ہے۔

۳؎ یعنی سارے درود وظیفے دعائیں چھوڑ دوں گا سب کی بجائے درود ہی پڑھوں گا کیونکہ اپنے لیے دعائیں مانگنے سے بہتر یہ ہے کہ ہر وقت آپ کو دعائیں دیا کروں۔

۴؎ یعنی اگر تم نے ایسا کرلیا تو تمہاری دین و دنیا دونوں سنبھل جائیں گی، دنیا مین رنج و غم دفع ہوں گی،آخرت میں گناہوں کی معافی ہوگی۔اسی بنا پر علما فرماتے ہیں کہ جو تمام دعائیں وظیفے چھوڑ کر ہمیشہ کثرت سے درود شریف پڑھا کرے تو اسے بغیر مانگے سب کچھ ملے گا اور دین و دنیا کی مشکلیں خود بخود حل ہوں گی۔ ان احادیث سے پتہ لگا کہ حضور پر درود پڑھنا درحقیقت رب سے اپنے لیے بھیک مانگنا ہے،ہمارے بھکاری ہمارے بچوں کو دعائیں دے کر ہم سے مانگتے ہیں ہم رب کے بھکاری ہیں اس کے حبیب کو دعائیں دے کر اس سے بھیک مانگیں ہمارے درود سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بھلا نہیں ہوتا بلکہ ہمارا اپنا بھلا ہوتا ہے،اس تقریر سے چکڑالویوں کا وہ اعتراض بھی اٹھ گیا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر وقت رحمتوں کی بارش ہورہی ہے تو ان کے لیے دعائے رحمت کرنے سے فائدہ کیا؟ شیخ عبدالحق فرماتے ہیں کہ مجھے عبدالوہاب متقی جب بھی مدینہ سے وداع کرتے تو فرماتے کہ سفر حج میں فرائض کے بعد درود سے بڑھ کر کوئی دعا نہیں اپنے سارے اوقات درود میں گھیرو اور اپنے کو درود کے رنگ میں رنگ لو۔