حدیث نمبر154

روایت ہے حضرت ابوطلحہ سے ۱؎ کہ ایک دن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور خوشی آپ کے چہرے انور میں تھی فرمایا کہ میرے پاس حضرت جبرئیل آئے عرض کیا کہ آپ کا رب فرماتا ہے اے محمد کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہارا کوئی امتی تم پر ایک بار درود نہ بھیجے مگر میں اس پر دس رحمتیں کروں اور آپ کا کوئی امتی آپ پر سلام نہ بھیجے مگر میں اس پر دس سلام بھیجوں ۲؎ (نسائی،دارمی)۳؎

شرح

۱؎ آپ کا نام سہل ابن زید ہے،حضرت انس کے سوتیلے والد ہیں،آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے۔

۲؎ رب کے سلام بھیجنے سے مراد یا تو بذریعہ ملائکہ اسے سلام کہلواتا ہے یا آفتوں اور مصیبتوں سے سلامت رکھنا۔حضور کویہ خوشخبری اس لیے دی گئی کہ آپ کو اپنی امت کی راحت سے بہت خوشی ہوتی ہے جیسے کہ اپنی امت کی تکلیف سے غم ہوتا ہے یہ حدیث اس آیت کی مؤیّد ہے “وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی”۔

۳؎ اس حدیث کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں،حاکم نے مستدرک میں، ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور احمد نے بھی روایت کیا،روایت حاکم کے اخیر میں ہے کہ اس پر میں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔